Monday, March 4, 2024
HomeLatest || تازہ تریناسلام اور ہویٰ پرستی

اسلام اور ہویٰ پرستی

اسلام اور ہویٰ پرستی

بسم الله الرحمن الرحيم

بندہ عرصہ زائد از بیس سال سے تر نڈوم پاد کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت جمعہ اور نماز کے بعد درس قران مجید کی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ الحمد لله على حسن التوفيق نیز تر ٹڈی شہر کے مشرقی بائی پاس پر واقع دینی درسگاہ جامع عثمانی کی جمہم کی خدمات میں مصروف ومشغول ہے۔ الحمد لله حمدا كثيرة اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه . (آمین)

اس شہر میں چند افراد کراچی کے کین مسعود الد ین خوانی کے پیروکار اور ماننے والے ہیں یہ لوگ مسعود الد ین کی کتب اور رسائل کو عوام میں خوب پھیلاتے ہیں اور یوں اس کے نظریات باطلہ اور عقائد کا سدہ کی تشہیر کرتے ہیں ۔ یہ لوگ پوری امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی تکفیر کرتے ہیں ان پر شرک و کفر کے فتوے صادر کرتے ہیں کسی مسلمان کو سلام نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کے سلام کا جواب دیتے ہیں کسی مسلمان تھا کہ بھائی اور باپ اگر ان کے نظریات پر نہ ہوں تو اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے قرآن مجید کی آیات بینات کی صرت تعریف کرتے ہیں احادیث صحیحہ کا انکار کرتے ہیں یا پھر تا پلات فاسدہ کر ڈالتے ہیں ۔ ائمہ کرام کے حق میں بد گوئی کرتے ہیں حتی کہ امام احمد بن حنبل رحمہ الله کو برملا کافر کہتے ہیں علمائے حق کے بارے میں گندی زبان استعمال کرتے ہیں عوام کو علماء دین سے متنفر کرنے کے لیے ہزاروں چالیں چلتے ہیں اور اپنے ماننے والوں کوسبق پڑھاتے ہیں کہ ان مولویوں کے قریب مت جاؤ ان کی باتیں نہ سو بیالیسے ویسے ہیں ۔ یہ دین فروش

الغرض بے شمار باتیں جو اخلاق سے گری ہوئی ہیں ان سب کی علماء اسلام کے حق میں گردان کرتے ہیں اور دن رات کرتے رہتے ہیں حتی کہ ایسی باتوں سے خاموش ہونا نہیں جانتے جہاں اٹھتے بیٹھتے ہیں وہاں علمائے اسلام کا گلہ شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مولویوں کی بدگوئی اور بد زبانی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور ان کے روح کی غذا ہے جاہل اتنے ہیں کہ سادہ قرآن پر کی آیت کا میں ترجمہ نہیں کر سکتے عربی عبارت کی پہچان تو کجاضرب يضرب کو بھی نہیں جانتے کتب حدیث اور محدثین کے معنوں کا کیے تلفظ نہیں کر سکتے نہ الله تعالی کی توحید کو جانتے ہیں نہ ہی قرآن و حدیث کو اور کسی سے عالم دین سے انہوں نے دینی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ اردو رسائل پر گزارا کرتے ہیں بیشتر لوگ ماسٹر یا ریٹائرڈ ماسٹر ہیں یا پھر ڈاکٹر اور نیم حکیم ہیں باوجود ایسی جہالت کے قوی زنی میں بڑے جری اور ولی واقع ہوئے ہیں۔

اسلامی تعلیمات سے یکسر کورے ہونے کے باوجود بلکہ کوسوں دور ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سلام اور دوسرے مسلمانوں کو غیرمسلم گردانتے ہیں۔

آپ علم کی ذات بابرکات سے متعلق نہایت گستاخانہ باتیں کرتے ہیں حتی کہ آپ سلام کے روضہ اقدس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شرک کی جڑ ہے ۔ ہمارے پس میں ہوتا تو ہم اس کو پٹ وز کردیتے ۔‘ معاذ اللہ! خدا کی پناہ ایسے گستاخانہ کلمات سے پھران نا انصاف لوگوں نے یہ کہہ کر کہ اصل تو عقیدہ ہے وہ ٹھیک ہے تو کامیابی ہے لوگوں کو بداعمالیوں اور برائیوں پر دلیر بنادیا ہے اور خود بھی اس کردار کے مالک ہیں کہ اپنے باپ کی جائیداد کو قر آنی دستور کے مطابق تقسیم نہیں کیا گھروں میں پردہ شرعی کا اہتمام نہیں، چھرے پر سنت کے مطابق داڑھی نہیں ، رشوت دینے ولوانے والا کاروبار بھی چلا رہے ہیں ۔ حافظ صاحبان کو اپنے گھروں میں بلا کر قرآن پڑھتے اور پڑھواتے ہیں۔

الغرض اچھا خاصا انگار رونما ہو چکا ہے اور مجھ سے اس ساتھی نے سوال کیا کہ میں ان کی طرف کتاب وسنت کے ایسے دلائل لے کر جوں جن سے ان کے عقائد فاسدو اور نظریات باطلہ کا قلع قمع ہو جائے اس اللہ کے بندے کا یہ ایسے دکھ ووروداو فکر سے لکھا ہوا تھا کہ بندہ اپنی نااہلی اور عوارضات کا عذر نہ کر سکا بلکہ ان سب کے باوجو دل میں نہ کرایا

کہ ان شاء اللہ اس پر کچھ نہ کچھ ضرور تور کروں گا۔ البتہ اس وقت خیال یہ تھا کہ دو اڑھائی صفحات لکھ کر کراچی روانہ کردوں گا۔ چنانچہ بندہ عاجز نے اس ساتھی کو خط لکھ کر اپنے اس ارادہ کا اظہار کردیا اور ادھر تھوڑا بہت بسم الله پڑھ کر لکھتا بھی شروع کردیا۔ چنانچہ بحمد الله وحسن توفيقه میرے تصور سے بھی زیاد و مواد جمع ہو گیا۔ یہاں تک کہ میری کاپی کے پارٹی صدر بار صفحات عضبط تحریر میں آ گئے۔

الحمد لله ثم الحمد لله بند و عا جز نے اس کتاب میں کفار کے ناپاک عزائم کو بیان کیا کہ وہ ہر حملے اور ہر بہانے سے اور ہر رنگ میں مسلمانوں کو اصل دین اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے عہد اول سے سرتوڑ کوششیں کرتے چلے آرہے ہیں پھر مسلک اہل الثنية والجماعت کی حقانیت کو بیان کیا اور بتایا کہ یہ کوئی مذموم فرقہ نہیں ہے بلکہ ایک بات جماعت ہے جو آپ ان کے عہد مبارک سے چلی آرہی ہے اور قیامت تک حق پر قائم رہے گی اورفرقے تو وہ ہیں جو اس کاروان حق سے کٹ کر اپنی علیحدہ جماعتیں بنارہے ہیں اگر چہ وہ لا کھ پا را اسلام اور قرآن کا نام استعمال کر ہیں ، بہر حال و وفر تے ہیں ۔ پھر ان مذموم اور گمراہ فرقوں کی خوفناک چالوں اور خطر ناک تلبیسات کو بیان کیا گیا۔ 

وہ چودہ مسائل جن میں بریلوی علماء اسلام سے جداگانہ رائے رکھتے ہیں

(1) فرقہ کیا ہے؟

(2) فرقہ پرست کون ہیں کیا یہ لوگ اہل اسلام ا سلامین ہیں؟

(3) آپ عالم کی قبر مبارک سارے مقامات سے افضل ہے

(4) التوسل بالانبياء والصالحين

(5) الاستشفاع عند القبر الشريف

(6) آپ سلام افضل الانبياء والمسلمین ہیں

(7) اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو سیدنا و مولا نا‘‘ کہنا جائز ہے یا نہیں؟

(8) آپ مسلم کو حضرت با حضور“ کہنا جائز ہے؟

(9) آپ اور مقصد کا ئنات ہیں

(10) اللہ تعالی کو خدا تعالی کہتا

(11) مردوں اور عورتوں کی نماز کا فرق

(12) جھاڑ چوک اور تعویذات

(13) ایصال ثواب الى الأموات

(14) علی معلمین ، مدرسین اور آئمہ مساجد کی تنخواہوں کا مسئلہ۔

Islam Kay Naam Per Hawaa Parasti

By Shaykh Noor Muhammad Tonsvi

Read Online


ڈاون لوڈ پی ڈی ایف

THIS BOOK EXPOSES THE VIEWS AND AQAID OF CAPTAIN MASOOD-UD-DEEN USMANI OF KARACHI, PAKISTAN.

By Shaykh Noor Muhammad Tonsvi

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular