Saturday, April 13, 2024

طبی مشورے

طبی مشورے

طبی مشورے

راحت نسیم سوہدروی

حکیم حافظ محمد سعید

ہمدرد بنی نوع انسان کی صحت اور اس کی فلاح و بہبود کی جو اعلی سطح پر جد و جہد کر رہا ہے اسے صرف برصغیر ہی نہیں، بلکہ تاریخ عالم میں ممتاز مقام حاصل ہوتا جارہا ہے۔ اس ادارے نے خدمت خلق کے تصور کو وسعت دی ہے۔ اور اس کے مختلف و متنوع پہلوؤں سے لوگوں کو روشناس کرایا ہے۔ اس کا کارنامہ صرف تحقیق طب دوا سازی اور علاج تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کی پہنی تشکیل و تعمیر اور ایک ایسے عہد پر محیط ہے جس میں انسانوں کی صحت و ترقی کا ایک مثبت مزاج و شعور پیدا ہوا اور فلسفہ ہمدرد سے استفادہ کرنے والے فکر و عمل کے مختلف میدانوں میں گامزن ہوئے۔

علاج کے روایتی طریقے اپنے فنی مضمرات اور تقاضوں کے لحاظ سے یقیناً آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور ان سے انحراف ممکن نہیں ہے۔ ان میں طبیب کے لیے مریض کا معائنہ اور دیگر امتحانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، بایں ہمہ محتی مسائل میں تحریری مشوروں سے نیز معمولی نوعیت کی غیر فنی تدابیر اور اس طرح کی سادہ معالجاتی تدابیر کی طرف رہبری کر کے بھی مریضوں کی چارہ سازی کی جاسکتی ہے اور طب کے متعلق یہ غلط فہمی دور کی جاسکتی ہے کہ وہ کیمیا سازی کی طرح ایک پر اسرار اور پیچیدہ فن ہے یا یہ کہ اس بام بلند تک عام انسانوں کی رسائی نہیں ہو سکتی۔

آج سے نصف صدی پہلے میرے خانوادے نے محتی مسائل میں رسائل و جرائد کے ذریعے سے مفید و مختصر قلمی مشوروں کا ایک عظیم الشان سلسلہ شروع کیا، جسے بے انتہا مقبولیت ہوئی اور میں بھی بحمد للہ اپنی گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود اب تک اپنے اسلاف اور خانوادے کے بزرگوں کی اتباع میں مریضوں کو تحریری مشورے بھی دیتا رہتا ہوں۔ بہر نوع ان کی نوعیت مبسوط فنی اور تحقیقی مقالوں سے مختلف ہوتی ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ عوام اور اطباء و فضلاء اور دانشور، سب ہی استفادہ کرتے ہیں۔ خدمت خلق اور خدمت علم وفن کی اس حسن توفیق پر میں رب کریم کا شکر ادا کرتا ہوں اور فخر و مسرت کے جذبے کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری کوششیں عہد جدید کے اطباء اور دانشوروں اور محققوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی ہیں۔ عزیز من جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی صاحب بھی انہی لائق اطباء میں ہیں جنھوں نے مطلب ہمدرد سے منسلک ہو کر میرے طرز علاج اور طبی مشوروں کا بغور مطالعہ کیا اور اپنی اہلیت و صلاحیت اور ذہانت سے کام لے کر اخبار ” جنگ ” (لاہور) میں طبی کالم لکھنا شروع کیا۔ جسے جذبہ اخلاص اور اخذ و استفادے کی کوششوں کی وجہ سے مقبولیت حاصل ہوئی اور قدیم ہو یا جدید ہر حلقے میں انھیں شہرت حاصل ہوئی ۔ مشوروں کا سلسلہ دراز ہوا تو جوابات کا ایک ایسا ذخیرہ مہیا ہو گیا جس کو مزید افادیت کے لیے بجا طور پر کتابی صورت میں شائع کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ میں نے عزیز من حکیم راحت نسیم صاحب کے سارے جوابات کا بغور مطالعہ کیا۔ مجھے مسرت ہے کہ حکیم صاحب نے قدیم و جدید دونوں اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ مفید و مقبول مشورے دیے ہیں اور اُمید ہے کہ ان کی ترتیب و اشاعت سے طب کی عملی کتابوں کے ذخیرے میں ایک قابل قدر اضافہ ہوگا۔ لائق مرتب نے اس خاکسار سے جس تمتع اور استفادے کا ذکر کیا ہے وہ ان کی فراخ حوصلگی اور سعادت کا مظہر ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت کے فطری اصولوں کی افادیت کو وسیع کرنے اور طلب کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور وہ قلمی، ذہنی اور عملی طور پر اس عظیم الشان اور مخلصانہ جد و جہد سے رضائے انہی کی دولت حاصل کر سکیں ، مجھے یقین ہے کہ ان کو کتاب سے استفادہ کرنے والے بھی انھیں اپنی دعاؤں میں یادرکھیں گے۔ میں حکیم صاحب کی اس مخلصانہ کوشش کا قدرداں ہی نہیں، بلکہ معترف ہوں اور فکر ہمدرد کی اثر انگیزی و ہمہ گیری پر اللہ تعالیٰ کا سپاس گزار ہوں، میں اپنے کاروانِ علم و فکر کے تمام رفقاء اور اعزہ کے لیے دعا گو ہوں اور احباب سے اپنے لیے بھی یہی توقع رکھتا ہوں۔ به آن گروه که از ساغر وفا مستند زما سلام رسانید ہر کجا

Read Online 

tibbi-mashwarey_0000

Download

دورہ حدیث نصاب اردو شروحات

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular