Monday, March 4, 2024
HomeLatest || تازہ ترینقرآنی عربی سیکھیے

قرآنی عربی سیکھیے

قرآنی عربی سیکھیے

مقدمه و تعارف 

اس کورس میں کیا کچھ ہے؟ یہ تو آپ کو حضرت شیخو پوری صاحب کے مضمون سے پتا چل جائے گا۔ میں یہاں صرف چند باتیں کہنا چاہتا ہوں : یہ کورس از ابتدا تا انتہا اس عاجز کا وضع کردہ نہیں ہے۔ ابتدا تو اس کی سعودی عرب، بھارت اور اسلام آباد سے ہوئی ، اور جب احقر نے اسے اپنے طور پر پاکستانی طلبہ اور عوام کے مزاج کے مطابق ڈھالنا چاہا تو انتہا تک میرا ساتھ ان عزیز طلبہ نے دیا جو شخص فی الافتاء والفقہ 1432ھ میں شریک تھے، بالخصوص ( حروف تہجی کی ترتیب سے ) حامد شیر، خلیق احمد، رشید احمد ، ضیاء اللہ اور عمیر کرامت۔ ان پانچوں ساتھیوں نے اسباق ترتیب دینے اور مثالیں نکالنے سے لے کر کمپوزنگ اور ڈیزائننگ تک بھر پور ساتھ دیا جس کے نتیجے میں مہینے بھر میں یہ پورا کورس ایک نئی اور آبدار و تابدار شکل میں ڈھل گیا۔ محتاط اندازے کے مطابق پہلے دو لیول کا نصف سے زیادہ حصہ اضافات و ترمیمات پر مشتمل ہے جبکہ تیسر الیول خالص اختراعی اور از قسم ایجاد بندہ ہے۔

اس کا اس کورس میں پہلے سے وجود نہ تھا۔ ۲۔ اس کورس کی تیاری کے ساتھ اسے تجرباتی تدریسی مرحلے سے بھی بار بار گزارا گیا۔ ناظرہ ، حفظ ، حفاظ، درجہ اولیٰ کے طلبہ، فضلائے کرام اور اسکول و کالج کے بچوں ، کالج کے نوجوانوں غرض مختلف سطحوں پر اسے آزمایا گیا، ساتھ ہی فضلائے کرام، ائمہ مساجد اور مدرسین حضرات کو اسے پڑھانے کی تربیت بھی دی جاتی رہی۔ ان دونوں طرح کے تجربات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز اور مشوروں کی روشنی میں اس کا سانچہ وڈھانچہ ایسا رکھا گیا کہ یہ سب کے لیے یکساں کارآمد ہو۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ الحمدللہ ثم احمد للہ ایساہی ہوا۔ یہ بیک وقت چار مختلف سطح کے مبتدیوں کے لیے کارآمد ہے۔ تعلیمی نفسیات کی رو سے اس کی دوسری وجہ تو وہ ہے جو اگلے نمبر میں آرہی ہے۔ پہلی وجہ یہ رہی کہ یہ کورس در اصل ”صاف تختی یا مبتدی محض کے لیے تیار کیا گیا ہے، چاہے وہ بالغ ہو یا نا بالغ ، مدرسہ سے تعلق رکھتا ہو یا اسکول سے۔ قرآن شریف کی بارگاہ میں جو بھی خلوص نیت کے ساتھ حاضری دے، اللہ کی شان کہ قرآن کریم اسے محروم تا۔ تجربہ شرط اور آزمائش تصدیق نامہ ہے۔ ان شاء اللہ ! ۔ اس کورس کی تدوین اور تزئین میں ان تمام تعلیمی اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے جو انسانی ذہن کو متوجہ کرتی اور اس میں کوئی چیز نقش کیے جانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ مثلا کسی چیز کو ایک مرتبہ پڑھنے کے دوران چھ مرتبہ پڑھنا (اس کا مطلب شیخوپوری صاحب کے مضمون میں آرہا ہے ) تمام حواس اور پورے وجود کا استعمال ، آسان تعبیرات اور صرف اور صرف قرآنی مثالیں، رنگوں ، شکلوں اور ذہن میں بجلیاں چپکانے والے مختلف اور متنوع ذرائع کا بھر پور استعمال، فن شماریات سے استفادہ، ہر سبق کے شروع میں پچھلے سبق کا اعادہ اور ہر سبق کے آخر میں اس کا مختلف صورتوں میں اجراء، ہر سبق کے بعد خود تشخیصی جائزہ اور ہر لیول کے انتقام پر خود تشخیصی امتحان ، وغیرہ وغیرہ۔ ۴۔ جیسا کہ کورس میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس کے تین لیول ہیں۔ پہلا اور دوسرا قواعد (صرف نحو: گرائمر ) پر مشتمل ہے۔ پہلے میں ابتدائی درجہ کی گرامر ہے دوسرے میں نسبتاً اعلیٰ درجے کے۔ پہلے لیول کے اختتام پر نماز کا سبق اور دس سورتیں تقطیعی ترجمہ اور نظریہ ساز ہدایات کے ساتھ دی گئی ہیں۔

