Wednesday, April 17, 2024
HomeLatest || تازہ ترینعجائبات نبض

عجائبات نبض

عجائبات نبض

حکیم محمد صدیق شاہین قانون مفرد اعضاء

مقاله خصوصی

یوں تو ملک خداداد پاکستان اور بیرون پاکستان علم و فن طب پر ہزاروں جماعتیں اور ان کے آرگن اپنے اپنے خیالات کی ترجمانی میں مصروف عمل ہیں۔ اور اس مشینی دور میں جہاں زندگی بے حد مصروف ہو گئی ہے۔ محض اپنی ذات کی نمود کے لئے کسی آرگن کا جاری کرنا عبث محض ہے۔ تاہم جس حقیقت نے ہمیں مجبور کیا وہ نہ تو کوئی کاروباری مصلحت ہے نہ ہی ذاتی نمائش یا لیڈری کا شوق بلکہ ہم نے دیکھا کہ ملک و ملت اور فن کے مفاد میں کہیں بھی کوئی کام نہیں ہو رہا۔ ہر ادارہ کسی نہ کسی شخصیت اور اس کے ذاتی مفاد کے دائرہ میں محدود نظر آتا ہے۔ طب قدیم کی ترجمانی کرنے والے بیشتر ادارے بھی علمی و عملی ہر دو میدانوں میں ہتھیار ڈالے سرنگوں نظر آتے ہیں اور یورپی ممالک میں جو کچھ تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے محطن اس کی ترجمانی کرنے پر مجبور ہیں۔ نہ ان کے ایسے افکار و خیالات ہیں نہ جدید مسائل پر تحقیقات نہ اصول و کلیات کی جزئیات سے مطابقت نظر آتی ہے نہ ہی جزئیات کو کلیات سے تطبیق دینے کی

طرف توجہ ہے۔

حکیم انقلاب:

مجدد طب موجد قانون مفرد اعضا حضرت حکیم انقلاب صابر ملتانی علیہ الرحمہ پچھلے چھ سو سال میں پہلی شخصیت نظر آتے ہیں جنہوں نے فنی بنیادوں کو اسلامی حکماء کی تعلیمات کی روشنی میں از سر نو استوار کیا اور اپنے اجتہادی و تحقیقی لٹریچر سے اطباء کرام کو ایک خاص انداز فکر و فن عطا کیا۔ آپ کی تحریک کو اللہ تعالیٰ نے وہ فروغ بخشا کہ ان کی زندگی میں ہی ملک اور بیرون ملک فاضل اور قابل ذہن رسا رکھنے والے اطباء کا ایک مؤثر گروہ ان کے ساتھ آملا۔ صابر صاحب کی تحریک نے نہ صرف اطباء کرام میں بیداری کی لہر دوڑا دی بلکہ مخالفین کو لرزہ ام کردیا اور علم الالا کے عالم میں ا ن ا ا ا و ر و یا مادہ و مشاہد القادر جوان سے تمام مروجہ طریقہ ہائے علاج کی خامیوں اور نقصانات کو واضح طور پر بیان فرما کر دنیا کو حقیقی فن کی طرف راغب فرمایا۔

حکیم انقلاب نے فطرت عقل اور تجربہ مشاہدہ تینوں صورتوں سے باطل نظریات پر ایسے زبر دست حملے کئے کہ نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ تادم تحریر ان کے مقابلہ پر آنے کی سی اگر جرات نہ ہوئی بلکہ ان کے نظریات کو قانون کی حیثیت سے اطباء کرام کے ایک کثیر گروہ کے قبول کر لیا۔ آپ نے علم و فن طب کو کیفیات مزاج اخلاط و اعضاء کی بنیاد پر استوار کیا اور اعضاء کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے اسباب و علامات امراض اور علاج کی صورت میں افعال عضاء کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔ آپ نے طبی علوم و فنون کو جانچنے اور پرکھنے کے لئے جو اصول دیا وہ قوانین فطرت میں سے ہی ایک قانون ہے جو قانون مرکزیت یا قانون دائرہ کہلاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہرشے کے دو ہی حصے ہوتے ہیں ایک اس کا ظاہری وجود دوسرے اندرونی و باطنی جو ہر وجود جس کے گرد تمام ظاہری اعضاء گھومتے اور اپنے اپنے افعال انجام دیتے ہیں۔ اگر اس ظاہری حصہ کے کسی ایک جزو کو اس کے مرکزہ یا باطنی وجود سے الگ کر دیا جائے تو اس کا زندہ و قائم رہنا محال ہوا کرتا ہے۔ سو بدن انسان کی طرح اگر نظام فلکیات کو دیکھیں تو اس میں بھی ہمیں ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ اربوں کھربوں ستارے سیارے قمر، زہرہ عطارد، مریخ، زحل، مشتری کے علاوہ کہکشاں وغیرہ نظر آتے ہیں جو اپنے اپنے دائرہ میں حرکت و گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا الگ الگ دائرہ کار ہے۔ جدا جدا اعمال و افعال و اثرات ہیں لیکن ان سب کی حفظ و بقاء و ارتقاء کا مدار ان کے مرکزی وجود شمسی نظام سے وابستہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ایک کا بھی شمسی نظام سے رابطہ منقطع ہو جائے تو نہ صرف وہ اپنے وجود کو باقی و قائم نہیں رکھ سکتا بلکہ نظام عالم میں زبر دست انتشار و افتراق، ہلاکت و فتا ٹوٹ پھوٹ اور بگاڑ واقع ہو جائے۔ گویا ان سب کا مرکزی وجود نظام شمسی سے وابستہ ہے۔

Aja e Baat e Nabaz Hakeem Muhammad Siddique

آن لائن پڑھیں

عجائبات نبض حکیم محمد صدیق شاہین قانون مفرد اعضاء Aja e Baat e Nabaz Hakeem Muhammad Siddique
عجائبات نبض حکیم محمد صدیق شاہین قانون مفرد اعضاء Aja e Baat e Nabaz Hakeem Muhammad Siddique

ڈاون لوڈ کریں

قانون مفرد اعضاء اور طب یونانی کی کتب

Previous article
Next article
RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular