Monday, April 22, 2024

احکام عشر

احکام عشر

پیش لفظ

بعد الحمد والصلوۃ، گزارش آنکہ جس طرح سونا چاندی مال تجارت اور نقدی پر زکوۃ فرض ہے اسی طرح زمین کی پیداوار گندم، چاول، چنا و غیره پر عشر یا نصف عشر فرض ہے لیکن افسوس کہ اس کی ادائیگی میں بڑی غفلت پائی جاتی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عشر کے احکام عام طور پر مسلمانوں کو معلوم نہیں ہیں، اس لیے ضرورت تھی عشر کے احکام سے متعلق ضروری مسائل پر ایک جامع رسالہ شائع کیا جائے جو اس ضرورت کو پورا کرے احقر کے والد صاحب فقیہ امت حضرت اقدس مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تالیف عجیب ” اسلامی حکومت کے مالیاتی نظام “ میں عشر کے احکام کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے

احقر نے اسی تالیف سے عشر کے یہ احکام مرتب کیے ہیں جو پہلے بھی شائع ہو چکے ہیں اب خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی سے اس کی اشاعت کے لیے برادر عزیز مولوی اسامہ رمضان سلمہ نے تقاضا کیا چنانچہ نظر ثانی کے بعد اب حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکا تہم العالیہ کی زیر نگرانی اسے خانقاہ سراجیہ کی طرف سے شائع کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ اس کے نفع کو عام و تمام فرمائیں اور مسلمانوں کو اس فریضہ کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ فقط

احقر عبد القدوس ترمذی غفرلہ جامعه حقانیه ساہیوال سرگودها 29 محرم الحرام 1438ھ

احکام عشر

بسم الله الرحمن الرحيم احکام عشر

لفظ عشر کے اصلی معنی دسواں حصہ ہے مگر حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واجبات شرعیہ کی جو تفصیل بیان فرمائی ہے، اس میں عشری زمینوں کی دو قسم قرار دی ہیں، ایک میں عشر یعنی دسواں حصہ پیداوار کا ادا کرنا فرض ہوتا ہے اور دوسری میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیکن فقہاء کی اصطلاح میں ان دونوں قسموں پر عائد ہونے والی زکوۃ کو عشر ہی کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خلاصه

یہ کہ زمین کے واجبات دو قسم کے ہیں (1) عشر (2) خراج، اور ان دونوں کے احکام میں بھی فرق ہے اور اس میں بھی کہ عشر مسلمانوں پر عائد ہوتا ہے اور خراج ابتداء غیر مسلموں پر ، عشر زمین کی پیداوار کی زکوۃ اور عبادت ہے۔ مگر عملی طور پر عشر اور زکوۃ اموال میں یہ فرق ہے کہ اموال تجارت اور سونا چاندی وغیرہ اگر سال بھر رکھے رہیں ان میں کسی وجہ سے کوئی نفع نہ ہو بلکہ نقصان بھی ہو جائے مگر سال کے آخر میں مقدار نصاب سے کم نہ ہوں تو بھی ان اموال کی زکوۃ ہر سال ادا کرنا فرض ہے ، اور عشر میں پیداوار پر صرف ایک دفعہ عشر لازم ہو گا۔ عشر کی فرضیت عشر کا فرض ہونا قرآن شریف، حدیث شریف، اجماع امت اور قیاس مجتہد کے ساتھ ثابت ہے۔

Ahkam e Ushar By Mufti Syed Abdul Shakoor Tirmizi

Read Online

Download (1MB)

Link 1      Link 2

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular