Tuesday, April 16, 2024
HomeLatest || تازہ ترینمفردات عزیزمفردات عزیز

مفردات عزیزمفردات عزیز

مفردات عزیز

تر گرم مزاج رکھنے والی جڑی بوٹیاں

آگ ۔ مدار زہوک، او نگن، ابریشم، اسفنج ، الائچی خورد، اثنان لانا بوٹی ، اسگندھ، بانس بکن ، بادیان خطائی، بادیان و جڑھ بانسه، بندق، تخم خربزه، ترنجبین، ثعلب مصری و ثعلب دانہ، جھاڑ (ون)، چنبیلی، مشک (کستوری) خطمی و خبازی، خس، زیرا سفید، ستاور سفید، سپتان، سر پھو کہ ہستمو نیا، سبا که هم سروالی ، سفیده، سرسوں، شکر و چینی فرنج مشک، کنگھی مهم کنو چه املتاس ، کھرنی گل سیوتی گل منڈی بگلو، گنا، گاجر، ہرن کھری گل مدار ( شیر مدار) میٹھی ، شیر تصویر ( قوم) اروی بم بانکور پیدانہ، بید ملک پیش ، بھنڈی، بہو پھلی، پیغا، تالمکھانہ چشم تربوز، م خیارین، تخم خرفه، خبازی یا تخم خبازی ، تخم کاسنی ختم کرو، جو، چاول، چھوئی موئی ( لاجونتی) ، خرفہ قلمی شوره، روب گھاس، دوده، روغن گل، ساگودانہ، سدا سہاگن پنکھا ہولی سنیل شیشم بکالا دانہ کائی کتیر ایکف دریا، کھیرا، گوندنی، موصلی سفید، برگر، کیوڑا، گل عباسی ، موم، صابن، چربی، خار خنک ( گوکھرو)، رب السوس (ست ملٹھی )، ریوند چینی سنبھالو، شکر تیغال، شہد، شیر خشت، مغز فندق، اونٹ کنارہ، باد یونگ بروزه، بتھوا یا ہاتھو، پھر پھوڑی، تودری سرخ وسفید، آنبہ ہلدی، گل داؤدی ، گل ،ٹیسو، بھنگ، از خر کی، با در مجو به ، سبوس گندم، سریش ، تو دری سرخ سفید، مکئی ، موٹھ ، کا سنج ، کہربا، کیا بہ خنداں، سنگھاڑہ، سرطان نہری ، شاہترہ، شکر قندی، طباشیر، چکوترہ، حجر الیہود، بہمن سرخ و سفید بیلگری 

مندرجہ بالا ادویات و جڑی بوٹیوں کے افعال واثرات

جب یہ استعمال کی جاتی ہیں تو غدہ بلغمی (لمفائیٹک گلینڈ ) فوراً متاثر ہو کر باغی رطوبات خارج کرنے لگتا ہے، پھر ان کو ند و جاؤ یہ اپنے اندر جذب کر کے خون میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں ، چونکہ ان ادویہ میں گرمی کی نسبت تری زیادہ ہوتی ہے، اس لئے ان کے بکثرت استعمال سے بلغمی رطوبات بھی خون کے اندر بکثرت جمع ہونے لگتی ہیں ، جس وجہ سے خون کا قوام پتلا ہو جاتا ہے، ساتھ ہی حدت خون میں سکون پیدا ہو جاتا ہے، گویا ان کے استعمال سے جگر وغدد میں ضعف پیدا ہونے لگتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب جگر اپنی ذاتی تحریک کی وجہ سے سکڑ گیا ہو یا اس میں سوزش اور ورم پیدا ہو کر عظم پیدا ہو گیا ہو، ان حالات میں از حد مفید ثابت ہوتی ہیں، علاوہ ازیں ان کے استعمال سے ردعمل کے طور پر خون کے اندر غلظت پیدا ہو کر مادہ منویہ کی افزائش ہونے لگتی ہے۔

تر سرد مزاج کی جڑی بوٹیاں

صندل سفید، پیدان تخم خرفہ، کا ہو، بذرا سنج بشیر جو، الا بیگی کلاں، گاؤزبان گل گاو زبان انگل سرخ، کالا دانہ، کابلی ہا تھو ، اٹ بٹ برگ و گل شیشم، لوٹا بھی ، اسپغول، 

اب ایسی جڑی بوٹیاں وادویات کا اندراج کیا جاتا ہے جن کے استعمال سے جگر میں تصلب پیدا ہونے لگتا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ ان کے استعمال سے جگر میں ٹھنڈک پیدا ہونے لگتی ہے، جس کا دوسرا نام تسکین جگر ہے، ایسی صورت میں صفرا کی پیدائش رک جاتی ہے، موقع پر جو تھوڑا بہت صفرا موجود ہوتا ہے وہ تعمیر بدن میں خرچ ہو جاتا ہے، اور بدن میں طبعی حرارت کی کمی واقع ہو جاتی ہے، خون کا قوام گاڑھا ہونے لگتا ہے اور بدن میں خشکی پیدا ہونے لگتی ہے، اضافی بلغمی رطوبات کا خاتمہ ہونے لگتا ہے، اور جملہ بالغمی امراض سے نجات ملنے لگتی ہے، ان ادویہ کے استعمال سے ستر فیصد خشکی پیدا ہوتی ہے، اس طرح خالص سودا (تیزابیت ) پیدا ہونے لگتا ہے، جس میں حرارت بالکل نہیں ہوتی ، سہی ادو یہ رادع اور صبح کا کام بھی کرتی ہیں ، اور مشترک و شدید اور ملین کا کام بھی کرتی ہیں حتی کہ بعض ادویہ مسہل کا کام بھی سرانجام دیتی ہیں، تفصیل درج ذیل ہے،

خشک سردمزاج کی جڑی بوٹیاں

آڑو، آلو بخارا، آلو رالی ، آلوچه، آم خام، آملہ، آہن یعنی لوہا، آتیں، ارہر، اسپند (حرمل) آقاقیا، انار ترش، افیون، باجرہ، منڈوا، باقلا، باؤ بڑنگ مکمل کیکر بمعہ پھل، تمام پتھر و جریات، بلوط، ہلیلہ سبز و بھیرہ، بیر، بینگن، بھلاوه، بلادر، کوکنار یا خشخاش، درخت پیپل، پھٹکڑی ( زاج سفید ) پوست انار، بیج تخم موتیہ، ترنج، تمباکو، طوطیا ( نیلا تھو تھا، اسپند ( تخم حرمل ) مهم نیل، جامن (مغز جامن کشته جست، بلیله جلا پہ، جوار، باجرہ، چاکسو، چائے، چکوترہ، چونا، خبث الحدید، خراطین، خاکشی، خرما، دم الاخوائن، گیرو، دھتورہ ، رتن جوت ، زوفه، زرشک، زمرد، زہر مہرہ، سرو ( مازو) اسی ، سلاجیت، سماق دانه، سم الفار سنگترہ، سنگ جراحت، سیپ، چاندی، سندھور، شادنج، شکامی، طباشیر، عناب، کاکٹر سنگی، کچھ ، کچنال، کرنجوہ، کرونده، کنول گشته ، گل ارمنی ، گل مختوم، گل ملتانی، لوبیا، لودھ پٹھانی ، لیموں، لاجورد، لفاح ( بیلا ڈونا) مائیں، مرجان ، مردہ سنگ، مسور، مکئی، سندھور ، مہندی، موٹھ، میں پھل، تاریخ، نارجیل دریائی ، نقره ، ہیرا کیس ، یاقوت، حب القلت ، چرونجی ہو میں بھی تخم سرس،

اب ایسی جڑی بوٹیوں کا اندراج کیا جاتا ہے جن کے استعمال سے خشکی کے ساتھ گرمی بھی پیدا ہونے لگتی ہے، مگر یہ جگر میں بھر پور طریقہ سے تصلب پیدا کرتی ہیں، اور ساتھ ہی صفرا کی پیدائش بھی شروع ہو جاتی ہے، گویا ان کے استعمال سے تری اور سردی کی علامات و امراض سے نجات ملنے لگتی ہے، اگر خشکی بدستور قائم رہتی ہے،

خشک گرم مزاج کی حامل جڑی بوٹیاں

ابیل، اذراقی (کچلہ ) حفل (تمہ) اندار ایرسا ، ایلیا ( مصر ) بسفائج، کرم منمل (بیر بوٹی ) بچھو، پیاز، پھوکر مول، پالک، پان، تانبه، تر بدسفید ، جاوتری، جائفل، خطبانہ، جند بیدستر ، چرائتہ، چنا، چینا گوند، خواجاں، دار چکتار، دار چینی، لونگ، ریکور، زرادند طویل، زراوند مدھرج، سلارس ( میوسائله) سمندر پھل، بالچھڑ ( سنبل الطیب ) سوتا مکھی ، شنگرف، ورمنہ ترکی، اشق، شاخ گوزن، بارہ سنگاه، شراب، عبر الشهب ، عاقر قرحا عو صلیب، کنگی سیاه، کنکول، لاکھ، کدو تلخ، کلونجی، گھیکوار، کشمش ( منقہ ) چھوہارا، مرکی، غاریقون، انجدان، بابونه، چلغوز وہ کریله افرفیون بابا کی بتر مس، آسارون بادام تلخ کچھ یا بندوق،

اب ایسی جڑی بوٹیوں کا اندراج کیا جاتا ہے جن کے استعمال سے صفرا پید ہو کر خون کے اندر جمع ہونے لگتا ہے، بدن میں طبعی حرارت پیدا ہونے لگتی ہے۔ خشکی سردی کے امراض دور ہونے لگتے ہیں ، اور جگر کے اندر طبعی تحریک پیدا ہونے لگتی ہے، مگر گاہے بکثرت استعمال سے ان سے جگر سکڑ نے بھی لگ جاتا ہے، چونکہ ان کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے اس لئے گرمی کی شدت سے محکمی مزید بڑھ جاتی ہے، اور بدان میں صالح رطوبات کی کمی واقع ہو جاتی ہے، پھر بکثرت صفرا سے خون کا مزاج بگڑ جاتا ہے، اور جگر اپنا طبعی فعل تغذیہ تصفیہ تقیہ درست طور پر سر انجام نہیں دیتا جس وجہ سے کئی قسم کی صفراوی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں،

گرم خشک مزاج کی حامل جڑی بوٹیاں

تخم قرطم ، اجوائن دیسی، اخروٹ، تیز پات تیلی مکھی ، جگنو، چڑیا، حب السلاطین، (جماللون) پینگ انگوز (ملقیت) حاشا، رائی ( جرجیر ) روغن جمالگوٹہ، زرنباد، زعفران، سورنجاں تلخ، طلاء، (سونا) قسط تلخ، کریلہ، گینڈہ کا زرد پھول، انیسوں، انزاروت، انجدن، شیطرج ہندی، زہرہ سیاہ، کبریت (گندھک) لہسن (تھوم) صعتر فارمی، فسختين،

اب ایسی جڑی بوٹیوں کا اندراج کیا جارہا ہے جن کے استعمال سے صفرا بھی بکثرت پیدا ہوتا ہے، اور بکثرت خارج بھی ہوتا ہے، اس لئے جملہ تیزابیت کے امراض اور ابتدائی تصفر جگر وغدد کے امراض کا قلع قمع کرنے کیلئے ان کا استعمال نہایت مفید و موثر ثابت ہوتا ہے، ان کے استعمال سے جگر اپنی اصل حالت پر آجاتا ہے، بدن کا نظام درست ہونے کے علاوہ جملہ تکالیف سے نجات مل جاتی ہے، لہذا ان کا استعمال تصلب جگر اور تصغر جگر دونوں حالتوں میں بہت مفید و کامیاب ثابت ہوتا ہے،

گرم تر مزاج رکھنے والی جڑی بوٹیوں کے نام

چرچہ ( ٹھکنڈہ ) سر پھوکہ ، کباب چینی ، لوکاٹ، اسطوخودوس، انجیر، بوزیدان، پلنگ، بشیر، برنجاسف، پلاس پاپڑ ، درونج عقربی، خوبانی، رسونت، روزنتی، زریخ، (ہڑتال ورقیہ) سورنجاں شیریں، قسطه شیرین، افتیمون ولائتی ، اکلیل الملک ناخونه، املتاس، بادام شیریں، بکائن، بیدانجیر، پسته تلسی ، توت و شہتوت، جدوار خطائی، روغن بیدانجیر، روغن زیتون، دیسی گھی ، سداب، سنا مکی ،سنڈھ، مرچ سیاہ ،مگھ ، چیت (شیطرح بندی) زیرا سیاہ، سوئے تم کرفس ہم بٹوٹ، کمیکروندہ بندی) سیاہ سوئے وعدہ الکنگنی ، نوشادر ، عنب الثعلب ، گل غافث ، ریوند عصاره، جل نیم ، ریوند خطائی،

Mufridat e Aziz

Read Online

Download

طب یونانی کی پوری لائبریری

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular