آداب افتاء و استفتاء
(آدابِ افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت)
افادات: حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ
انتخاب و ترتیب: مولانا محمد زید مظاہری ندوی
استاذِ حدیث، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
اشاعت: ۱۴۳۴ھ
صفحات: ۴۴۹
ناشر: ادارہ افاداتِ اشرفیہ، لکھنؤ
اجمالی تعارف
یہ کتاب فقہِ اسلامی کے نہایت نازک اور ذمہ دارانہ باب یعنی افتاء اور استفتاء کے آداب پر ایک جامع، متوازن اور اصولی تصنیف ہے۔ اس میں فتویٰ دینے اور فتویٰ پوچھنے کے شرعی، اخلاقی اور علمی ضوابط کو نہایت وضاحت، اعتدال اور فقہی بصیرت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب دراصل حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے قیمتی افادات کا منتخب اور مرتب مجموعہ ہے، جسے مولانا محمد زید مظاہری ندوی نے علمی ترتیب اور فقہی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔
یہ تصنیف اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ فتویٰ محض ایک رائے نہیں بلکہ شریعت کی طرف نسبت رکھنے والا ایک امانت دارانہ منصب ہے، جس میں ذرا سی کوتاہی دین کے فہم اور امت کے عمل دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
افتاء کی اہمیت اور نزاکت
کتاب کے ابتدائی ابواب میں افتاء کی شرعی حیثیت، اس کی نزاکت اور ذمہ داری کو واضح کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مفتی دراصل شریعت کا ترجمان ہوتا ہے، اس لیے اس کے قول میں علم کے ساتھ تقویٰ، خوفِ خدا اور احتیاط کا ہونا لازمی ہے۔ بلا تحقیق یا محض رواج و تعصب کی بنیاد پر دیا گیا فتویٰ دین میں فتنہ پیدا کر سکتا ہے۔
مفتی کے آداب اور شرائط
کتاب میں مفتی کے لیے جن اوصاف کو ضروری قرار دیا گیا ہے، ان میں علمی پختگی، قرآن و سنت اور فقہ میں رسوخ، اصولِ فقہ سے واقفیت اور عصری مسائل کا فہم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ، دیانت، عدل، اور دنیاوی مفادات سے بے نیازی کو افتاء کی روح قرار دیا گیا ہے۔ مولانا تھانوی رحمہ اللہ کے افادات میں بار بار اس نکتے پر زور ملتا ہے کہ فتویٰ دیتے وقت آسانی اور احتیاط کے درمیان شرعی توازن ملحوظ رکھا جائے۔
فتویٰ دینے کا طریقۂ کار
اس کتاب میں فتویٰ لکھنے کے اسلوب، سوال کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے، جزئیات اور قیود کی تحقیق، اور سائل کی حالت و پس منظر کو سامنے رکھنے جیسے اہم اصول بھی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ مختصر مگر جامع جواب، غیر ضروری سختی سے اجتناب، اور شبہ کی صورت میں توقف اختیار کرنا بھی افتاء کے آداب میں شامل ہے۔
استفتاء کے آداب
کتاب کا ایک اہم حصہ سائل یعنی فتویٰ پوچھنے والے کے آداب سے متعلق ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سوال واضح، مکمل اور سچائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ نیت کا مقصد محض عمل ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق جواب حاصل کرنا۔ مفتی کے علم اور مقام کا احترام، اور پیچیدہ معاملات میں اہلِ علم سے مزید رجوع کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ضمیمہ کے طور پر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے مرتب کردہ آداب المستفتی اس باب کو مزید مضبوط بنا دیتے ہیں۔
علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت
کتاب میں علمی خط و کتابت، سوال و جواب، اور فقہی مکالمے کے آداب پر بھی قیمتی رہنمائی ملتی ہے، جو خاص طور پر مدارس، دارالافتاء اور علمی اداروں سے وابستہ افراد کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ حصہ علمی اختلاف کے باوقار اور مہذب انداز کو اجاگر کرتا ہے۔
مجموعی اہمیت
آدابِ افتاء و استفتاء ایک ایسی کتاب ہے جو صرف مفتیانِ کرام ہی نہیں بلکہ دینی طلبہ، محققین اور سنجیدہ اہلِ علم کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہ تصنیف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فتویٰ دینا اور پوچھنا دونوں عبادت ہیں، بشرطیکہ ان کے آداب اور حدود کو ملحوظ رکھا جائے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب مفتی تقی عثمانی کی معروف تصنیف اصول الافتاء و آدابہ کے ہم پلہ بلکہ اس کی فکری اساس سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد اکابرِ امت کے مجرب افادات پر قائم ہے۔
یہ کتاب آج کے فتنہ انگیز اور سادہ لوحی پر مبنی فتووں کے دور میں ایک مضبوط علمی اور اصلاحی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔
Adaab e Ifta o Istifta
By Mufti Muhammad Zaid Mazahiri Nadvi
Read Online
Download (4MB)
Discover more from Islamic Books PDF
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
