• آگ سے بچاؤ

        آگ لگنے کے بنیادی اسباب اور ان سے بچاؤکا طریقہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے:

        • بجلی کا شارٹ سرکٹ
        • بجلی کے تاروں کے کنکشن ڈھیلے نہ ہونے دیں۔
        • ایک پوائنٹ میں ایک وقت میں ایک سے زائد بجلی کے آلات استعمال نہ کریں ورنہ تاریں گرم ہو کر آگ پکڑ سکتی ہیں۔
        • بجلی کی استری سے بھی آگ لگ سکتی ہے ، اس کے استعمال میں احتیاط برتیں ۔ گرم استری چھوڑ کر نہ جائیں جو کپڑے پر گر کر آگ کا باعث بن سکتی ہے۔
        • رہائشی مقامات اور خیمے کے اندر اور باہر معقول صفائی رکھیں ۔ کوڑا کرکٹ کوڑا دان میں ڈالیں۔بکھرے ہوئے کاغذات اور کپڑے آ گ کو دعوت دیتے  ہیں۔
        • خیمے کے اندر کھانا نہ  پکائیں۔
        • سوتے وقت بستر میں لیٹ کر سگریٹ نہ پیئں۔
        • جلتے ہوئے سگریٹ کو بے احتیاطی سے نہ پھینکیں بلکہ اس کو بجھا کر راکھ دان میں ڈالیں۔
        • ماچس کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔
        • گیس کے سلنڈر کو ہمیشہ سیدھا رکھیں۔
        • گیس سلنڈر اور اس کی ٹیوب کو حرارت سے بچا کر رکھیں۔
        • گیس سلنڈر جب استعمال میں نہ ہو ٗ والو ٗ کو مضبوطی سے بند رکھیں۔
        • گیس سلنڈر کو چولہے سے کم از کم چھ میٹر کے فاصلے پر کھیں۔
        • اگر سلنڈر سے گیس نکل رہی ہے تو صابن کے پانی سے چیک کریں آ گ کے  ذریعے کبھی  بھی چیک نہ کریں۔
        • گیس کا چولہا یا ہیٹر استعمال کرتے وقت گیس کے خارج ہونے پر دھیان رکھیں اس سے گیس جمع ہو کر دھماکہ ہونے کا خطرہ ہے ۔ اگر کمرے میں گیس کی بو محسوس کریں تو پردوں اور کھڑکیوں کو کھول دیں اور ارد گرد کے لوگوں کو ہوشیار کریں۔
        • آگ لگنے کی صورت میں مدد کے لئے پکار یں۔
        • پانی یا ریت آگ کے منبع پر ڈالیں۔
        • آگ کو قریب سے قریب تر ہو کر بجھائیں۔
        • آگ کے قرب و جوار سے جلنے والی اشیاء ہٹائیں۔
        • بجلی کی آگ ہوتو سوئچ بند کر دیں۔
        • تیل کی آگ کو ریت سے بجھائیں ۔ پانی سے بجھانے کی کوشش نہ کریں۔
        • اگر کہیں آگ بے قابو ہو تو فورا پہلے سے دیئے گئے ہنگامی نمبرپر ٹیلی فون کریں۔
        • اگر دوسرے کے کپڑوں میں آگ لگ جائے تو کمبل یا کوٹ وغیرہ میں لپیٹ کر زبر دستی گرا دیں اور تھپکیوں سے آگ بجھائیں اس پر پانی ہر گز نہ ڈالیں۔
        • اگر اپنے کپڑوں کو آگ لگ جائے تو فورا ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیں اور زمین پر لوٹنا شروع کر دیں اور مدد کے لئے پکاریں۔
        • دھویں والے کمرے سے بے ہوش آدمی کو نکالنے کے لیےفرش پر رینگ کر کمرے میں داخل ہوں اور اس کے دونوں ہاتھ باندھ کر اپنی گردن میں ڈالیں اور گھیسٹ کر باہر لے جائیں۔

        • صدمہ کا علاج

          • مریض کو لٹا دیں۔
          • مریض کے جسم کو گرم رکھیں ۔
          • سر جسم کی سطح سے نیچے رکھیں۔ اگر سر میں چوٹ ہوتو اسے اونچا رکھیں اور خون رس رہا ہو تو اسے روکنے کی کوشش کریں۔
          • بے ہوش و نیم بے ہوشی اور قے کی صورت میں زخمی کو کچھ مت پلائیں۔

          ہوش مندی میں گرم اور خوب میٹھی چائے پلائیں۔

          دم گھٹنے کا علاج

          • مریض کو اس چیز سے ہٹائیں جس میں دم گھٹ رہا ہو ۔ اگر مریض کسی بجلی کی تار کو چھو رہا ہو تو اسے ہاتھ مت لگائیں۔
          • ایسی صورت  میں بجلی کی کرنٹ کاٹ دیں یا بجلی کے تار کو الگ کرنے کے لئے سوکھی لکڑی یا ربر کا پائپ استعمال کریں۔
          • دھویں میں گھرے ہوئے مریض کو جلد باہر نکال لیں۔
          • مصنوعی سانس کے طریقے سے مریض کا سانس بحال کریں۔

            سانس جاری کر نے مصنوعی طریقے

             (الف) منہ سے منہ ملا کر:

            • منہ سے منہ ملا کر زخمی کے سر کو پیچھے سرکادیں اس کی ٹھوڑی اوپر رکھیں۔
            • مریض کے جبڑے کو اس طرح دبائیں کہ اس کا منہ کھل جائے۔
            • اپنا منہ پورا کھولیں اور مریض کے منہ پر مضبوطی سے رکھ دیں اس طرح کے نتھوکو چٹکی سے بند کردیں۔
            • منہ کے ذریعے زور سے پھونک ماریں۔
            • اپنے منہ کو تھوڑی دیر کے لئے ہٹائیں۔
            • سانس پھوکنے کا یہ عمل مسلسل جاری رکھیں تاکہ وقیتکہ مریض کا سانس جاری ہو جائے۔

            (ب)شیفر کا طریقہ

            • مریض کو پیٹ کے بل لٹا دیں اور اس کی کمر کے ساتھ دوزانو ہو کر بیٹھ جائیں۔
            • دونوں ہاتھوں سے مریض کے کمر کے نیچے حصے پر تین سیکنڈ تک دبائو ڈالیں اور دو سیکنڈ کے لئے دبائو چھوڑ دیں۔
            • یہ عمل جاری رکھیں تاوقیتکہ مریض کا سانس بحال ہو جائے۔
            • بہتے ہوئے خون کو روکنا

              • زخم کو فورا ایک صاف کپڑے سے ڈھانپ دیں۔ اگر کپڑا نہ ملے تو اپنے ننگے ہاتھ سے زخم کو ڈھانپ دیں۔
              • زخم پر تھوڑا سا دباؤ  ڈالیں۔
              • زخم پر دباؤ  ڈالتے وقت زخمی  کےہاتھ پاوں اوپر  اٹھائیں۔
              • اگر خون شریان سے بہہ رہا ہو تو انگلی کا  دباؤ جسم کے مخصوص مقام یعنی پریشر پوائنٹ پر ڈالیں۔ اس طرح خون کا بہاؤ کم ہوجائے گا ۔
              • اگر زخم گردن یا سر کے قریب ہو تو یہ طریقہ استعمال نہ کریں بلکہ زخم پر سیدھا دباؤ ڈالیں۔

                اگر ہڈی ٹوٹ جائے

                • اگر ہڈی ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو مریض کو حرکت نہ کرنے دیں۔
                • جہاں زخمی آدمی بیٹھا یا لیٹا ہو وہیں کھپاچ(پلستر کی پٹی) لگا دیں۔
                • کھپاچ لگانے کے لئے دو آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے (ایک آدمی زخمی کو ساکن رکھے اور دوسرا کھپاچ لگائے)۔
                • زخمی کے ہاتھ پاؤں کو نرمی اور مضبوطی سے پکڑیں ۔ ایک ہاتھ زخمی حصے کے اوپر اور دوسرا نیچے رکھ کر آہستہ سے کھینچیں تاوقیتکہ کھپاچ نہ لگ جائے۔
                • اگر ریڑھ کی ہڈی کا مسئلہ ہو تو کبھی بھی زخمی کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں۔

                  آلہ آتش کشی (فائر اکسٹنگشر) کا استعمال

                  • آگ بجھانے والے آلے پر جو استعمال لکھا ہوا ہے اسے غور سے پڑھیں اور ہدایات پر عمل کریں۔
                  • آگ کے قریب تر جا کر آگ بجھائیں ۔ آلہ آتش کشی کی نوزل (نالی)  آگ کی جڑ کی طرف رکھیں اور شعلو ں کے اوپر گیس یا  پاؤڈر  نہ  ڈالیں۔
                  • آلہ آتش کشی کو کبھی بھی ہوا کے رخ کے مخالف استعمال نہ کریں۔

                  نوٹ : حاجی صاحبان جب بھی کہیں گاڑی یا بس وغیرہ میں سوار ہوں تو اس چیز کا اطمینان کرلیں کہ اس میں مناسب آگ بجھانے کی سہولت موجود ہے۔

واپس فہرست  پر جائیں