خیال ر کھنے کی باتیں

حج کے چند اہم انتظامی اور شرعی امور

یہ ایک حقیقت ہے کہ حج کے مبارک سفر کے دوران مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے اس سفر میں عازمینِ حج کو چھوٹے موٹے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل بعض اوقات مختلف وجوہات کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات حجاج کی بے صبری بھی ان مسائل کا باعث بنتی ہے۔ شاید اسی لئے حج کی نیت کرتے وقت رب تعالیٰ سے نہ صرف اس کی قبولیت کی التجا کی جاتی ہے بلکہ حج کے دوران آسانی کی دُعا بھی کی جاتی ہے۔ سفر کے مختلف مراحل پر عازمینِ حج کو مندرجہ ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہذا انہیں ایسے اوقات میں نہایت اعلیٰ درجے کے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور ہر مرحلے پر دوسروں کی ضروریات کو اپنے اوپر فوقیت دینی چاہیے۔

چیک پوائنٹس پر تاخیر

سعودی حکومت نے ویزا کی فراہمی سے لے کر حج کی تکمیل تک کے تمام معاملات کمپیوٹرائزڈ کر دیئے ہیں اور نہ صرف سعودی عرب میں داخلے کے وقت بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سفر کے دوران مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جہاں حجاج سے متعلق ضروری انفارمیشن کا اندراج اور تصدیق کی جاتی ہے۔ اس ساری کارروائی میں بعض اوقات چیک پوائنٹس پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نظم و ضبط؍قانون کا احترام

سفر حج کی تیاری کے مرحلے میں حاجی کیمپ سے دستاویزات لیتے وقت نیز گردن توڑ بخار اور فلو کے حفاظتی ٹیکے لگتے وقت بھیڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذا ان مراحل پر صف بندی بنا کر نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ دورانِ سفر ائیرپورٹ پر انتظار کی زحمت اُٹھانا  پڑ سکتی ہے بعض اوقات پرواز کی تاخیر کی صورتحال بھی سامنے آ  سکتی ہے۔

            سعودی عرب میں قیام کے دوران اور فریضۂ حج کی ادائیگی میں سعودی تعلیمات اور وقتاً فوقتاً جاری کردہ احکامات کی مکمل پاسداری کریں۔ نظام کو توڑنے سے آپ نہ صرف خود بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ حرم کی حدود میں کوئی بھی گِری پڑی چیز ہر گز نہ اُٹھائیں۔ اس عمل کو چوری سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی قیمتی چیز گری ہوئی نظر آئے تو کسی اہل کار کو بلا کر نشاندہی کریں خود نہ اُٹھائیں۔ درحقیقت سفر حج کے آغاز سے لے کر اختتام تک ہر مرحلے پر عازمینِ حج کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

نقدی ، قیمتی اشیاء اور ذاتی حفاظت

نقدی اور قیمتی اشیاء کی حفاظت عازمینِ حج کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نقدی اور قیمتی اشیاء کے گم ہونے اور جیب کٹنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لہذا اپنے پاس موجود پوری کی پوری رقم ہر وقت جیب یا بیلٹ میں نہ اٹھائے رکھیں بلکہ صرف ضرورت کی رقم اپنے پاس رکھیں اور فالتو رقم کسی محفوظ جگہ پر رکھیں۔ اپنے سوٹ کیس کے تالوں کی چابیوں کے دو سیٹ مختلف مقامات پر محفوظ رکھیں تاکہ ایک سیٹ کے گم ہو جانے کی صورت میں دوسرا چابیوں کا سیٹ کام آ سکے۔

عازمینِ حج خصوصاً خواتین رات گئے اکیلے نہ گھومیں یا کسی ناواقف کی دعوت پر اس کی گاڑی میں سفر نہ کریں۔ ہمیشہ گروپ میں یا کم از کم دو افراد مل کر چلیں اور ہر بار باہر نکلتے وقت اپنے عزیز ، دوست کا موبائل نمبر اپنی جیب میں رکھیں یا  بازو  پر لکھ لیں تاکہ کاغذ یا پرس گم ہونے کی صورت میں رابطہ ہو سکے۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان واپسی تک آپ کے پاس کم از کم 100 ریال موجود ہوں تاکہ کسی اشد ضرورت یا جہاز کی روانگی میں تاخیر کی صورت میں کھانا وغیرہ کھا سکیں۔

ہوٹل کے کمرے خالی ہونے میں تاخیر (مدینہ منورہ میں)

عموماً ایک ہی دن مدینہ منورہ میں ایک گروپ ہوٹل خالی کرتا ہے اور دوسرا گروپ ان کمروں میں داخل ہو رہا ہوتا ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی گروپ کے داخلے سے پہلے ہوٹل کے کمرے خالی کروا دیئے جائیں لیکن بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا  پر  اس میں تاخیر واقع ہو سکتی ہے عازمینِ حج  کو  چاہیئے  کہ اس صورتحال میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل

  • حج کے موسم میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی شاہراہوں پر ٹریفک کا ہجوم کافی بڑھ جاتا ہے اور بسیں ایک سے دوسری جگہ پہنچنے میں کافی زیادہ وقت لیتی ہیں۔ لہذا جب بھی آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے بسوں کے مہیا کرنے کا کوئی وقت دیا جائے گا عموماْ اس میں تاخیر ہو جائے گی۔ لہذا ایسی صورتحال میں صبر کا مظاہرہ کریں۔
  • ایام حج میں ہزاروں گاڑیاں ایک ہی مقام سے مشترک منزل کی طرف روانہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر بے پناہ بھیڑ ہو جاتی ہے اور غیر متوقع تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • زیادہ تر بسیں صرف حج کے موسم میں چلتی ہیں اور باقی سارا سال کھڑی رہتی ہیں لہذا انجن یا اے سی کی خرابی کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔
  • حج کے موسم میں سعودی حکومت وقتی طور پر کئی پڑوسی ممالک سے ڈرائیوروں کی بھرتی کرتی ہے ان ڈرائیوروں کا تعلق مصر، شام اور دوسرے افریقی ممالک سے ہوتا ہے اور عام طور پر یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سڑکوں سے ناواقف ہوتے ہیں لہذا منزل پر تاخیر سے پہنچتے ہیں۔
  • مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ اور واپسی پر ہر بس کے مسافروں کی لسٹ ہوٹل کے استقبالیہ میں آویزاں کر دی جاتی ہے۔ عازمینِ حج کو چاہیئے  کہ دیئے گئے وقت پر اپنی بس میں سوار ہو جائیں۔
  • اگرچہ مختلف مراحل پر سفر کے لئے بسیں دیئے گئے وقت پر نہیں پہنچ پاتیں لیکن عازمینِ حج کو وقت کی پابندی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے بصورت دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران بسیں راستے میں ایک سٹاپ کرتی ہیں اور وہاں ایک ہی وقت میں کئی بسیں کھڑی ہوتی ہیں لہذا بس سے اُترنے سے پہلے اپنی بس کا نمبر؍رنگ؍کمپنی وغیرہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ورنہ نماز/کھانے کے وقفے کے بعد بس میں سوار ہونے کے لئے اپنی بس کو ڈھونڈنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
  • صحت سے متعلق مسائل

    کھانے میں بے احتیاطی کی وجہ سے پیٹ کے امراض کا اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا زیادہ مصالحے دار کھانوں سے پرہیزکریں۔ ایسے امراض سے بچنے کے لئے مشروبات کااستعمال زیادہ کریں۔ اپنے کمرے میں موجود فریزر میں پانی کا سٹاک ضرور رکھیں۔کھانا ہمیشہ صاف جگہ پر بیٹھ کر کھائیں۔ننگے پاؤں بیت الخلاء جانا بہت سی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

  • پاکستانی کھانے کے ہوٹل

    یاد رہے کہ اس بار بھی سعودی حکومت کی ہدایات پر کھانا رہائش گاہوں پر حکومت کی جانب سے مہیا کیا جائیگا۔تاہم بازاروں میں جا بجا پاکستانی ہوٹل بھی کھلے ہوتے ہیں ۔

  • سامان کے لئے احتیاط

    مندرجہ ذیل اشیاء سعودی عرب لے جانے پر پابندی ہے اور انہیں ساتھ لے جانا قانون کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

    • خنجر، چاقو اور ہتھیار ، خشخاش؍ الکوحل وغیرہ
    • منشیات سعودی عرب لے جانے کی سزا موت ہے۔
    • اپنے ساتھ کسی دوسرے شخص کا سامان لے جانے سے اجتناب کریں۔
    • صفائی کا خیال

      صفائی نصف ایمان ہے لہٰذا ہر مرحلے پر صفائی کا خاص خیال رکھیں۔مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات جیسے انتہائی مقدس مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ پھلوں کے چھلکے ، ریپرز اور خالی بوتلیں وغیرہ ہمیشہ کوڑا دان میں ڈالیں۔جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز کریں۔روزانہ ایک بار ضرور غسل کریں۔ہمیشہ صاف لباس استعمال کریں۔

      موبائل فون

      سعودی عرب میں موبائلی، ساوا اور زین نامی موبائل فون کی بڑی کمپنیاں ہیں۔ موبائلی اور زین نسبتاً  بہتر سروس مہیا کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں ضروری نکات مندرجہ ذیل ہیں:

      • سم کارڈ عموماً 30، 60اور 90ریال کے ملتے ہیں جن میں اتنا ہی بیلنس بھی موجود ہوتا ہے۔
      • پاکستانی موبائل نمبر کی رومنگ سروس بھی مہیا کی جاتی ہے لیکن یہ بہت مہنگی پڑتی ہے۔
      • جدہ ایئرپورٹ یا گلیوں؍ بازاروں میں سم اور موبائل کارڈ فروخت کرنے والے ملتے ہیں ان سے خریداری کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ وہ مہنگے اور غیر مؤثر ہوسکتے ہیں۔  جدہ ایئر پورٹ کی عمارت سے باہر مختلف موبائل کمپنیوں کے کاؤنٹر بنادیئے جاتے ہیں اور حرم کے قریب ہی کئی فرنچائز دفاتر کھولے جاتے ہیں۔ لہٰذ ا ایئر پورٹ سے نکلتے ہی ان کاؤنٹرز سے یا مکہ مکرمہ میں کسی موبائل کمپنی کے فرنچائزدفتر سے سم کارڈ خریدیں۔
      • اپنے ساتھ کوئی بھی سستا اور سادہ موبائل لے کر جائیں۔ فالتو موبائل بیٹری بھی منیٰ میں قیام کے دوران کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ موبائل چارجر کے Three pin converterضرور لے کر جائیں۔منٰی میں موبائل کی چارجنگ کے لئے ایکسٹینشن بورڈ موجود ہو تو کئی موبائل بیک وقت چارج کئے جاسکتے ہیں۔
      • کوشش کریں کہ موبائل کم سے کم استعمال ہو زیادہ وقت اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں۔
      • موبائل پر گانے والی ٹون یا گھنٹی نہ رکھیں  اور تمام نمازوں خصوصاً حرم شریف میں موبائل بند رکھیں۔

        قربانی کے انتظامات

        حکومتِ پاکستان سرکاری سکیم کے تحت حج پر جانے والے افراد کے لئے عموماً سعودی بینک کے ذریعے قربانی کابندوبست کرتی ہے جو کہ ایک اچھا انتظام ہے جس میں قربانی کی گارنٹی بھی ہوتی ہے اور گوشت بھی ضرورت مندوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اگر قربانی سرکاری اخراجات میں شامل نہ ہو تو پرائیویٹ افراد یا ٹھیکے داروں کے ذریعے قربانی کرنے سے اجتناب کریں۔ بدقسمتی سے اس سلسلے میں کئی لوگ دھوکہ دہی کا ارتکاب کرتے ہیں۔

      • موسم کی شدت

        ایّام حج کے دوران منیٰ؍ عرفات کے میدان میں شدید دھوپ کے وقت چھتری کا استعمال ضرور کریں اور پینے کے پانی کی بوتل ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔اگر دوپہر کے وقت حرم جانا ہو تو ہمیشہ اپنے پاس چھتری رکھیں کیونکہ اس وقت دھوپ شدید ہوتی ہے۔ عمر رسیدہ حجاج کے لئے عشاء کے بعد کا وقت طواف کے لئے زیادہ موزوں ہوتا ہے۔نفلی طواف کے لئے چمڑے والے موزے استعمال کریں اس طرح آپ کے پاؤں میں تکلیف نہیں ہوگی۔ خواتین طواف کے وقت موزے استعمال کریں کیونکہ ماربل پر ننگے پاؤں چلنا دشوار ہوتا ہے۔

        حرم کی نماز

        باجماعت نماز کے وقت آپ کئی حجاج کو مطاف میں صفوں کے درمیان چکر لگاتے دیکھیں گے جو دراصل نماز کے لئے خالی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اس الجھن سے بچنے کے لئے طواف کے اوقات کا انتخاب اس طرح کریں کہ نماز باجماعت آپ آرام سے ادا کرسکیں۔ مطاف میں رکنِ یمانی سے لیکر رکن حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم کے علاقے تک زیادہ بھیڑ ہوتی ہے اور وہاں جماعت کے اوقات میں نماز کے لئے جگہ ملنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اس وقت حطیم سے لے کر رکن یمانی کا علاقہ کچھ خالی ہوتا ہے اور وہاں نماز کے لئے عموماً جگہ آرام سے مل جاتی ہے۔ نیز جب آپ گروپ کی شکل میں حرم جائیں تو پورے گروپ کو کسی ایک مقام پر نماز پڑھنے کے لئے جگہ کا ملنا مشکل ہوتا ہے ہاں البتہ دو سے تین افراد کے لئے قریب قریب جگہ میسر ہوجاتی ہے۔

        نمازی کے آگے سے گزرنا

        مسجد میں نمازی کے سامنے سے گزرنا نہایت ہی ناپسندیدہ اور حرام عمل ہے۔ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا شخص گناہگار ہوگا۔ حرمین شریفین چونکہ بڑی مساجد میں شامل ہیں لہٰذا یہاں بھی ایسی ہی مساجد کی طرح شرعی اصول لاگو ہوتا ہے۔ یعنی جہاں تک سجدہ کی جگہ دیکھتے ہوئے نمازی کی نظر پڑے وہاں سے نہ گزرا جائے۔ عموماً یہ حد تین صفوں تک خیال کی جاتی ہے۔سخت بھیڑ کی صورت میں بھی نمازی کی سجدہ والی جگہ سے تو بالکل نہ گزرا جائے۔ صرف بیت اللہ شریف کا طواف کرنے والوں کا نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے۔

        منیٰ میں نمازیں

        اس موقع پر منیٰ میں نمازوں کے بارے میں دو آراء سامنے آتی ہیں جو بعض اوقات عازمینِ حج کے درمیان بحث و مباحثہ کا سبب بنتی ہیں۔

        اول یہ کہ منی میں قصر نماز ادا کی جائے۔ اس لیے کہ منی  میں حاجی مسافر ہوتا ہے اور مسافر قصر نما ز ادا کرتا ہے۔ جبکہ بعض علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ اگر مکہ، منی اور عرفات میں مجموعی طور پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرنے کی نیت ہے، تو مقیم شمار ہو گا اور منی میں  پوری نماز پڑھے گا۔ حکومت سعودی عرب بھی منی کو مکہ مکرمہ کا حصہ شمار کرتی ہے۔ دونوں میں سے کسی بھی رائے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

        یاد رکھیں حج کے دوران ہمیں لڑائی  جھگڑے سے گریز کرنا ہے کیونکہ اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا واضح حکم قرآن مجید میں موجود ہے۔

        فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ط      (البقرۃ:197)

        اگر امام صاحب قصر جبکہ کوئی مقتدی مقیم ہونے کی وجہ سے  پوری نماز پڑھنا چاہتا ہے تو جب امام صاحب اپنی دو رکعت نماز پوری کر چکیں تو پوری نماز پڑھنے والے مقتدی حضرات سلام کے بعد کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کر لیں۔

        اخلاق سے متعلق باتیں

        • حجاج کرام حج کے مقدس سفر کے دوران اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں ۔ عملہ اور دوسرئے ممالک کے حجاج کے ساتھ بھی اخلاق سے پیش آئیں۔
        • حاجی کیمپوں میں اپنا ٹکٹ / پاسپورٹ لیتے وقت بد نظمی نہ کریں بلکہ قطار میں رہ کر تمام کاغذات جلد وصول کیے جا سکتے ہیں۔
        • ہوائی جہا ز کی آمد یا روانگی میں تاخیر ہو جائے تو ائیر پورٹ پر صبر وتحمل سے کام لیں اور اچھے امن پسند پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں۔ سگریٹ نوشی اور فضول گفتگو نہ کریں۔ کثرت سے تلبیہ کا ورد کریں۔ دوران سفر دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
        • جدہ یا مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر آپ کو کچھ وقت کھانے پینے اور نماز کی ادائیگی کے لیے ملے گا اس دوران بھی بدنظمی سے بچیں، صبر سے کام لیں اور توبہ استعفار کرتے رہیں۔
        • جس بلڈنگ میں جیسا بھی کمرہ دیا جائے وہ بخوشی لے لیں بوڑھے اور بیمار افراد کیلیے ایثار سے کام لیں۔ اگر آپ کو نچلی منزل پر کمرہ ملاہے تو آپ انھیں دئے دیں تاکہ انہیں اترنے چڑھنے میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
        • بلڈنگ میں کھانے کی تقسیم کے وقت نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اپنی باری پرکھانا لیں۔ کھانے کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کھانا لیں جو کھا سکتے ہوں۔
        • رہائش گاہ پر بھی آپ کو مختلف مسائل و مشکلات سے واسطہ پڑ سکتا ہے کسی مسئلہ کے لیے آپ عمارت میں موجود سٹاف سے رجوع کیں اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔
        • مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ کسی اور شہر میں ہر گز جانے کی اجازت نہیں، اسی طرح جدہ ائیر پورٹ یا حج ٹرمینل سے آپ جدہ شہرنہیں جاسکتے۔
        • مقدس مقامات پر دنیوی باتوں سے پرہیز کریں۔
        • مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے باہر بیت الخلاء اور وضو خانوں کا انتظام موجود ہے ان کی صفائی کا خیال رکھیں۔
        • مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں سنگ مرمر کے فرش بنے ہوئے ہیں ان پر احتیاط سے چلیں۔
        • حج کے پانچ دنوں میں پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں۔
        • مسجد الحرام یا مسجد نبوی جاتے وقت زیادہ رقم اپنے پاس نہ رکھیں۔
        • طواف یا شیطان کو کنکریاں مارتے وقت اگر آپ کی کوئی چیز نیچے گرجائے تو اسے اٹھانے کی کوشش ہر گز نہ کریں ایسا کرنے سے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ گر جائے تو رش کی وجہ سے کچلے جانے یا موت کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ احتیاط کریں۔
        • خواتین حرم شریف جاتے وقت کانچ کی چوڑیاں پہن کر نہ جائیں، کیونکہ ہجوم میں چوڑیاں ٹوٹنے سے آپ خود بھی زخمی ہو سکتی ہیں اور دوسرئے حجاج کرام کے پاؤں بھی زخمی ہو سکتے ہیں۔
        • خواتین اونچی ایڑھی کا جوتا نہ پہنیں اس سے چلنے میں دشواری ہو گی اور جلد تھک جائیں گی۔
        • خواتین کے لئے عبایا پہننا لازمی ہے۔ خواتین ایسا لباس نہ پہنیں جو ملکی وقار کے منافی ہو خصوصا باریک لباس نہ پہنیں جس سے آپ کا جسم نمایاں ہو۔
        • خواتین جس عمارت میں رہائش پذیر ہوں اس عمارت میں قیام پذیر دوسری عورتوں کے ساتھ رابطہ رکھیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔
        • اپنے کمرے اور عمارت میں صفائی کا خیال رکھیں اگر صفائی والا نہ بھی آئے تو صفائی خود کر لیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
        • حرم کی حدود میں کوئی بھی گری ہوئی چیز ہر گز نہ اٹھائیں۔ اس عمل کو چوری سمجھاجاتا ہے۔
        • کسی حادثہ کی صورت افراتفری پیدا نہ کریں ، اور زخمی یا میت کو خود نہ اٹھائیں بلکہ قریبی سیکٹر آفس سے مدد طلب کریں اورپولیس یا پاکستان ہاؤس میں اطلاع کریں۔
        • گدا گری کی حوصلہ شکنی کریں۔ گداگری کی کڑی سزائیں ہیں۔
        • حق پر ہوں تب بھی لڑائی جھگڑا نہ کریں ۔ مذہبی اور سیاسی گفتگو / بحث سے پرہیز کریں۔
        • جب کبھی ہجوم میں پھنس جائیں تو اسی طرف چلیں جس طرف سب چل رہے ہوں مخالف سمت میں ہر گز نہ چلیں۔
        • مشترکہ رہائش پراعتراض نہ کریں۔ بوڑھے ، کمزور اورخواتین کو رضاکارانہ طور پر جگہ دیں۔ ضعیف افرا د کے لئے خدام الحجاج کی مدد لیں۔ گنجائش سے زیادہ حاجی کمرے میں ٹھہرائےجائیں تو پاکستان ہاؤس یا خدام الحجاج کو اطلا ع کریں۔ آپس میں نہ جھگڑیں۔
        • لفٹ میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار نہ ہوں۔ باری باری استعمال کریں۔
        • باتھ روم عموما 6 سے 12 افراد کے استعمال کے لئے ہوتا ہے۔ باری باری استعمال کریں۔ بیت الخلا ء میں پتھر / ڈھیلے استعمال نہ کریں ورنہ گٹر بند ہو جائے گا اور سب کو زحمت ہو گی۔
        • انگریزی طرز کے کموڈ کا استعمال ضرور سیکھ لیں۔ بعض غسل خانوں میں استنجاء کے لئے علیحدہ کموڈ ہوتا ہے۔ اس کو صرف استنجاء کے لئے استعمال کریں۔

          خریداری

          زیادہ خریداری نہ صرف مہنگی بلکہ وقت اور ذہنی سکون کا ضیاع بھی ہے۔ لہٰذا بازاروں میں کم سے کم جائیں اور زیادہ وقت عبادات اور اپنے ربّ سے مضبوط تعلق جوڑنے میں صرف کریں۔ اگر خریداری زیادہ کرلی تو واپسی پر سامان زیادہ ہونے کی صورت میں ایئر لائن کی دی گئی وزن کی حد سے تجاوز ہونےکی صورت میں اضافی کرائے کے ساتھ مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ (وزن کی حد 30کلو اور ہینڈ بیگ 7کلو ہے)۔ کھجور مدینہ منّورہ کی کھجور منڈی سے نسبتاً سستی مل جاتی ہے۔

        • چند شرعی مسائل اور جواب

          سوال:       عین حج کے پانچ دنوں میں عورت کو اگر حیض جاری ہو جائے تو کیا وہ حج کے تمام ارکان اس حالت میں پورے کرسکتی ہے؟

          جواب:      طواف کے علاوہ دیگر ارکان ادا کرے گی، پھر جب حیض سے پاک ہو جائے تو طواف کر لے گی۔

          سوال:       اگر کوئی خاتون عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ گئی اور بحالت احرام حیض جاری ہو گیا تو کیا اُسے مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف و سعی کرکے احرام کھول دینا چاہئے یا اس سے پہلے پاک ہونے کا انتظار کرے؟

          جواب:      پاک ہو جانے کا انتظار کرے، پھر جب پاک ہو جائے تو طواف و سعی کرے اس کے بعد احرام کی حالت سے باہر نکلے۔

          واپس فہرست  پر جائیں