زیارتِ مدینہ منورہ

مدینہ منورہ

زیارتِ مدینہ منورہ اگرچہ حج کے اعمال کا حصہ نہیں لیکن کسی بھی مسلمان کی مدینہ منورہ میں حاضری بہت بڑی سعادت ہے۔مدینہ منورہ میں زیادہ تر حجاج کو مرکزیہ میں رہائش فراہم کی جائے گی البتہ جن حجاج کو رہائش مسجدِ نبوی ﷺ سے دور ملے گی ان کو کرایہ کی مد میں کٹوتی شدہ رقم سے کرایہ کا فرق واپس کیا جائے گا۔

اس سال بھی کوشش کی جا رہی ہے  کہ عازمینِ حج کی نصف تعداد کو پاکستان سے براہ راست مدینہ منورہ روانہ کیا جائے جس سے نہ صرف وقت اور اخراجات کی بچت ہو گی بلکہ سفر ی  مشکلات بھی کم ہو جائیں گی۔

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا فاصلہ تقریباً440کلومیٹر ہے۔ عام حالات میں یہ سفر تقریباً 6سے 8گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ اس مبارک سفر میں نہایت توجہ سے  درود شریف کی کثرت رکھیں ۔ درود شریف کی جتنی کثرت ہو گی اتنا ہی مفید ہو گا۔ یہ سفر نہایت ہی ادب اور محبت کا سفر ہے۔مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے سفر کی آخری منزل ذوالحلیفہ کے قریب ہے۔ یہ مدینہ منورہ سے تقریباً9کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں سے گاڑی روانہ ہونے کے چند منٹ بعد آپ کو مدینہ منورہ کی آبادی اور مسجد نبو ی ﷺکے بلند مینار نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

دُعا بوقتِ داخلہ مدینہ منّورہ:

اَللـّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُط فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِط وَ اَدْخِلْنَا دَارَالسَّلَامِط تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِط رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْ خَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَّصِیْرًاO وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَا طِلَ کَانَ زَھُوْقًاO وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ لا وَلَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًاO  

(ترجمہ ) ‘‘الٰہی! تو سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے سلامتی ہے اور تیری طرف سلامتی لوٹتی  ہے،  پس اے ہمارے ربّ زندہ رکھ ہمیں سلامتی کے ساتھ اور داخل فرما ہمیں تُو اپنے گھر میں جو سلامتی والا ہے ۔ بابرکت ہے تو  اے ہمارے رب اور عالیشان ہے ،اے عظمت اور بزرگی والے پروردگار!  یا رب مجھے جہاں داخل فرما، اچھائی کے ساتھ داخل فرما، اور جہاں سے نکال اچھائی کے ساتھ نکال۔ اور مجھے خاص اپنے پاس سے ایسا اقتدار عطا فرما جس کے ساتھ(تیری) مدد ہو۔ اور کہو کہ حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ اور ہم قرآن نازل کر رہے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت کا سامان ہے۔ البتہ ظالموں کے حصے میں اس سے نقصان کے سواکوئی اور چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔’’

جب آپ مدینہ منورہ پہنچ جائیں تو اطمینان سے اپنا سامان اپنی رہائشگاہ پر رکھیں اور کچھ دیر آرام کر لیں اور اپنی تھکن اُتار لیں ۔ اس کے بعد اگر ممکن ہو تو غسل کریں ، ورنہ صرف وضو کریں۔مسواک کریں اور صاف ستھرے کپڑے پہنیں ، خوشبو لگائیں اور اب مسجدِ نبوی میں داخل ہونے اور حضورِ اکرم ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضری دینے کے ارادے سے مسجد نبوی کی طرف چلیں۔ جس کی بنیاد آج سے چودہ صدیاں  پہلے آپ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے رکھی تھی اور اسی مسجد میں اپنے حجرے میں آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ ہے۔

اب آپ مسجدِ نبوی ﷺ میں درود شریف اورمسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھتے ہوئے داخل ہوں۔ روضہ مبارک ﷺ کی طرف جانے کے لئے  مغرب کی جانب باب السلام سے سیدھا راستہ روضہ مبارک ﷺ کو جاتا ہے۔مشرق کی جانب سے بابِ جبریل سے داخل ہو کر اُلٹے ہاتھ ریاض الجنتہ کے پاس سے گزرتے ہوئے روضہ مبارک ﷺپر پہنچا جا تا ہے۔ داخل ہونے سے پہلے کچھ صدقہ دیں اور داخل ہوتے وقت یہ دُعا پڑھیں۔

اَللـّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ ط اَ للـّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ ط وَافْتَحْ لِٓیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ط اَللَّھُمَّ اجْعَلْنِیَ الْیَوْمَ مِنْ اَوْجَہِ مَنْ تَوَجَّہَ اِلَیْکَ ط وَ اَقْرَبِ مَنْ تَقْرَّبَ اِلَیْکَ ط وَاَنْجَحِ مَنْ دَعَاکَ ط وَاَبْتَغِی مَرْضَا تَکَ ط

(ترجمہ) ‘‘اے اللہ!درُود بھیج ہمارے سردار محمد ﷺ اور ہمارے سردار محمد ﷺ کی آل پر، اے اللہ!میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لئے  اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ!آج کے دن مجھے اپنی طرف متوجہ ہونے والوں میں سب سے زیادہ  توجہ کرنے والا بنا لے اور تیرا قرب حاصل کرنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ قریب بنا لے اور مجھے اُن لوگوں سے زیادہ کامیاب کر جنہوں نے تجھ سے دُعا کی اور جو تیری رضا کے طالب ہوئے۔’’

اگر مکروہ وقت نہ ہو یا فرض نماز نہ ہو رہی ہوتو دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھیں۔ نماز کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں کہ حرم نبوی ﷺ میں داخلے کی سعادت بخشی اور خوب توبہ و استغفار اور دعا کریں۔

دُعا بوقتِ داخلہ مدینہ منّورہ

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ وَ اِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُط فَحَیِّنَارَبَّنَابِا السَّلَامِط وَ اَدْخِلْنَا دَارَالسَّلَامِط تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَ تَعَالَیْتَ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِط رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْ خَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَّصِیْرًا؁ وَقُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَا طِلَ کَانَ زَھُوْقًا؁وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاھُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ لا وَلَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا؁                            (الاسراء :82،81،80)

(ترجمہ ) ‘‘الٰہی! تو سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے سلامتی ہے اور تیری طرف سلامتی لوٹتی  ہے،  پس اے ہمارے ربّ زندہ رکھ ہمیں سلامتی کے ساتھ اور داخل فرما ہمیں تُو اپنے گھر میں جو سلامتی والا ہے ، بابرکت ہے تو  اے ہمارے رب اور عالیشان ،اے عظمت اور بزرگی والے پروردگار! داخل فرما مجھے (مدینہ میں) داخل فرمانا سچا ، اور نکال مجھے مدینہ سے نکالنا سچا ، اور عطا کر مجھ کو اپنی جانب سے غلبہ یا فتح و نصرت۔’’ اور کہہ دیجیے‘‘آ گیا حق اور مٹ گیا باطل ، بلاشبہ تھا باطل مٹنے ہی والا ’’  اور ہم اتارتے ہیں قرآن جو کہ شفا اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے  اور نہیں بڑھتے ظالم مگر خسارے میں۔’’

جب آپ مدینہ منورہ پہنچ جائیں تو اطمینان سے اپنا سامان اپنی رہائشگاہ پر رکھیں اور کچھ دیر آرام کر لیں اور اپنی تھکن اُتار لیں ۔ اس کے بعد اگر ممکن ہو تو غسل کریں ، ورنہ صرف وضو کریں۔مسواک کریں اور صاف ستھرے کپڑے پہنیں ، خوشبو لگائیں اور اب مسجدِ نبوی میں داخل ہونے اور حضورِ اکرم ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضری دینے کے ارادے سے مسجد نبوی کی طرف چلیں۔ جس کی بنیاد آج سے چودہ صدیاں  پہلے آپ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے رکھی تھی اور اسی مسجد میں اپنے حجرے میں آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ ہے۔

اب آپ مسجدِ نبوی ﷺ میں درود شریف پڑھتے ہوئے داخل ہوں۔ روضہ مبارک ﷺ کی طرف جانے کے لئے  مغرب کی جانب باب السلام سے سیدھا راستہ روضہ مبارک ﷺ کو جاتا ہے۔مشرق کی جانب سے بابِ جبریل سے داخل ہو کر اُلٹے ہاتھ ریاض الجنتہ سے گزرتے ہوئے، پھر اُلٹے ہاتھ مڑ کر روضہ مبارک ﷺپر پہنچا جا سکتا ہے۔ داخل ہونے سے پہلے کچھ صدقہ دیں اور داخل ہوتے وقت یہ دُعا پڑھیں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ ط اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ ط وَافْتَحْ لِٓیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ط اَللَّھُمَّ اجْعَلْنِیَ الْیَوْمَ مِنْ اَوْجَہِ مَنْ تَوَجَّہَ اِلَیْکَ ط                         وَ اَقْرَبِ مِنْ تَقْرَّبَ اِلَیْکَ ط وَاَنْجَحِ مَنْ دَعَاکَ ط وَاَبْتَغٰی مَرْضَا تَکَ ط

(ترجمہ) ‘‘اے اللہ!درُود بھیج ہمارے سردار محمد ﷺ اور ہمارے سردار محمد ﷺ کی آل پر، اے اللہ!میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لئے  اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ!آج کے دن مجھے اپنی طرف متوجہ ہونے والوں میں سب سے زیادہ  توجہ کرنے والا بنا لے اور تیرا قرب حاصل کرنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ قریب بنا لے اور مجھے اُن لوگوں سے زیادہ کامیاب کر جنہوں نے تجھ سے دُعا کی اور جو تیری رضا کے طالب ہوئے۔’’

اگر مکروہ وقت نہ ہو یا فرض نماز نہ ہو رہی ہوتو دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھیں۔ نماز کے بعد اللہ کا شکر ادا کریں کہ حرم نبوی ﷺ میں داخلے کی سعادت بخشی اور خوب توبہ و استغفار اور دعا کریں۔

ریاض الجنتہ

مسجدِ نبوی میں جب آپ باب جبریلؑ سے داخل ہوں گے تو آپ کے بائیں ہاتھ  پر ایک حجرہ نظر آئے گا۔ یہ حضرت بی بی فاطمہؓ  کا گھر تھا۔ جب آپ اس کے سامنے سے گزر جائیں تو فوراً بعد بائیں ہاتھ پر مسجد نبوی کا جو حصہ ہے یہ ریاض الجنۃ ہے، یعنی منبر ِ رسول ﷺ اور حجرہ مبارک کے درمیان کا حصہ ریاض الجنتہ کہلاتا ہے۔اس مقام کی نسبت حدیث میں آیا ہے: ‘‘ جو جگہ میرے گھر اور منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔’’

۔’’

 

 

یعنی یہ جگہ حقیقت میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے جو اس دنیا میں منتقل کیا گیا ہے اور قیامت کے دن یہ ٹکڑا جنت میں چلا جائے گا۔اسی ریاض الجنتہ میں حضورِ پاک ﷺ کا مصلیٰ بھی ہے ، جہاں آپ  ﷺ کھڑے ہو کر امامت فرمایا کرتے تھے۔

حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد مُصلیٰ رسول جیسی متبرک جگہ کی تعظیم کو برقرار رکھنے کی غرض سے حضرت ابو بکر صدیق  ؓ نے حضور  ﷺ کی نماز پڑھنے کی جگہ پر، سوائے آپ  ﷺ کے قدم مبارک کی جگہ چھوڑ کر باقی جگہ پر دیوار بنوا دی تھی تاکہ آپ  ﷺ کے سجدہ کی جگہ لوگوں کے قدموں سے محفوظ رہے۔ اس جگہ آج ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے، جو محراب نبوی کہلاتی ہے۔ ولید بن عبدالملک کے دور میں ولید کے حکم سے عمر بن عبدالعزیز نے جب مسجدِ نبوی ﷺ کی توسیع کی تو اس جگہ یہ محراب بھی بنوا دی۔چنانچہ اب اگر کوئی حاجی مُصلیٰ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو اس کا سجدہ حضور اقدس ﷺ کے قدم مبارک ﷺ کی جگہ پڑتا ہے۔

اس وقت جو مقدس محراب بنی ہوئی ہے وہ 9فٹ سنگِ مرمرکے ایک ہی ٹکڑے کی ہے جس پر سونے کے پانی سے خوبصورت مینا کاری کی گئی ہے، دونوں جانب سرخ سنگِ مرمر کے بے مثال ستون بنے ہوئے ہیں۔ محراب کے اوپر سورہ  الاحزاب کی  56ویں  آیت لکھی ہوئی ہے جس میں درود شریف پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مُوَاجہہ شریف و مقصورہ شریف

روضہ اقدس کو پیتل کی جالیوں اور دیگر اطراف کو لوہے کے جالی دار دروازوں سے بند کیاگیا ہے۔ مواجہہ شریف کی طرف تینوں مزارات متبرکہ کے مقابل گول گول سے قریباً 6انچ قطر کے سوراخ ہیں۔ ایک دروازہ بھی ہے جو مثل تمام دروازوں کے ہر وقت بند رہتا ہے۔ اس عمارت کو مقصورہ شریف کہتے ہیں۔

اس متبرک مقام پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سر حضورﷺ کے سینہ مبارک کے برابر ہے اور حضرت عمرؓ کا سر حضرت صدیق اکبرؓ کے سینہ کے برابر، ان کے علاوہ ایک قبر کی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے  محفوظ پائی جاتی ہے۔

حاضری روضہ اقدس ﷺ اور زیارت کے آداب

ٓپ  ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری باعث سعادت و رحمت ہے۔ آپ ﷺ کے اس امت پر لاتعداد احسانات کا تقاضا ہے کہ ہم آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجیں۔ آپ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ حج کی سعادت حاصل کر چکنے کے بعد سید الانبیاء اور ختم الرسل ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضری کسی خوشی نصیبی سے کم نہیں۔ اس موقع پر نہایت ادب واحترام اور عجزو  انکساری کا اظہار پیش نظر رہنا چاہیے۔ آقا کے دربار پر حاضری کے وقت ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ دل میں موجزن ہو۔ جیسے ہی مواجہہ شریف کے سامنے پہنچیں تو درج ذیل الفاظ کے ساتھ نذرانہ درود و سلام پیش کریں۔

 

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاحَبِیْبَ اللہِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللہِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُزَّمِّلُط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُدَّثِّرُط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ الرَّحْمَةِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَفِیْعَ الْاُمَّةِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا الْقَاسِمِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَشِیْرُط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَذِیْرُط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَآ أَکْرَمَ وُلْدِ اٰدَمَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْأَنْبِیَآءِ وَالْمُرْسَلِیْنَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَاتَمَ الْنَّبِیِّینَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَآئِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِیْنَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَآئِدَ الْخَیْرِط وَفَاتِحَ الْبِرِّط وَھَادِیَ الْاُمَّةِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اَھْلِ بَیْتِکَ الطَیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ الَّذِیْنَ أَذْھَبَ اللہُ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھَّرَھُمْ تَطْھِیْرًاط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اَصْحَابِکَ اَجْمَعِیْنَط وَعَلٰٓی اَزْوَاجِکَ الطَّاھِرَاتِ أُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰی سَآئِرِ الْاَنْبِیَآءِ  وَعِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَط جَزَاکَ اللہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَحْسَنَ وَ اَفْضَلَ مَا جَزٰی نَبِیًّا عَنْ قَوْمِهٖط وَرَسَوْلًا عَنْ اُمَّتِهٖط اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗط وَ اَشْھَدُ أَنَّکَ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُهٗ وَاَمِیْنُهٗ وَصَفِیُّهٗ وَ خِیَرَتُهٗ مِنْ خَلْقِهٖط اَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ وَاَدَّیْتَ الْأَمَانَةَ وَ نَصَحْتَ اُمَّتَکَ وَ أُوْضَحْتَ الْحُجَّةَ وَجَا ھَدْتَّ فِی اللہِ حَقَّ جِھَادِہٖط وَ اَتٰکَ الْیَقِیْنُط یَا خَیْرَ الرُّسُلِط إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّط أَنْزَلَ عَلَیْکَ کِتَابًا صَادِ قًا قَالَ فِیْهِ  ‘‘وَلَوْ أَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوْاللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًاْ (سورۃ النساء آیت: 64)’’

(ترجمہ) ‘‘اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ پر سلام ،  اے اللہ کے نبی آپ ﷺ پر سلام ،  اے اللہ کے حبیب آپ ﷺ پر سلام،  اے اللہ کی کل مخلوق سے بہتر آپ ﷺپر سلام،  اے مزمّل آپ ﷺ پر سلام ،  اے مدثّر آپ ﷺ پر سلام،  اے نبی رحمت آپ ﷺ پر سلام،  اے اُمت کی شفاعت کرنے والے آپ ﷺ پر سلام،  اے ابو القاسم آپ ﷺ پر سلام،  اے بشارت دینے والے آپﷺ پر سلام، اے ڈر سنانے والے آپ ﷺ پر سلام،  اے آدم ؑ کے سب سے معز ّز فرزند آپ  ﷺ پر سلام،  اے انبیاء و مرسلین کے سردار آپ  ﷺ پر سلام،  اے خاتم النبین آپ ﷺ پر سلام ،  اے سب سے مشہور قائد آپ ﷺ پر سلام،  اے بھلائی کے رہنما، اے نیکی کے فاتح اور ہادی اُمت آپ ﷺ پر سلام،  آپ ﷺ پر سلام ہو اور آپ ﷺکے ان طیب و طاہر اہلِ بیت پر جن سے اللہ تعالیٰ نے نجاست دُور کر کے انھیں خوب پاک و صاف کر دیا ہے۔آپ ﷺ پر سلام ہو اور آپ ﷺ کے سب اصحابؓ اور آپ ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ اُمہات المومنین پر سلام ہو، آپ ﷺ پر سلام ہو اور تمام انبیاء و مرسلین اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو،  اے اللہ کے رسولﷺ!اللہ آپ ﷺ کو ایسا احسن و افضل بدلہ دے جو اُس نے کسی نبی کو اُس کی قوم کی طرف سے اور رسول کو اُس کی امت کی طرف سے دیا۔ میں گواہی دیتا /دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،  وہ اکیلا ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں،  میں گواہی  دیتا/دیتی وں کہ آپ ﷺ اُس کے بندے ہیں،  اُس کے رسول ہیں،  اُس کے امین ہیں،  اُس کے مخلص دوست ہیں اور اُس کی مخلوق میں سے اُس کے اعلیٰ بندے ہیں۔ میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ آپ ﷺ نے امانت ادا کر دی اور اپنی اُمت کی پوری خیر خواہی کی اور دینِ حق کی دلیل روشن کی اور اللہ کی راہ میں خوب جہاد کیا اور دین کو مضبوط کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے دشمن سے جہاد کیا اور اپنے رب کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ ﷺ انتقال فرما گئے۔ اے خیرالرسل،   اللہ عّزوجلّ نے آپ ﷺ پر سچی کتاب نازل فرمائی جس میں اُس نے فرمایا:

‘‘اور اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر چکے تھے تمہارے پاس آ جاتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ﷺ بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پاتے۔’’ (سورۃ النسآء -164)

ہر نماز کے بعد درود و سلام کیلئے رسول اکرم  کے روضہ مبارک پر حاضری کا اہتمام آپ پر منحصر ہے۔ سلام پڑھ کر وہاں سے ہٹ جائیں تاکہ دوسروں کو موقع ملے۔ مزید برآں مسجد میں کہیں بھی بیٹھ کر درود پڑھ سکتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ا للہ  ﷺ نے فرمایا  ‘‘اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی گھروں میں نفل نماز پڑھو اور قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو) اور میری قبر کو میلہ گاہ  نہ  بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہارا درود مجھے پہنچ جائے گا۔’’ (ابو داود)

زیارت حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ)

اب ذرا دائیں ہٹ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ  کی زیارت کریں اور یہ پڑھیں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیِّدَنَآ اَبَا بَکْرِنِ الصِّدِّیْقَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَلِیْفَةَ رَسُوْلِ اللہِ عَلَی التَّحْقِیْقِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللہِ ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامَنْ اَنْفَقَ مَا لَهٗ کُلَّهٗ فِیْ حُبِّ اللہِ وَحُبِّ رَسُوْلِهٖط حَتّٰی تَخَلَّلَ بِالْعَبَا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْکَط وَاَرْضَاکَ اَحْسَنَ الرِّضَا وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَکَ وَمَسْکَنَکَ وَ مَحَلَّکَ وَمَأْوٰکَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَآ اَوَّلَ الْخُلَفَآءِ وَتَاجَ الْعُلَمَآءِط وَصِھْرَالنَّبِیِّ الْمُصْطَفٰی وَرَحْمَةُ اللہِ وَ بَرَکَاتُهٗط

(ترجمہ): ‘‘سلام ہو آپ ؓ پر اے ہمارے سردار ابوبکر ؓ !سلام ہو آپ ؓ پر اے رسول اللہ ﷺ کے حقیقی خلیفہ، سلام ہو آپ ؓ پر اے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے، دوسرے دو میں کے جب کہ وہ غار میں تھے، سلام ہو آپ ؓ پر۔ اے وہ ہستی کہ جس نے خرچ کیا اپنا مال سارا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں، یہاں تک کہ اتار دیا اپنی عبا کو بھی، راضی ہو اللہ تعالی آپ ؓ سے اور راضی کرے آپ ؓ کو بہتر راضی کرنا، اور بنا دے جنت کو آپ ؓ کا گھر اور مسکن اور رہنے کی جگہ اور ٹھکانا، سلام ہو آپ ؓ پر اے سب سے پہلے خلیفہ اور سر تاجِ علماء اور نبی مصطفےﷺ کے خسر اور رحمت اللہ کی ہو آپ ؓ پر اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔’’

حضرت عمر (رضی اللہ عنہ ) کی زیارت

اس کے بعد دائیں طرف ایک ہاتھ اور ہٹ کر حضرت عمر فاروق ؓ کی زیارت کریں اور یہ پڑھیں:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَاطِقًام بِالْعَدْلِ وَالصَّوَابِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاحَنَفِیَّ الْمِحْرَابِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُکَسِّرَالْاَصْنَامِط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا الْفُقَرَآءِوَالضُّعَفَآءِ وَالْاَرَامِلِ وَالْاَیْتَامِط اَنْتَ الَّذِیْ قَالَ فِیْ حَقِّکَ سَیِدُ الْبَشَرِ: ‘‘لَوْ کَانَ نَبِیٌّ مِّنْم بَعْدِیْ، لَکَانَ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ’’ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْکَ وَاَرْضَاکَ اَحْسَنَ الرِّضَا وَجَعَلَ الْجَنَّۃَ مَنْزِلَکَط وَمَسْکَنَکَ وَمَحَلَّکَ وَمَاْوٰکَط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثَانِیَ الْخُلَفَآءِ وَ تَاجَ الْعُلَمَآءِط وَصِھْرَ النَّبِیِّ الْمُصْطَفٰی وَ رَحْمَةُ اللہِ وَبَرَکَاتُهٗط

(ترجمہ) ‘‘سلام ہو آپ پر اے (حضرت) عمرؓ بن خطاب ، سلام ہو آپ ؓ پر اے انصاف اور ٹھیک بات کے فرمانے والے، سلام ہو آپ ؓ پر اے زینت دینے والے محراب کو، سلام ہو آپ ؓ پر اے غلبہ دینے والے دین اسلام کے ، سلام ہو آپ ؓ پر اے توڑنے والے بتوں کو، سلام ہو آپؓ پر اے مددگار فقیروں ، ضعیفوں ، بیوائوں اور یتیموں کے، آپ ؓ وہ ہیں کہ فرمایا  آپ ؓ کے حق میں انسانوں کے سردار ﷺ نے ، اگر ہوتا کوئی نبی میرے بعد تو البتہ ہوتا عمرﷺ بن خطاب ، راضی ہو اللہ تعالیٰ آپ ؓ سے اور راضی فرمائے آپ کو بہتر راضی فرمانااور بنا دے جنت کو آپ ؓ کا گھر اور جائے سکونت اور رہنے کی جگہ اور ٹھکانا، سلام ہو آپ ؓ پر اے دوسرے خلیفہ اور سرتاج علماء کے اور خسر نبی مصطفے ﷺ کے اور رحمت اللہ کی ہو آٖ پ پر اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔’’

پھر مسجد سے نکل کر قبلہ رُخ ہو کر درج ذیل دُعا یا کوئی بھی دعا  پڑھیں:

اَللـّٰھُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا فِیْ مَقَامِنَا ھٰذَا الشَّرِیْفِ بَیْنَ یَدَیْ سَیِّدِنَا رَسُوْلِ اللہِ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَهٗط وَلَاھَمًّا یَآ اَللہُ اِلَّا فَرَّجْتَهٗط وَلَا عَیْبًا یَآ اَللہُ اِلَّاْ سَتَرْتَهٗ ط وَلَا مَرِیْضًا یَآ اَللہُ اِلَّا شَفَیْتَهٗ وَعَافَیْتَهٗط  وَلَا مُسَاْفِرًا یَآ اَللہُ اِلَّا نَجَّیْتَهٗط وَلَا غَآئِبًا یَآ اَللہُ اِلَّا رَدَدْتَّهٗط وَلَا عَدُوًّا یَآ اَللہُ اِلَّا خَذَلْتَهٗ وَدَمَّرْتَهٗط وَلَا فَقِیْرًا یَآ اَللہُ اِلَّا اَغْنَیْتَهٗ ط وَلَا حَاْجَةً یَآ اَللہُ مِنْ حَوَآئِجِ الْدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَنَا فِیْھَا صَلَاْحٌ اِلَّا قَضَیْتَھَا وَیَسَّرْتَھَا ط اَللّٰھُمَّ اقْضِ حَوَآئِجَنَا ط وَیَسِّرْ اُمُوْرَنَاط وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَاْ ط وَتَقَبَّلْ زِیَاْرَتَنَا ط وَاٰمِنْ خَوْفَنَا ط وَاْسْتُرْ عُیُوْبَنَاط وَاْغْفِرْذُںُوْبَنَا ط وَاکْشِفْ کُرُوْبَنَا ط وَاخْتِمْ بِالصَّالِحَاتِ  اَعْمَالَنَاط وَرُدَّ غُرْبَتَنَآ اِلٰی اَھْلِنَا وَ اَوْلَادِنَا ط سَالِمِیْنَ غَانِمِیْنَ مَسْتُوْرِیْنَ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ ط مِنَ الَّذِیْنَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِم وَلَا ھُم یَحْزَنُوْنَ ط بِرَحْمَتِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط یَاْ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ط

(ترجمہ)‘‘ اے اللہ!نہ چھوڑ ہمارے لیے اس مبارک جگہ میں سامنے ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ کے کوئی گناہ، مگر تو اُسے بخش دے۔ اور نہ چھوڑ کوئی غم اے اللہ ، مگر تو اُسے مٹا دے، اور نہ چھوڑ کوئی عیب اے اللہ، مگر تو اُسے چھپا دے، اور نہ چھوڑ کوئی مریض اے اللہ ، مگر تو اُسے شفا اور عافیت دے، اور نہ چھوڑ کوئی مسافر اے اللہ، مگر اُسے سفر کی تکلیف سے نجات دے دے اور نہ چھوڑ کوئی گمشدہ اے اللہ، مگر اسے واپس فرما دے، اور نہ چھوڑ کوئی دشمن اے اللہ، مگر اسے رسوا فرما دے ، اور اس کو ہلاک کر دے۔ اور نہ چھوڑ کوئی فقیر اے اللہ مگر اُسے غنی فرما دے ، اور نہ چھوڑ کوئی ضرورت اے اللہ، دنیا کی اور آخرت کی ضرورتوں میں سے، جس میں ہماری بھلائی ہو ، مگر اُسے پورا اور آسان فرما دے، اے اللہ!پوری فرما ہماری حاجتیں اور آسان فرما دے ہمارے کام اور کھول دے ہمارے سینے، اور قبول فرما ہماری زیارت اور امن سے بدل دے ہمارے خوف کو، اور پردہ ڈالیو ہمارے عیبوں پر، اور بخش دے ہمارے گناہوں کو، اور دُور فرما دے ہماری تکالیف کو، اور خاتمہ فرما نیکیوں پر ہمارے اعمال کا، اور لوٹا دے ہمارے مسافروں کو اپنے اہل و اولاد میں صحیح و سالم ، خوشحال، پردہ پوشی کے ساتھ، اپنے نیک بندوں سے ان لوگوں میں سے کہ نہیں کوئی خوف اُن پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے، تیری رحمت سے۔ اسے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے، اے پروردگار کل جہانوں کے۔’’

خواتین کیلئے روضہ مبارک کی زیارت کے آداب

خواتین کیلئے روضۂ مبارک پر سلام پڑھنے کے تین اوقات معین ہیں اور انہی کے مطابق مسجد میں خواتین ہال سے ملحقہ دروازہ کھولا جاتا ہے۔ یہ اوقات اشراق، ظہر اور عشاء کے بعد ہیں۔ خواتین کیلئے زیارتِ روضۂ رسول پر جانے کا راستہ باب عثمانؓ (باب نمبر 25) اور بابِ علی ؓ (باب نمبر 28)کے اندر سے ہے۔ علاوہ ازیں خواتین کی نماز کی جگہ بابِ عمرؓ بن خطاب اور بابِ ملک عبدالمجیدکے اندر والے ہال میں بھی ہے لیکن وہاں سے زیارت کیلئے نہیں جایا جا سکتا ۔ سعودی حکومت کی طرف سے خواتین کو روضۂ مبارک کی حاضری اور ریاض الجنۃ میں نوافل کی ادائیگی کیلئے گروپ کی شکل میں لے جانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جو انتہائی قابلِ تحسین ہیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی زبان بولنے اور سمجھنے والی خواتین کے گروپ بنائے جاتے ہیں اور ان کی قیادت کرنے والی خواتین انہی کی زبان میں ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ ترتیب وار ایک ایک گروپ کو مسجد کے اس حصے میں لے جایا جاتا ہے جہاں سے روضہ مبارک پر سلام پڑھا جا سکتا ہے اورریاض الجنۃ میں نفل ادا کیے جا سکتے ہیں۔ اسی دوران یہ رہنما خواتین روضۂ مبارک اور مسجد نبوی  کی زیارت کے آداب، درود کے فضائل اور دیگر احکام بتاتی رہتی ہیں۔ اپنے متعلقہ گروپ میں رہتے ہوئے بغیر افرا تفری اور پریشانی کے یہ مرحلہ طے ہو جاتا ہے۔

سات ستون : یوں تو مسجد نبوی کی ہر جگہ بابرکت ہے،  مگر ریاض الجنتہ کے وہ سات ستون جنھیں سنگ مرمر کے کام اور سنہری مینا کاری سے نمایاں کر دیا گیا ہے خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہ سات ستون روضہ انور ﷺ کی مغربی دیوار کے ساتھ سفید رنگ کے ذریعہ ممتاز کیے گئے ہیں ۔

ستون حنانہ :         یہ محراب النبی ﷺ کے قریب ہے نبی کریم ﷺ اس ستون کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے یہیں وہ کھجور کا درخت دفن ہے جو لکڑی کامنبر بن جانے کے بعد آپ ﷺ کے فراق میں بچوں کی طرح رویا تھا ۔

ستون عائشہ صدیقہ :          ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری مسجد میں ایک ایسی جگہ ہے کہ اگر لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی فضلیت کا علم ہو جائے تو وہ قرعہ اندازی کرنے لگیں (طبرانی)  اس جگہ کی نشاندہی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمائی تھی اب وہاں ستون عائشہ بنا دیا گیا ہے ۔

ستون ابولبابہ:        ایک صحابیؓ حضرت ابولبابہؓ کا قصور اس جگہ معاف ہوا تھا انھوں نے اپنے آپ کو ستون کے ساتھ باندھ لیا تھا۔

ستون وفود:          اس جگہ نبی کریم ﷺ باہر سے آنیوالے وفود سے ملاقات فرماتے تھے ۔

ستون سریر :         اس جگہ نبی کریم ﷺ اعتکاف فرماتے تھے اور رات کو یہیں آپ ﷺ کے لئے  بستر بچھا دیا جاتا تھا ۔

ستون حرس:         اس مقام پر حضرت علی ؓ اکثر نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی جگہ بیٹھ کر سرکار دو عالم ﷺ کی پاسبانی کیا کرتے تھے اس کو ستون علیؓ بھی کہتے ہیں –

ستون تہجد :          نبی کریم ﷺ اس جگہ تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔

یہ تمام ستون اس حصہ مسجد میں ہیں جو حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں تھی۔جب بھی موقع ملے ان کے پاس سنن و نوافل ادا کیجئے یہ وہ متبرک مقامات ہیں جہاں نبی کریم ﷺ کی نگاہ کرم پڑ چکی ہے ۔

اصحاب صفہ رضوان اللہ علیہم اجمعین

صفہ ، سائبان اور سایہ دار جگہ کو کہا جاتا ہے قدیم مسجد نبوی کے شمال مشرقی کنارے ، مسجد سے ملا  ہوا  ایک چبوترہ تھا یہ جگہ اس وقت باب جبریل سے اندر داخل ہوتے ہی سیدھے ہاتھ کو محراب تہجد کے بالکل سامنے ہے۔ اس کی لمبائی چوڑائی  40x 40 فٹ ہے اس کے سامنے خدام بیٹھے رہتے ہیں اور یہاں لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرنا چاہیں تو مشکل ہی سے جگہ ملتی ہے۔

مسجدِ نبوی ﷺ اور گنبد خضراء

1ھ  (622ء) میں آنحضور ﷺ نے اس مسجد کی بنیاد رکھی، ابتداء میں لمبائی 90فٹ، چوڑائی 105فٹ، بلندی تقریباً10 فٹ، دیواروں کی موٹائی ڈیڑھ فٹ، تین دروازے، چھت کجھور کے پتوں کی اور فرش کچا تھا۔ فتح خیبر کے بعد 7ھ (628ء) میں آنحضور ﷺ نے توسیع کرکے لمبائی 150فٹ اور چوڑائی 150فٹ یعنی سو ہاتھ مربع کر دیا۔ مسجد سے متصل ازواجِ مطہرات کے نو حجرے تعمیر ہوئے۔

18ھ میں حضرت عمر ؓ نے لمبائی 210فٹ چوڑائی 180فٹ اور چھ دروازے بنوائے۔ 29ھ میں حضرت عثمان ؓ نے لمبائی480فٹ، چوڑائی 450فٹ کر دی اور نقش و نگار سے آراستہ کیا، قبلہ کی جانب اضافہ کیا جس کی محراب ‘‘محرابِ عثمانی’’ سے موسوم ہوئی۔ 88ھ سے 91ھ تک توسیع ولید بن عبدالملک نے لمبائی 600فٹ اور چوڑائی 486فٹ کر دی۔

161ھ سے 165ھ تک خلیفہ مہدی نے لمبائی 900فٹ اور چوڑائی540فٹ کر دی۔ پھر معتصم باللہ نے تعمیر کرائی۔ ملک ناصر نے صحن کے دالان بنوائے۔ ملک اشرف نے یہ دالان توڑ کر نئے بنوائے۔ 853ھ میں شاہ ظاہر حقیق نے روضۂ پاک اور مسجد دوبارہ بنوائی۔ 924ھ میں ملک ناصر غازی نے دوبارہ دیواریں بنوائیں۔ 980ھ (1572ء) میں سلیم خاں ثانی نے عظیم الشان تعمیر کی۔ 999ھ میں سلطان مراد نے لمبائی میں اضافہ کیا۔ 1254ھ تا 1266ھ (1838ء تا 1850ء) میں سلطان عبدالمجید نے از سرِ نو تعمیر کی، گنبد خضریٰ بنوایا، عمارت منقش گنبد نما اور آیاتِ قرآنی سے مزین کیا، انہی کے نام پر بابِ مجیدی ہے۔ ان کے بعد سلطان عبدالعزیز نے کام کی تکمیل کی۔

1812ء؍1233 ھ میں سلطان محمود نے گنبد نبوی ﷺ کو از سر نو تعمیر کرایا پہلے گنبد کا رنگ سفید تھا مگر 1255 ء میں اس گنبد پر سبز رنگ کرایا گیا اور جب ہی سے اسے گنبد خضراء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہی وہ گنبد خضراء ہے جسے عاشقان رسول ﷺ اپنے خوابوں میں دیکھتے ہیں اور قسمت والے جب وہاں پہنچ جاتے ہیں تو اس کی تجلیاں ان کے دلوں میں نور ، ان کی آنکھوں میں ایمان کی روشنی اور ان کی روح میں سرور پیدا کر دیتی ہیں ۔

مسجد قباء

مسجد نبوی سے تین  کلومیٹر کے فاصلے پر جو آبادی ہے اسے قباء کہا جاتا ہے ہجرت مدینہ کے زمانے میں یہاں انصار کے بہت سے خاندان آباد تھے حضور ﷺ نے چار دن تک قباء میں قیام فرمایا تھا اور وہیں اپنے دست مبارک سے مسجد قباء کی بنیاد رکھی تھی اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے یہی مسجد تعمیر ہوئی تھی اس مسجد کی فضیلت کا اس واقعہ سے بھی گہرا تعلق ہے۔

ایک صحیح حدیث کے مطابق مسجدِ قُباء میں دو نفل پڑھنے کا ثواب ایک مقبول  عمرہ کے برابر ہے اور   یہ حدیث مبارکہ مسجد کی محراب کے اوپر عربی میں لکھی ہوئی ہے۔

مسجد قبلتین

یہ مسجد نبوی سے تقریبا تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے یہ مسجد تاریخ اسلام کے ایک اہم واقعہ کی علامت ہے ابتدا میں مسلمان نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا کرتے تھے حضور اکرم ﷺ جب تک مکہ معظمہ میں تشریف فرما رہے یہی دستور رہا مگر آپ ﷺ نمازیں اس رخ سے ادا فرماتے تھے کہ خانہ کعبہ بھی آپ ﷺ کے سامنے رہتا مگر مدنی زندگی کے ابتدائی ایام میں مکمل طور پر بیت المقدس ہی قبلہ تھا اور تقریبا سولہ سترہ  مہینے آپ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں( بیت المقدس مسلمانوں کے لئے اس لئے  بھی مقدس تھا اور ہے کہ یہاں سے حضور اکرم ﷺ معراج کے لئے  تشریف لے گئے تھے )  لیکن اس  تمام عرصے میں حضور اکرم ﷺ کی یہ دلی تمنا رہی کہ مسلمان حضرت ابراہیمؑ کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کریں ، حضور اکرم ﷺ بار بار اس تمنا میں آسمان کی طرف دیکھتے تھے بالآخر ایک روز عین نماز کی حالت میں آیت نازل ہوئی :

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ ط ( البقرہ-  144)

(ترجمہ ) ‘‘یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو ہم اس قبلے کی طرف تمھیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ، مسجد حرام ( خانہ کعبہ) کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔’’

یہ حکم رجب یا شعبان 2 ھ میں نازل ہوا تھا  حضور اکرم ﷺ بشر بن براء بن معرورؓ کے ہاں بنو سلمہ کے محلے میں تشریف لے گئے تھے وہاں ظہر کی نماز کا وقت ہوا آپ ﷺ بنو سلمہ کی مسجد میں نماز کی امامت فرمانے کھڑے ہوئے ، دو  رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکا یک وحی کے ذریعہ تحویل قبلے کی یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ ﷺ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کے رخ پھر گئے ۔اور یہ تحویل قبلہ کی آیت مسجد کی محراب پر لکھی ہوئی ہے ۔

مسجد جمعہ

مسجد قبا سے کچھ فاصلے پر مدینہ منورہ  آباد تھا حضور اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ روانہ ہوئے تھے تو جمعہ کا روز تھا قبیلہ بنو سالم  میں پہنچے تھے کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا نماز جمعہ ادا فرمائی مدینہ منورہ میں جمعہ تھا اس جگہ جہاں آپ ﷺ نے جمعہ ادا فرمایا وہاں مسجد بنا دی گئی ہے قبا سے واپسی میں دو رکعت نفل ادا کریں  ۔

مسجد غمامہ

مسجد نبوی کے باب السلام سے باہر آ ئیں تو جنوب مغربی جانب تقریباً  پندرہ سو فٹ کے فاصلے پر چار دیواری کے باہر یہ مسجد واقع ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے یہاں 2 ھ میں پہلی دفعہ عیدین کی نماز ادا فرمائی اور نویں صدی ہجری تک عیدین کی نمازیں یہاں پڑھی جاتی رہیں۔  اس کو مسجد ِمصلّے بھی کہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے اس جگہ نمازِ استسقاء بھی پڑھائی تھی اسی وقت بادل نمودار ہوئے اور بارش شروع ہو گئی، اس لئے  اس کو مسجد غمامہ ( بادل ) بھی کہتے ہیں ۔ یہ مسجد اب بند رہتی ہے کیونکہ موجودہ مسجد نبوی کی تعمیر نو کے بعد یہ مسجد نبوی سے بہت قریب ہو گئی ہے اس لئے  یہاں نماز نہیں ہوتی ۔ اس کو حضور ِ پاک ﷺ کی یادگار کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے ۔

جنت البقیع

مسجد نبوی میں روضۂ مبارکﷺ پر درُود و سلام سے فارغ ہو کر جس دروازے سے آپ باہر جائیں گے وہ باب بقیع کہلاتا ہے اس کے بالکل سامنے جنت البقیع کا قدیم اور متبرک مشہور قبرستان ہے جو چاروں طرف سے پختہ اور اونچی چاردیواری میں گھرا ہوا ہے۔ اس کا مرکزی دروازہ مسجد نبویﷺ کی جانب  کھلتا ہے۔ خواتین کو کسی وقت بھی داخلہ کی اجازت نہیں، ان کے زیارت اور سلام پڑھنے کے لئے دروازے کے ساتھ جالیاں بنائی گئی ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر مرد اور خواتین جمع رہتے ہیں اور جنت البقیع والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں۔ جنت البقیع میں اہل بیت کے علاوہ دس ہزار صحابہ کرامؓ، ہزاروں اولیاء کرامؒ، ازواج مطہراتؓ، حضورِ پاکﷺ کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں آرام فرما ہیں۔ روایت کے مطابق قیامت میں70 ہزار ایسے نیک بندے اٹھیں گے جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں جائیں گے۔ حضور اکرمﷺ اکثر اوقات جنت البقیع تشریف لے جا کر دعائے مغفرت فرمایا کرتے تھے۔

جنت البقیع میں یہ دُعا پڑھیں، اگر اندر جانے کا موقع نہ ملے تو قبرستان کے باہر ہی یہ دُعا پڑھیں:

اَنْتُمُ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَآ اَھْلَ الْبَقِیْعِط یَآ اَھْلَ الْجَنَابِ الرَّفِیْعِط اَنْتُمُ السَّابِقُوْنَط وَنَحْنُ اِنْ شَآءَ اللہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَط اَبْشِرُوْا بِاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّارَیْبَ فِیْھَاط اَنَّ اللہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِط اٰ نَسْکُمُ اللہُ تَعَالٰی وَشَرَّفَکُمُ اللہُ تَعَالیٰ بِقَوْلِ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَهٗ ط وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُهٗ ط

‘‘سلام ہو تم پر اے اہل بقیع اے عالی بارگاہ والو! تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم ان شاء اﷲ تعالیٰ تم سے ملنے والے ہیں، خوشخبری حاصل کرو کہ قیامت آنے والی ہے، نہیں شک اس میں اور بلاشبہ اﷲ زندہ کر کے اٹھائے گا قبر والوں کو، مانوس بنا لے اﷲ تعالیٰ تم کو اور معزز فرمائے تم کو اس قول کے ساتھ کہ میں گواہی دیتا ہوں یہ، کہ نہیں کوئی معبود سوائے اﷲ کے وہ ایک ہے، نہیں کوئی شریک اُس کا اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اﷲ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔’’

مدینہ شریف سے رخصت: (الوداعیہ دُعا)

آپ مدینہ شریف سے رخصت ہوں تو دو رکعت نفل مسجد نبوی میں ادا کریں اور رسول اﷲﷺ کے روضۂ مبارک پر آئیں۔ اپنے والدین، اقرباء اور دوستوں اور تمام دشمنوں کی ہدایت و مغفرت کے لئے دُعا مانگیں اور جن جن لوگوں نے آپ سے سلام پڑھنے اور دُعا کی درخواست کی تھی اُن سب کے لئے دُعا کریں۔ حضور اکرمﷺ سے رخصتی پر آنسو بہائیں اور یہ دُعا پڑھیں:

اَلّٰلـھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِنُوْرِ وَجْھِکَ اَنْ تَغْفِرَلِیْ وَلِجَمِیْعِ اَھْلِ بَیْتِیْط وَاَحِبَّآئِیْ وَلِنَاشِرِ ھٰذِہِ الْاَدْعِیَةِ وَلِوٰلِدَیْهٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ مَغْفِرَۃً لَّاْ تُغَاْدِرُ ذَنْبًا وَّ تُدْ خِلَنَا الْجَنَّةَ جَمِیْعًا بِغَیْرِ حِسَابٍط اَللـّٰھُمَّ اَعِذْنَا جَمِیْعًا مِّنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِط وَ اَمِتْنَا وَاَمِتْھُمْ مَّعَ الْاِیْمَانِ عَلیٰ مَحَبَّتِکَ وَ مَحَبَّةِ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَسُنَّتِهٖط بِرَحْمَتِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط

ترجمہ:  ‘‘  یا اﷲ! میں دُعا کرتا ہوں تجھ سے بطفیل تیرے نور ذات کے، تو مجھے اور میرے کل خاندان اور سب دوستوں اور ان تمام دُعاؤں کے ناشر اور ان کے والدین اور اہل و عیال، کل مؤمن مردوں اور خواتین کو بخش دے اور ہم سب کو عذاب قبر سے محفوظ رکھیو، اور ایسی بخشش عطا فرما جو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑے اور ہم سب کو بغیر حساب کے جنت میں داخل فرما دے۔ اے اﷲ! ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ اور ہم سب کا ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر کر۔ اے اﷲ اپنی اور اپنے نبی پاک حضرت محمدﷺ کی محبت اور ایمان پر ہمارا خاتمہ فرما۔ اے رحم کرنے والے ہم پر رحم فرما۔’’

روضۂ مبارک پر غیر مسنون افعال سے پرہیز

رسول اللہ کے روضہ مبارک پر نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، رکوع کی طرح جھکنا، سجدہ کرنا، اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا یعنی کوئی بھی ایسا عمل جو عبادت سے مشابہت رکھتا ہو منع ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا ‘‘ یا اللہ میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔’’ (احمد) حصول برکت کیلئے قبر مبارک کی جالیوں، دیواروں، دروازوں کو چھونا، بوسے دینا، اپنے جسم سے لگانا، اپنی حاجتیں اور مرادیں کاغذ پر لکھ کر جالیوں کے اندر پھینکنا غیر پسندیدہ افعال ہیں۔

ہر نماز کے بعد درود و سلام کیلئے رسول اکرم  کے روضہ مبارک پر حاضری کا اہتمام آپ پر منحصر ہے۔ سلام پڑھ کر وہاں سے ہٹ جائیں تاکہ دوسروں کو موقع ملے۔ مزید برآں مسجد میں کہیں بھی بیٹھ کر درود پڑھ سکتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول ا نے فرمایا  ‘‘اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی گھروں میں نفل نماز پڑھو اور قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو) اور میری قبر اور مجھ پر درود بھیجو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تمہارا درود مجھے پہنچ جائے گا۔’’ (ابو دائود)

دیگر اوقات میں مسجد نبوی  کے باہر روضۂ مبارک سے ملحق دیوار کی طرف کھڑے ہو کر بھی سلام پیش کیا جا سکتا ہے۔

سات ستون

 یوں تو مسجد نبوی کا چپہ چپہ نور فشاں ہے مگر ریاض الجنتہ کے وہ سات ستون جنھیں سنگ مرمر کے کام اور سنہری مینا کاری سے نمایاں کر دیا گیا ہے خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہ سات ستون روضہ انور ﷺ کی مغربی دیوار کے ساتھ سفید رنگ کے ذریعہ ممتاز کیے گئے ہیں ۔

ستون حنانہ :         یہ محراب النبی ﷺ کے قریب ہے نبی کریم ﷺ اس ستون کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے یہیں وہ کھجور کا درخت دفن ہے جو لکڑی منبر بن جانے کے بعد آپ ﷺ کے فراق میں بچوں کی طرح رویا تھا ۔

ستون عائشہ صدیقہ :          ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری مسجد میں ایک ایسی جگہ ہے کہ اگر لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی فضلیت کا علم ہو جائے تو وہ قرعہ اندازی کرنے لگیں (طبرانی)  اس جگہ کی نشاندہی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمائی تھی اب وہاں ستون عائشہ بنا دیا گیا ہے ۔

ستون ابولبابہ:        ایک صحابیؓ حضرت ابولبابہؓ کا قصور اس جگہ معاف ہوا تھا انھوں نے اپنے آپ کو ستون کے ساتھ باندھ لیا تھا۔

ستون وفود:          اس جگہ نبی کریم ﷺ باہر سے آنیوالے وفود سے ملاقات فرماتے تھے ۔

ستون سریر :         اس جگہ نبی کریم ﷺ اعتکاف فرماتے تھے اور رات کو یہیں آپ ﷺ کے لئے  بستر بچھا دیا جاتا تھا ۔

ستون حرس:         اس مقام پر حضرت علی ؓ اکثر نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی جگہ بیٹھ کر سرکار دو عالم ﷺ کی پاسبانی کیا کرتے تھے اس کو ستون علیؓ بھی کہتے ہیں –

ستون تہجد :          نبی کریم ﷺ اس جگہ تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔

یہ تمام ستون اس حصہ مسجد میں ہیں جو حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں تھی۔جب بھی موقع ملے ان کے پاس سنن و نوافل ادا کیجئے یہ وہ متبرک مقامات ہیں جہاں نبی کریم ﷺ کی نگاہ کرم پڑ چکی ہے ۔

واپس فہرست  پر جائیں