آپ دیکھیں گے کہ پہلے لیول کے اختتام پر تمام بچے اور نمازی از خودان کا ترجمہ و مفہوم سمجھ رہے ہوں گے۔ بس تربیتی اور ذہن سازی کا کام رہ جائے گا جو مدرسین اور ائمہ حضرات بخوبی کر سکتے ہیں۔ تیسرا لیول’الفاظ القرآن یعنی ذخیرہ الفاظ (وکیبلری ) پر مشتمل ہے۔ یہ درحقیقت ایک مستقل کتاب یا قاموس القرآن“ ہے۔ اس میں 95 فیصد کے لگ بھگ قرآنی الفاظ (اسماء، افعال،حروف) بھی ہیں اور قرآنی مثالوں کے ذریعے پہلے دولیول میں پڑھے گئے قواعد کے بھر پور اجرا کا اہتمام بھی ہے۔ اس طرح ان شاء اللہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کورس کافی شافی حد تک جامع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے قارئین کی آرا اور تجاویز کا انتظار رہے گا۔ ۔ اس کورس کو دو سطحوں پر تو بہت اہتمام اور توجہ سے شروع کر دینا چاہیے۔ اگر پہلی سطح پر محنت کی گئی تو آئندہ کوئی یہ نہ کہے گا کہ مدارس عربیہ میں عربی یا ترجمہ قرآن کا ذوق و شوق نہیں پایا جا تا۔ دوسری سطح پر لگ کر کام کیا گیا تو یہ شکوہ آپ نہیں سنیں گے کہ علمائے کرام عوام کی تربیت کے لیے وقت نہیں دیتے۔ یہ کام اسکالروں، اینکر پرسنوں پر چھوڑ رکھا ہے۔ پہلی سطح مکاتب میں حفظ و ناظرہ کی ہے۔ 20 سے 25 بچوں پرمشتمل ناظرہ کی جماعت کے لیے دو گھنٹے قاعدہ و ناظرہ بہت ہیں۔

Qurani Arabi Seekhiay By Mufti Abu Lubaba Shah Mansoor

Read Online

Level 1

 Level 2,3

Download

 Level 1(26MB)    Level 2,3(63MB)


قرآنی الفاظ سیکھیے

اسماء القرآن

الفاظ القرآن ہاروت و ماروت کا نام ( علی ہذا القیاس یا جوج ماجوج کا نام ) اکٹھے دیا گیا ہے، جبکہ حروف تمیمی کی ترتیب میں ان جوڑیوں نے الگ الگ آتا تھا۔ ہر قرآنی لفظ کی تعداد کل استعمالات معنی و مفہوم اور قرآنی مثال کا ترجمہ اس انداز میں دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طرف مبتدیوں کے لیے قرآن شریف کے معنی سکھنے اور دوسری طرف منتہوں کے لیے قاموس والخت کو ایک نئے انداز میں ملاحظہ کرنے کی صورت بیک وقت پیدا ہو جائے۔

ایمان کا بیج

یہ کتاب ایک اعتبار سے قرآنی عربی سیکھیے کورس کا سلسلہ وار حصہ ہے اور ایک اعتبار سے مستقل کتاب ہے۔ اس کی اصل غرض یہ ہے کہ قرآن کا طالب علم قواعد القرآن کے ساتھ الفاظ القرآن سے بھی واقف ہو جائے تو چونکہ قرآن اور انسانی دل و دماغ کے درمیان سے نا کبھی کا حجاب ہٹا دیا جائے تو وہ اپنی تاثیر کے لیے خود راستہ بناتا ہے، اس لیے رب العزت سے قوی امید ہے کہ یہ ہماری زندگیوں کو قرآنی اور اسلامی طرز حیات میں ڈھالنے کی ایک عاجزانہ وخادمانہ کوشش ہوگی ۔ خصوصاً جبکہ اسے حفظ کے مکاتب اور ابتدائی درجات میں عام کر دیا جائے تو بچپن سے دلوں کی فصل میں ایمان کا وہ بیج کاشت کیا جا سکتا ہے جس سے شجرہ طیبہ” جنم لیتا ہے۔ یعنی وہ مبارک اسلامی و قرآنی در رخت جس کے برگ و بار ایسی ایمانی بہار لاسکتے ہیں جو ہمارے غموں کا علاج اور دکھوں کا مداوا بن جائے۔

ایک حرف یا ایک معنی

اس تالیف کے حوالے سے احقر سب سے پہلے اپنے ان تمام محترم اساتذہ کرام کا ممنون احسان ہے جنہوں نے اسے قرآن شریف کا ایک حرف یا کسی ایک حرف کا معنی سکھایا۔ پھر اپنے والدین کا جنہوں نے اسے قرآن کریم کے لیے وقف کر دیا۔ پھر ان تمام حضرات کا شکر گزار ہے جنہوں نے مشورہ اور تجویز دینے سے لے کر عملی تعاون تک اور ابواب کے عنوانات قائم کرنے سے مثالیں تلاش کرنے تک … اس عاجز کا ہاتھ بٹایا ، تعاون کیا یا بہتری کے لیے مشورے دیے۔ خصوصاً ان احباب کا جنہوں نے قرآنی عربی کورس کے پہلے حصے قواعد القرآن پڑھائے جانے کے دوران ” الفاظ القرآن کی تکمیل کا مسلسل مطالبہ کیا اور اس مطالبے کو اس وقت تک ایسی طلب و محبت کے ساتھ جاری رکھا کہ اس عاجز نے اس کی تکمیل میں ہی عافیت سمجھی۔ ان کا یہ دباؤ بھر مطالبہ ایسا احسان ہے جس کا شکر یہ ادا کرنا ضروری ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد اگر صاحبان نظر کتاب میں کوئی کمی کوتاہی پائیں یا بہتری کے لیے تجاویز دینا چاہیں، دعائے خیر کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو میرے اساتذہ اور والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ہم سب کو قرآن کریم کی برکات سے دنیا و آخرت میں مالا مال فرمائے ۔ آمین

شاہ منصور رمضان : ۳۳ ه

آن لائن پڑھیں

ڈاون لوڈ کریں

 

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular