سوچ کا ہمالیہ قاسم علی شاہ

0
1288
سوچ کا ہمالیہ
سوچ کا ہمالیہ

This Content Is Only For Subscribers یہ مواد صرف سبسکرائبر کے لیے ہے

Please subscribe to unlock this content. Enter your email to get access. اس مواد کو دیکھنے کے لیے اپنا ای میل لکھ کر سبسکرائب کریں۔
Your email address is 100% safe from spam!

سوچ کا ہمالیہ

قاسم علی شاہ

عرض مصنف

سوچ کا ہمالیہ

ہمالیہ: آپ کے ذہن میں یہ لفظ سنتے ہی کیا آتا ہے؟

دنیا کا سب سے طویل سلسلہ کوہ جس میں دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑ آتے ہیں۔ یہ سلسلہ پانچ ممالک سے گزرتا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ معاشرے میں ہمالیہ کی ای خاصیت کی وجہ سے مختلف غیر معمولی بڑی چیزوں کو ہمالیہ سے نسبت بھی دی جاتی ہے۔ میری کتاب ”سوچ کا ہمالیہ گویا اس جانب اشارہ ہے کہ آج میں جو کچھ ہوں ، وہ میرے رب کے فضل کے بعد ظاہری اعتبار سے میری غیر معمولی بڑی سوچی کے باعث ہے۔ انسان کی کامیابی اور ناکامی، دونوں کا آغاز سوچ” سے ہوتا ہے۔ میں اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو میری زندگی جو آج دنیا کے سامنے ہے، ہمیشہ سے ایسی نہ تھی۔ لیکن، جب میں نے اپنی سوچ تبدیل کی تو سب کچھ بہت تیزی سے بدلنا شروع ہو گیا۔

سوچ کی جسامت

حقیقت یہ ہے کہ صرف میں ہی نہیں، میں نے دنیا کے جتنے بھی کامیاب لوگوں ( نا کام لوگ بھی ) کا مشاہدہ و مطالعہ کیا ہے، سب میں جو واحد عامل سب سے متحرک ہے، وہ سوچ ہے۔ آدمی کی سوچ کی جسامت یعنی سائز (Size ) اس کی زندگی کی کیفیت کی تشکیل کرتا ہے۔ ہر کامیابی کے پیچھے بڑی سوچی جبکہ ہر نا کامی کے پیچھے آدمی کی چھوٹی سوچ کارفرما ہے۔ ہم سب اپنی سوچ کی پیداوار ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی فرد کے اکاؤنٹ کا سائزہ کسی فرد کی خوشی کا سائز بھی فردگی طمانیت کا سائز براہ راست منحصر ہوتا ہے، اس کی سوچ کے سائز پر۔ جس فرد کی سوچ کا سائز ہمالیہ کے برابر ہو تو آپ کیا کہیں گے؟ بڑی سوچ میں جادو ہے۔ کسی فرد کی غیر معمولی زندگی کا تعلق اس کی سوچ سے ہے۔ یہ سوچ جتنی بڑی ہوگی ، یہ جادو اتنا ہی سر چڑھ کر بولے گا۔

ایک اہم سوال

یہاں یہ سوال یقینا کیا جا سکتا ہے کہ اگر واقعی سوچ اتنی ہی قوی تاثیر رکھتی ہے اور اس پر خرچ بھی کچھ نہیں آتا تو لوگ بڑا کیوں نہیں سوچتے ؟“

ماہرین کامیابی اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر چہ ہم سب اپنی سوچ کی پیداوار ہیں، مگر ہم میں سے اکثر لوگ ( جو پوری دنیا میں پچانوے چھیانوے فیصد سے کم نہیں) بہت چھوٹا سوچتے ہیں۔ آپ اپنے ارد گر دلوگوں کو دیکھئے تو وہ آپ کو پیچھے بنے اور محفوظ زندگی گزارنے پر اکساتے ہیں۔ وہ آپ کو حقیقت پسند بننے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہم اپنے ماحول میں نظر دوڑائیں تو سب دو نمبری سے لے کر دس نمبری سوچ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمیں اپنے پیر اپنی چادر دیکھ کر پھیلانے چاہئیں، لیکن ہمیں اپنی سوچ بھی اپنی چادر تک محدود رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

آپ محدود نہیں

ہم جب پیدا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں لا محدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرماتا ہے۔ لیکن، ہمارے ماں باپ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تم میں فلاں خامی ہے، فلاں خامی ہے، تم یہ نہیں کر سکتے ہم وہ نہیں کر سکتے ۔ کیا میرا رب ظالم ہے جو اس نے مجھے ان خامیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے؟ (نعوذ باللہ ) نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے وہ تمام وسائل و ذخائر مہیا کر دیے ہیں

Soch Ka Himalaya

By Qasim Ali Shah

آن لائن پڑھیں

ڈاون لوڈ کریں

10th Class Computer Science Free Test

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.