Monday, May 20, 2024

تصفیۃ العقائد

تصفیۃ العقائد

اس کتاب تصفیۃ العقائد میں الامام محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے سرسید کے اُن اصول و عقائد کا تجزیہ کیا ہے جو ایک مکتوب کی شکل میں سرسید کی جانب سے ارسال کیے گئے تھے اور یہ دکھایا ہے کہ یہ اصول و عقائد کس طرح جمہور اہل حق کے عقائد کے خلاف ہیں اور کس طرح ان اصول و افکار میں اہل حق سے انحراف پایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں قانون فطرت، احکام اسلام سے فطرت کی مطابقت ، مظاہر فطرت کی قرآن کے ساتھ تطبیق کا جائزہ عقل ونقل میں تعارض کامل، نیز قضا و قدر و غیرہ موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔

تقریظ

حضرت مولانا محمد عاقل صاحب دامت برکانه استاذ حدیث و ناظم جامعہ مظاہر علوم سہارن پور 

باسمه سبحانه و تعالی نحمده ونصلى على رسوله الكريم . اما بعد:

فکر دیوبند کے بنیادی اساطین واراکین میں امام ربانی حضرت گنگوہی اور حجہ الاسلام حضرت نانوتوی نوراللہ مرقدہما کی شخصیت اور حیثیت مسلمات میں سے ہے۔ حضرت گنگوہی کے یہاں فقہ وفتاوی اور حدیث و تصوف میں خاص امتیاز پایا جاتا ہے، جب کہ حضرت نانوتوی کا خاص میدان : علم کلام اور احقاق حق و ابطال باطل کا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اُس زمانہ میں عیسائیوں ، آریوں ، تجدد پسندوں اور وقت کے دیگر فکری فتنوں کی سرکوبی کے لیے پوری جماعت کی طرف سے ترجمانی اور قیادت کے فرائض آپ ہی نے انجام دیے۔ اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی آپ کا مشہور رسالہ ” تصفیۃ العقائد بھی ہے، جو آپ نے اُس وقت جدیدیت کے سب سے بڑے علم بردار اور داعی سر سید احمد خاں کے ایک طویل علمی و فکری مکتوب کے جواب میں تحریر و منضبط فرمایا تھا۔

چوں کہ حضرت کی اکثر کتابیں اور بیشتر افادات انہی اختلافی موضوعات اور فکری مسائل سے متعلق ہیں، اس لیے قدر تا ان پر علمی و کلامی رنگ بھی غالب ہے، بالخصوص فلسفہ قدیم اور افکار جدید کے حوالہ سے خاص اصول و مسائل زیر بحث آتے ہیں۔ پھر گفتگو میں اصطلاحات اور استعارات کا استعمال بھی بکثرت پایا جاتا ہے، نیز کہیں کہیں مخاطب کے علم و فہم پر اعتماد کرتے ہوئے ، یا موقع کلام و پس منظر کی رعایت سے اجمال و ابہام بھی موجود ہے اور بہت سے مقامات پر دیگر فنون وقواعد کا حوالہ بھی آتا رہتا ہے؛ ان مجموعی وجوہ کی بنا پر عوام تو عوام ، اکثر اہل علم کے لیے بھی آپ کی کتابوں سے استفادہ ہر دور میں مشکل تسلیم کیا گیا ہے، جس کا اعتراف حضرت تھانوی جیسے کیا ر اہل علم نے بھی فرمایا ہے۔ بایں ہمہ ، حضرت کی کتابوں میں جو عقلی اصول، فکری جواہر پارے اور اہل حق کے مضبوط دلائل محفوظ ہو گئے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کو جہاں تک ہو سکے سہل الحصول اور قابل استفادہ بنا کر علماء و طلباء کے سامنے پیش کیا جائے ۔ چنانچہ حضرت کی وفات کے بعد ہی سے حضرت شیخ الہند ، حضرت مولانا سید فخر الحسن گنگوہی اور حضرت مولانا احمد حسن جیسے آپ کے کبار تلامذہ اور علامہ شبیر احمد عثمانی اور قاری طیب صاحب جیسے اخلاف مشین کی طرف سے یہ کوشش جاری رہی ] ہے۔

اسی سلسلہ کے امتداد کے طور پر مظاہر علوم سہارن پور کے فاضل اور علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کے سند یافتہ مولانا حکیم فخر الاسلام صاحب سلمہ کی یہ کاوش بھی ہے، جو انہوں نے قدیم وجدید علوم کی روشنی اور اہل حق و اہل باطل کے اصولوں کے موازنہ کے تناظر میں تصفیۃ العقائد کی تحقیق و تشریح کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ماشاء اللہ موصوف سلمہ کافی علمی اور فکری ذوق رکھتے ہیں، بندہ سے بھی محبت اور انس رکھتے ہیں اور اپنے اکابر کے سلسلہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے فکر میں سلامتی اور پختگی بھی ہے ؛ اس لیے امید ہے کہ ان شاء اللہ ان کی یہ کوشش اور کاوش صحیح اصولوں اور درست منہج کے مطابق ہوگی اور علماء وطلبہ کے لیے مفید اور نافع بھی۔ اللہ تعالی موصوف کی اس خدمت کو بھی اور دیگر علمی و دینی خدمات کو بھی شرف قبولیت سے نوازیں اور نفع کو عام و نام فرمائیں، آمین۔ وصلی الله و بارک وسلم

علی سیدنا و سندنا وشفيعنا و مولانا محمد وعلى آله واصحابه اجمعين، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.

محمد عاقل ۱۷ شوال ۱۴۴۳ھ

بقلم: محمد معاویہ، جامعہ مظاہر علوم سہارن پور

Tasfiyatul Aqaid

By Maulana Qasim Nanotvi

Read Online

Tasfiyatul Aqaid By Maulana Qasim Nanotvi تصفیۃ العقائد

Download (2MB)

Link 1       Link 2

عملیات کی عصری صورتیں شرعی تناظر میں؟

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular