شوریٰ ہیئت حاکمہ نہیں

شوریٰ ہیئت حاکمہ نہیں

اسلامی نظامِ زندگی اور تنظیمی ڈھانچے میں مشورے (شوریٰ) کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن ایک اہم سوال جو اکثر ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کوئی بھی ادارہ یا امیر شوریٰ کی کثرتِ رائے کا پابند ہے؟ زیرِ نظر کتاب “شوریٰ ہیئت حاکمہ نہیں” اسی حساس اور اہم موضوع پر علمائے دیوبند کی واضح، دو ٹوک اور مستند تحریرات کا ایک شاندار مجموعہ ہے۔ یہ کتاب جناب مولانا صفی اللہ خان صاحب (مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد) کی خصوصی سرپرستی اور ارشاد پر مرتب کی گئی ہے۔

📋 کتابی شناسنامہ (Quick Info)

خصوصیاتتفصیلات
نام کتابشوریٰ ہیئت حاکمہ نہیں
سرپرستی و ارشادجناب مولانا صفی اللہ خان صاحب (مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد)
ناشرشعبہ نشر و اشاعت، مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد
کل صفحات224

📖 کتاب کا مرکزی موضوع اور اہمیت

موجودہ دور میں مغربی جمہوریت کے زیرِ اثر یہ تصور عام ہو گیا ہے کہ ہر فیصلہ اکثریت (کثرتِ رائے) کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور شوریٰ ہی اصل حاکم ہے۔ اس کتاب میں اسی غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس میں اکابرینِ دیوبند کے فتاویٰ اور تحریروں کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلامی شورائیت میں فیصلہ کثرتِ رائے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ دلائل اور امیر کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ امیر کا کام مشورہ لینا ضرور ہے، لیکن حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار اسی کے پاس ہوتا ہے۔

📌 کتاب کے کلیدی مباحث

  • شوریٰ کی شرعی حیثیت: قرآن و سنت کی روشنی میں مشورہ کرنے کی اہمیت اور اس کے حدود و قیود۔

  • امیر اور شوریٰ کا تعلق: کیا شوریٰ امیر پر حاکم ہے یا محض ایک مشاورتی ادارہ؟ اس حوالے سے فقہی اصولوں کی وضاحت۔

  • کثرتِ رائے کا تصور: اسلامی نظام میں اکثریت کی بجائے حق اور دلیل کی اہمیت پر تفصیلی اور مدلل گفتگو۔

  • اکابرین کی تحریرات: علمائے دیوبند کے ان تمام فتاویٰ اور ارشادات کا مجموعہ جو اس مسئلے کو پوری طرح واضح کرتے ہیں۔

⭐ اس کتاب کی نمایاں خصوصیات

یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں بات کو محض دعوے کی حد تک نہیں رکھا گیا، بلکہ ٹھوس شرعی حوالوں اور برصغیر کے جید علماء کی نصوص سے ثابت کیا گیا ہے۔ زبان نہایت سنجیدہ، علمی اور عام فہم ہے، جس سے قاری کو اسلامی طرزِ امارت اور تنظیمی اصولوں کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

🎯 یہ کتاب کن کے لیے مفید ہے؟

  • دینی مدارس اور اداروں کے مہتممین: جو اپنے اداروں کا نظام شرعی اصولوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔

  • شوریٰ کے اراکین: تاکہ وہ اپنے فرائض اور حدودِ کار کو شریعت کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

  • عام اہل علم اور محققین: جو اسلامی نظامِ سیاست اور شورائیت کے موضوع پر تحقیق کرنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

✅ حاصلِ مطالعہ (Conclusion)

یہ کتاب اس بات کی بہترین یاد دہانی ہے کہ اسلام کا نظامِ شوریٰ مغربی جمہوریت کی کثرتِ رائے سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ پختہ ہے۔ اگر آپ اسلامی اداروں کے تنظیمی اصولوں اور امیر کے اختیارات کو اکابرین کی نظر سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو یہ دو سو چوبیس صفحات پر مشتمل کتاب آپ کی بہترین علمی رہنمائی کرے گی۔

 

Read Online

Download (7MB)

Link 1      Link 2

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top