حج کی اقسام

حجِ افراد :

یعنی حج کے دنوں میں صرف حج کی ادائیگی کے لیے احرام باندھنا اورعمرہ نہ کرنا ، اس میں قربانی واجب نہیں۔

حجِ تمتع :

ایک ہی سفر میں پہلے عمرے کا احرام باندھا ۔ طواف و سعی کے بعد حلق کر کے اس احرام سے فارغ ہوگیا۔ پھر حج کا وقت آیا تو حج کا احرام باندھا ۔کیونکہ ایک ہی  سفر میں  دو عبادتیں جمع کر نے کا  فائدہ اٹھا لیا اسے حج تمتع کہتے ہیں اور حج تمتع کرنے والے کومتمتع کہتے ہیں اور اس پر  شکرانےکی قربانی واجب ہوتی ہے۔ پاکستانی عازمینِ حج عموما حج ِتمتع ہی کرتے ہیں۔

حجِ قران :

ایک ساتھ ہی حج و عمرہ کا احرام باندھا ،پہلے عمرہ کے ارکان ادا کئے،  چنانچہ عمرے کی سعی کے بعد حلق یا قصر نہیں کیا بلکہ طواف قدوم  اور حج کی سعی کرنے کے بعدبدستور حالتِ احرام میں رہا یہاں تک کہ ایامِ حج میں حج کے ارکان ادا کر کے حلق یا قصرکرایا اور احرام سے فارغ  ہوا۔  حج قران  کرنے والےپر بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔

ایام حج:

یومِ ترویہ :     8ذو الحجہ یوم ِترویہ کہلاتا ہے۔ اِس دن عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ   کی طرف سفر کا آغاز کرتے تھے۔

یومِ عرفہ :     9  ذی ا لحجہ یومِ عرفہ کہلاتا ہے اس دن عازمینِ حج منیٰ سے عرفات کا سفر کرتے ہیں ۔ پورا دن میدان ِعرفات میں گزارا جاتا ہے اور سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ  کےسفرکا آغاز کیا جاتا ہے۔

ایام ِنحر :       10 ذو الحجہ سے 12 ذی الحجہ کے ایام کو ایام نحر کہا جاتا ہے۔

ایامِ رمی:       10ذو الحجہ سے 13ذو الحجہ کے ایام کو ایامِ رمی کہتے ہیں۔

ایامِ تشریق :9ذو الحجہ فجر سے  13ذو الحجہ عصر  تک کے ایام کو ایامِ تشریق کہا جاتا ہے۔ ان دنوں میں حاجی اور غیر حاجی جہاں بھی ہوں ہر فرض نماز کا سلام پھیرنے کے فوراً بعد تکبیرات  تشریق کہتے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں:

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ  لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ

حج کے اعمال

8 سے 12ذو الحجہ کے درمیان حج کے درج  ذیل اعمال ادا کئے جاتے ہیں (13ذوالحجہ کا دن اختیاری ہوتا ہے)۔

فرائض:         حج کے تین فرائض ہیں:

  1. احرام/نیت     وقوفِ عرفہ             3.   طواف ِزیارت

جس نے کوئی ایک فرض  بھی چھوڑ دیا اس کا حج مکمل نہ ہوگا۔ البتہ اگر کوئی شخص طواف زیارت وقت پر نہ کر سکے اور تاخیرسے کرے تو  طواف کے بعد اس کا دم بھی دینا پڑے گا۔

نوٹ: ‘‘دم’’سے مرادکم از کم ایک سال کا چھوٹا جانور ( یعنی بکرا یا بکری، دنبہ یا دنبی)یا بڑے جانور گائے یا اونٹ  کا ساتواں حصہ  ہےجو کہ حج یا عمرے کا کوئی واجب چھوڑنے یا کوئی ممنوع کام کرنےسے فدیہ کے طور پر لازم ہوتاہے ۔یہ دم  حدود حرم میں دینا لازم  ہے ۔ اور اس سے حاجی یا کسی مالدار کا کھانا جائز نہیں ۔

وَاجبات :                  حج کے واجبات یہ ہیں:

  1. وقوفِ مزدلفہ    رمیٔ  جمرات (شیطانوں کو کنکریاں مارنا)
  2. قربانی             4.   حلق /قصر
  3. سعی(طواف زیارت کے بعد) 6. طواف  وداع

احرام:

منی کے لیے حجاج کی روانگی چونکہ7ذوالحجہ کی شام سےشروع ہو جاتی ہے  لہذا اس سے پہلےحجامت’ ‏غیرضروری بالوں کی صفائی اور ناخن  کاٹنے کے بعداحرام کی نیت سے غسل ورنہ وضو کر لیں۔حج تمتع کرنے والےخواتین و حضرات  مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہ سے ہی احرام کا لباس زیب تن کر لیں۔ فرض نماز کے بعد احرام باندھنا مسنون ہےلیکن اگر فرض نماز کا وقت نہ ہوتو  دو رکعت نفل پڑھ کر بھی احرام کی نیت کی جا سکتی ہے۔ اگر نماز کے لحاظ سے مکروہ وقت ہو تو  نفل چھوڑ دیں۔

حج کی نیت

اَللـّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّی وَاَعِنِّی عَلَیْهِ وَ بَارِکْ لِی فِیْهِ نَوَیْتُ الْحَجَّ وَاَحْرَمْتُ بِهٖ لِلّٰہِ تَعَالٰی

‘‘  اے اللہ میں حج کی نیت کرتا ہوں ، پس اس کو میرے لئے آسان کر دے اور مجھ سے قبول کر لے اور اس میں میری مدد فرما۔  اور اس میں میرے لئے برکت ڈال دے۔  نیت کی میں نے  حج کی اور احرام باندھا   اللہ تعالیٰ کے لئے۔’’

یا        لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ

‘‘اے اللہ میں حج کے لیے حاضر ہوں’’

اس کے فوراً بعد خواتین آہستہ جبکہ مرد حضرات قدرے بلند آواز سے تین مرتبہ تلبیہ کہیں ، آہستہ آواز سے درود شریف پڑھیں اور دُعا  بھی مانگیں ، اب آپ پر ایک دفعہ پھر احرام کی تمام پابندیاں لازم ہو گئیں۔

منیٰ کیلئے روانگی(۱۰ذو الحجہ)

10ذی الحجہ کی صبح کی نماز فجر اور وقوف مزدلفہ کے بعد سورج طلوع ہونے سے قبل منی روانگی ہو گی۔اس دن جب عازمینِ حج مزدلفہ سے منیٰ اور پھر رمی جمرات کے لیے پیدل راستے پر چلتے ہیں توراستے میں سعودی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار عازمینِ حج کو فالتوسامان ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ کیونکہ اس سامان کی وجہ سے جمرات کے علاقے میں دوسروں کو ایذاء پہنچتی ہے اور حادثات کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ مزدلفہ سے منیٰ پہنچنے کے بعد پہلے اپنا فالتو سامان یعنی بیگ ، چٹائی اور چھتری وغیرہ اپنے خیمے میں رکھیں اور پھررمی جمرات یعنی کنکریاں مارنے جائیں۔آج حجاج کرام کا مصروف ترین دن ہے۔ منی میں آج  حجاج کے اہم افعال حج میں جمرۂ عقبہ کی رمی،قربانی اورحلق یاقصر شامل ہیں۔

جمرۂ عقبہ کی رمی: (واجب /10ذو الحجہ)

جن مقامات پر کنکریاں ماری جاتی ہیں انہیں جمرات کہتے ہیں۔ رمی کے معنی مارنا ہے اور کنکریوں کو جمار کہتے ہیں ۔ جن تین مقامات پر رمی ٔ جمار ہوتی ہے انہیں جمرۂ عقبہ، جمرۂ وسطی اور جمرۂ اولیٰ یا اُخریٰ کہتے ہیں۔ 10ذو الحجہ کومنیٰ پہنچ کر صرف جمرۂ عقبہ  کی رمی کرنا  واجب ہے۔ مسنون وقت طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک ہے لیکن سعودی علماء کے فتاوٰی کے مطابق موجودہ حالات کے پیشِ نظر مغرب تک بلکہ مغرب کے بعد بھی بلا کراہت جائزہے (ضعیف، عورتوں اور بچوں کی طرف سے وکیلِ رمی کر سکتے ہیں)۔ رمی سے پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں  رمی  کیلئے کنکریاں مٹر کے دانوں کے برابر ہوں۔ بڑے بڑے پتھر نہیں مارنے چاہئیں اور نہ ہی جوتے یا کوئی اور چیز۔ رمی کے وقت اکثر حادثات ہوتے ہیں، یہاں بہت احتیاط کریں اور اپنے ساتھ سامان لے کر مت جائیں۔ جس راستے سے جا رہے ہوں اس پر واپس نہ مڑیں۔ رش کے باعث راستے میں کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے بھی گریز کریں۔ رمی کرتے وقت خیال رکھنے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جمرے سے تھوڑا  دور سے ہوتے ہوئے  اس کے اگلے  حصے میں جا کر رمی کریں وہاں عموما  بھیڑ بہت کم ہوتی ہے۔

رمی ٔ جمار کی دُعا:          رمی ٔ جمرات کے وقت دائیں ہاتھ سے ہر کنکری مارتے وقت بِسْم اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ کہنا مسنون ہے۔

عرفات کیلئے روانگی (۹ذو الحجہ )

9ذو الحجہ کی صبح، طلوع آفتاب کے بعد عرفات کیلئے روانہ ہونا ہے۔ انتہائی مجبوری یا معلم کے انتظام کی صورت میں فجر سے قبل پہنچ جانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ راستے مین تلبیہ، تکبیر، تہلیل کرتے رہیں۔ گو کہ عرفات پہنچنے کا وقت ظہر تک ہے تاہم رش کی وجہ سے دیر ہو جائے تو پریشان نہ ہوں۔

عرفات میں خطبہ ٔ حج

جو افراد مسجدِ نمرہ میں جا سکتے ہیں وہ مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھیں اور جو نہ جا سکیں وہ اپنے خیموں میں ہی جماعت کروا لیں یا اپنی نماز پڑھ لیں۔ میدانِ عرفات میں مسجدِ نمرہ میں حج کا خطبہ دیا جاتا ہے۔ وہاں ظہر اور عصر کی نمازیں ملا کر پڑھی جائیں گی، نمازیں قصر ہوں گی۔ ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ۔ دونوں نمازوں کے درمیان کوئی سنت اور نفل نہیں پڑھنے۔ (حنفی مسلک کے تحت خیموں میں نماز کی صورت میں ظہر اور عصر کی نمازیں الگ الگ اپنے اپنے اوقات میں پڑھی جائیں گی۔ )

وقوفِ عرفات (فرض)

ظہر اور عصر کی نماز پڑھنے کے بعد مغرب تک قبلہ رُو ہو کر دُعائیں مانگیں اسے وقوفِ عرفات کہتے ہیں۔ ہاتھ اُٹھا کر مانگنا مسنون ہے۔ بیماری، ضعف اور بڑھاپے کی وجہ سےدعا   بیٹھ کربھی کر سکتے ہیں۔تھک جانے کی صورت میں ذرا دیر بیٹھ جائیں اور پھر کھڑے ہو جائیں۔ عرفات میں آرام کی نیت سے اور بے کار وقت نہ گزاریں اور نہ ہی زیادہ کھانے پینے میں مشغول ہوں  اگر کوئی شخص مغرب سے ذرا دیر پہلے بھی عرفات پہنچ گیا  تو اسکا وقوف ہو گیا۔ حجاج کیلئے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ممنوع ہے۔عرفات کا وقوف حج کا لازمی رکن ہے چنانچہ یہ فوت ہو جائے تو حج ادا نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے جو لوگ بیمار ہو جاتے ہیں اور ہسپتال میں ہوتے ہیں انہیں سعودی حکومت کی طرف سے ایمبولینس کے ذریعے عرفات پہنچایا جاتا ہے۔ انتہائی عذر کی صورت میں 10 ذو الحجہ کی فجر سے پہلےپہنچ جانے والے شخص کا وقوف بھی ہوجاتا ہے۔

میدانِ عرفات کی دُعا:

لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيءٍ قَدِیْرٌ ط

‘‘اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کے لئے  ہے، حمد کے لائق وہی ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔’’

مزدلفہ کیلئے روانگی

9ذو الحجہ کوغروبِ آفتاب کے بعدنمازِ مغرب پڑھے بغیر پیدل، بس یا ٹرین  کے ذریعےمیدان عرفات  سے مزدلفہ کیلئے روانگی شروع ہوتی ہے۔مغرب کی نماز عرفات میں نہیں پڑھنی خواہ روانگی میں دیر ہو جائے۔

مزدلفہ میں قیام (واجب):

مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاءکے وقت  میں اکٹھی کر کے پڑھنی ہیں۔   جس وقت بھی مزدلفہ پہنچیں اطمینان سے نمازیں ادا کریں اور مزدلفہ کی رات آرام کریں، یہی مسنون ہے۔ رمی کیلئے مٹر کے دانوں کے برابر کم از کم 70کنکریاں اکٹھی کر لیں۔ (10ذی الحجہ کیلئے 7کنکریاں، 11اور 12ذی الحجہ کیلئے 21, 21اور اگر 13ذی الحجہ کو بھی رمی کرنی ہے تو مزید 21کنکریاں)۔10ذی الحجہ کو صبح فجرکی نماز کے بعد، کچھ دیر قبلہ رُو کھڑے ہو کر دُعائیں مانگنا وقوفِ مزدلفہ کہلاتا ہے۔

منیٰ کیلئے روانگی (۱۰ذو الحجہ)

10ذی الحجہ کی صبح کی نماز فجر اور وقوف مزدلفہ کے بعد سورج طلوع ہونے سے قبل منی روانگی ہو گی۔

جمرات  :

جمرات لفظ جمرہ کی جمع ہے وادی منی کے مغربی حصے میں جمرات کو ظاہر کرنے کے لئے  ایک بہت بڑی چار منزلہ عمارت بنائی گئی ہے یہ عمارت مسجد خیف کے قریب خالد کبری سے تقریبا ایک کلو میٹر کے فاصلے پر منی سے مکہ مکرمہ کی طرف واقع ہے یہاں گراؤنڈ فلور سمیت پانچ منازل پر بیک وقت رمی کی جا سکتی ہے ہر منزل پر رمی کے لئے  جانے کے مختلف راستے ہیں جمرات کی عمارت میں داخل ہونے والے راستے اس عمارت سے منی کی طرف ہیں اور باہر نکلنے والے راستے اس سے مکہ مکرمہ کی طرف ہیں عمارت کے اندر تین جمرات ہیں ان کے نام جمرہ صغرہ ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ ہیں ، عمارت میں داخل ہونے کے تقریبا 150 میٹر بعد سب سے پہلے جمرہ صغریٰ ( چھوٹا جمرہ ) ہے اس کے  150 میٹر بعد جمرہ وسطیٰ ( درمیانہ جمرہ ) اور پھر اس کے 190 میٹر کے فاصلے پر جمرہ عقبہ ( بڑا جمرہ)  واقع ہے-

حجاج کو سعودی عرب میں قیام کے دوران اپنے گروپ کے ساتھ رہنا چاہیے اور رمی کے لیے مکتب کی طرف سے دیے گئے اوقات کی سختی سے پابندی کریں۔ حجاج کرام کی رمی کے لیے روانگی کے وقت مکتب اور معاونین کا عملہ حجاج کرام کو منظم رکھنے کے لیے موجود ہونا چاہیے۔ اس سے 10 ذی الحجہ کو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے میں مدد ملے گی۔

معذور، ویل چیئر پر سوار ، اور بچے رمی کے لیے شریعت کے مطابق اپنی جگہ اپنے گروپ کے مرد حضرات میں سے کسی کو اپنا وکیل بنا سکتے ہیں۔ سعودی تعلیمات میں مشورہ دیا گیا ہے کہ 50 فیصد حجاج کو 13 ذی الحجہ تک منی میں رہنا چاہیے۔ مکتب کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے اور حجاج کو مکاتب کے شیڈول کے مطابق مکہ مکرمہ کی عمارتوں کی طرف روانہ کیا جائے گا۔

جمرۂ عقبہ کی رمی: (واجب ؍10ذی الحجہ)

جن مقامات پر کنکریاں ماری جاتی ہیں انہیں جمرات کہتے ہیں۔ رمی کے معنی مارنا ہے اور کنکریوں کو جمار کہتے ہیں ۔ جن تین مقامات پر رمی ٔ جمار ہوتی ہے انہیں جمرۂ عقبہ، جمرۂ وسطی اور جمرۂ اولیٰ یا اُخریٰ کہتے ہیں۔ 10ذو الحجہہ کومنیٰ پہنچ کر صرف جمرۂ عقبہ  کی رمی کرنا واجب ہے۔ مسنون وقت طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک ہے لیکن علماء کے فتاوٰی کے مطابق موجودہ حالات کے پیشِ نظر مغرب تک بلکہ مغرب کے بعد بھی بلا کراہت جائزہے (ضعیف، عورتوں اور بچوں کی طرف سے وکیلِ رمی کر سکتے ہیں)۔ رمی سے پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں (تلبیہ حج کے  احرام کی نیتکرنے کے بعد شروع کیا جاتا ہے اور اس مقام پر تلبیہ پڑھنا ختم ہو جاتا ہے)۔ رمی  کیلئے کنکریاں مٹر کے دانوں کے برابر ہوں۔ بڑے بڑے پتھر نہیں مارنے چاہئیں اور نہ ہی جوتے یا کوئی اور چیز۔ رمی کے وقت اکثر حادثات ہوتے ہیں، یہاں بہت احتیاط کریں اور اپنے ساتھ سامان لے کر مت جائیں۔ جس راستے سے جا رہے ہوں اس پر واپس نہ مڑیں۔ رش کے باعث راستے میں کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے بھی گریز کریں۔

رمی ٔ جمار کی دُعا:          رمی ٔ جمرات کے وقت دائیں ہاتھ سے ہر کنکری مارتے وقت     بِسْمِ اللہِ    اَللہُ اَکْبَرْ کہنا مسنون ہے۔

جمرات سے متعلق اہم نکات درج ذیل ہیں :

پاکستانی عازمینِ حج منی سے جمرات کی طرف پیدل جاتے ہوئے طریق  المشاۃ1 (پیدل چلنے والا راستہ ) طریق الجوہرہ  یا طریق سوق العرب سے گزرتے ہیں اگر ٹرین کے ذریعے جائیں تو منی اسٹیشن 3پر اترتے ہیں ۔

            منی سے جمرات کو آنے والی تمام سڑکیں عازمینِ حج کو جمرات عمارت کی مختلف منازل پر لے جاتی ہیں طریق الجوھرہ  اور طریق سوق العرب پر جانے والے حجاج گراؤنڈ فلور پر رمی کرتے ہیں۔ طریق المشاۃ 1 ( پیدل چلنے والا راستہ )  ایک ڈھلوان کے ذریعے پہلی منزل پر جاتا ہے اور ٹرین پر جانے والے حضرات بالائی منزل پر رمی کرتے ہیں۔

            اگر عازمینِ حج طواف زیارت کرنے کے بعد مکہ مکرمہ سے واپسی پر پیدل چلنے والا راستہ استعمال کریں تو تقریبا 6 کلو میٹر چلنے کے بعد وہ جمرات کے پاس پہنچتے ہیں اگر کسی نے اس دن کی رمی کرنا ہو تو اسی راستے پر بنے ہوئے ڈھلوان راستے عازمینِ حج کو جمرات عمارت کی دوسری منزل پر لے جاتے ہیں دوسرے فلور پر رمی کرنے کے بعد اگر عازمینِ حج عزیزیہ جانا چاہیں تو دوسری منزل کے مخرج سے نکل کر ایک سرنگ کا راستے استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی بلڈنگ میں جا سکتے ہیں۔

            جمرات عمارت کی تیسری منزل پاکستانی عازمینِ حج کے زیر استعمال نہیں آتی ، اس منزل پر آنے والے راستے منی کے اس حصے سے آتے ہیں جہاں صرف دوسرے ممالک کے عازمینِ حج رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

            ٹرین کے ذریعے رمی جمرات کو آنے والے عازمینِ حج منیٰ سے اپنے نزدیکی ریلوے اسٹیشن یعنی منی اسٹیشن 1 یا منی اسٹیشن 2 سے ریل پر سوار ہوتے ہیں اور منی اسٹیشن 3 ( جو جمرات کے قریب ہے ) پر اتر جاتے ہیں یہاں سے ایک ڈھلوان نما پل پر تقریبا 600 میٹر پیدل چلنے کے بعد وہ جمرات عمارت کی بالائی منزل پر پہنچتے ہیں وہاں تینوں جمرات پر باری باری  رمی کر لینے کے بعد اپنے بائیں ہاتھ بنے ہوئے پل کے اوپر سے جانے والا راستے اختیار کرتے ہوئے واپس منی اسٹیشن 3 پر چلے جاتے ہیں ۔

            بالائی منزل پر رمی سے فارغ ہو کر پل والا راستہ اختیار کرنے والے بزرگ خواتین و حضرات اور بچوں کو اسٹیشن پہنچانے کے لئے  چھوٹی گاڑیوں  کا بندوبست بھی ہوتا ہے پیدل چلنے والے عازمینِ حج طریق الملک عبدالعزیز کو پار کرتے ہیں اور پھر آٹو میٹک سیڑھیوں کے ذریعے اسٹیشن جانے والے راستے پر جا سکتے ہیں ۔

            رمی جمرات کے دونوں اطراف سے کی جا سکتی ہے لیکن اگر آپ رمی کرتے وقت جمرے کی طرف اس طرح رخ کریں کہ منی آپ کے دائیں ہاتھ کی طرف اور مکہ مکرمہ بائیں ہاتھ کی طرف ہو تو آپ کا یہ عمل سنت کے مطابق ہوگا اور جمرات سے واپسی کے لئے  اپنے الٹے ہاتھ والا راستہ لینا آسان ہوگا یہ راستہ طریق الجوھرۃ ،  طریق سوق العرب ، زون 5 اور زون 7 میں رہنے والے حجاج کو آسانی سے اپنے خیموں کی طرف لے جائے گا اگر منی کے ان علاقوں میں رہنے والے حجاج نے واپسی پر جمرات کے دائیں طرف سے آنے والا راستہ اختیار کیا تو وہ انہیں اپنے خیموں سے زیادہ دور لے جائے گا ۔

            رمی کرتے وقت خیال رکھنے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جمرے سے تھوڑا دور سے ہوتے ہوئے اس کے اگلے حصے میں جا کر رمی کریں وہاں عموما بھیڑ بہت کم ہوتی ہے۔

            جمرات سے واپسی پر بائیں طرف نکلنے والے حضرات طریق 50 الملک فیصل پر آ کر نکلیں گے اور مسجد خیف کے پاس سے گزر کر کبری ملک خالد کے نیچے سے گزریں گے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ آپ جس راستے سے واپس جا رہے ہیں آپ نے رمی کے لئے  آتے وقت و ہ راستہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ جس راستے سے آپ رمی کے لئے  آئے تھے وہ اب آپ کے بائیں ہاتھ کی طرف ہے کیونکہ بھگدڑ اور دھکم پیل سے بچنے کے لئے  رمی کے لئے  آنے والے راستوں پر واپس جانا سعودی حکام کی طرف سے بند کر دیا جاتا ہے اب آپ کو کافی دور تک واپسی کے لئے  دوسرا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور بائیں طرف جانے کے لئے  جو بھی پہلی رابطہ سڑک کھلی ملے نہایت ذہانت کے ساتھ اسے اختیار کرتے ہوئے اپنی مطلوبہ سڑک یعنی طریق الجوھرہ  یا طریق سوق العرب کی طرف جائیں لہذا خیال رکھیں کہ جمرات سے رمی کرنے کے بعد اپنے خیمے میں واپس جاتے ہوئے جوں ہی آپ مسجد خیف کے پاس سے ہو کر کبری خالد کے نیچے سے گزرتے ہیں تو بائیں طرف اسی کبری کے اوپر جانے کے لئے  ڈھلوان بنی ہے اس سے کبری کے اوپر جائیں اور تھوڑی دیر کبری پر سیدھے رخ چلنے کے بعد پہلی ہی ڈھلوان سے دائیں سے طرف نیچے اتر جائیں اس طرح آپ طریق الجوھرہ پر پہنچ جائیں گے اور پھر یہاں سے اگر آپ کو طریق سوق العرب پرجانا ہے تو رابطہ سڑک 209 استعمال کرتے ہوئے آپ اپنی منزل مقصود پر جا سکتے ہیں ۔

            زون نمبر6  میں کویتی مسجد کے آس پاس رہائش پذیر عازمینِ حج رمی سے فارغ ہونے کے بعد واپسی پر اپنے دائیں ہاتھ والا راستہ اختیار کریں اور طریق الملک فہد پر سے ہوتے ہوئے اپنے خیموں میں پہنچیں ۔

            رمی کرنے کے بعد اگر آپ جمرات بلڈنگ کے دائیں طرف سے باہر نکلیں گے تو آپ طریق الملک فہد پر چلتے ہوئے کبری ملک ملک خالد کی طرف بڑھیں گے جس راستے سے آپ رمی کے لئے  جمرات پر آتے تھے اب واپس اس پر جانے کے لئے  کبری  ملک خالد کے قریب پہنچ کر ایک ڈھلوان نما پل کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کبری ملک خالد کے اوپر چلے جائیں پل کے اوپر پہنچ کر تھوڑا سیدھے ہاتھ کی طرف چلیں اور دائرہ نما ڈھلوا ن پر چلتے ہوئے پل سے نیچے اتر جائیں یوں آپ سڑک نمبر 56 طریق الجوھرہ پر پہنچ کر اپنے خیموں کی طرف جا سکتے ہیں ۔

جمرۂ عقبہ کی رمی: (واجب /10ذو الحجہ)

جن مقامات پر کنکریاں ماری جاتی ہیں انہیں جمرات کہتے ہیں۔ رمی کے معنی مارنا ہے اور کنکریوں کو جمار کہتے ہیں ۔ جن تین مقامات پر رمی ٔ جمار ہوتی ہے انہیں جمرۂ عقبہ، جمرۂ وسطی اور جمرۂ اولیٰ یا اُخریٰ کہتے ہیں۔ 10ذو الحجہ کومنیٰ پہنچ کر صرف جمرۂ عقبہ  کی رمی کرنا  واجب ہے۔ مسنون وقت طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک ہے لیکن سعودی علماء کے فتاوٰی کے مطابق موجودہ حالات کے پیشِ نظر مغرب تک بلکہ مغرب کے بعد بھی بلا کراہت جائزہے (ضعیف، عورتوں اور بچوں کی طرف سے وکیلِ رمی کر سکتے ہیں)۔ رمی سے پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دیں  رمی  کیلئے کنکریاں مٹر کے دانوں کے برابر ہوں۔ بڑے بڑے پتھر نہیں مارنے چاہئیں اور نہ ہی جوتے یا کوئی اور چیز۔ رمی کے وقت اکثر حادثات ہوتے ہیں، یہاں بہت احتیاط کریں اور اپنے ساتھ سامان لے کر مت جائیں۔ جس راستے سے جا رہے ہوں اس پر واپس نہ مڑیں۔ رش کے باعث راستے میں کھڑے ہونے یا بیٹھنے سے بھی گریز کریں۔ رمی کرتے وقت خیال رکھنے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جمرے سے تھوڑا  دور سے ہوتے ہوئے  اس کے اگلے  حصے میں جا کر رمی کریں وہاں عموما  بھیڑ بہت کم ہوتی ہے۔

رمی ٔ جمار کی دُعا:          رمی ٔ جمرات کے وقت دائیں ہاتھ سے ہر کنکری مارتے وقت بِسْم اللہِ اَللہُ اَکْبَرْ کہنا مسنون ہے۔

قربانی (واجب ؍10ذو الحجہ)

قربان گاہ پر جا کر خود قربانی کرنا آج کل نہایت مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔ وزارتِ مذہبی امور  نے عازمینِ حج کی سہولت کیلئے حج درخواست کے ساتھ قربانی کی رقم کی وصولی کا بندوبست کیا ہے جس کے کوپن حجاج کو سعودی عرب میں ان کی رہائش گاہوں پر حج سے پہلے دے دیئے جاتے ہیں۔ اور قربانی کا وقت بھی بتا دیا جاتا ہے۔ اس وقت تک انتظار  کرنےکے بعد حلق یا قصر کروایا جائے۔ نیز جو عازمینِ حج سعودی عرب میں اپنے طور پر قربانی کرنا چاہیں یا کسی وجہ سے دَم کی ادائیگی کرنا چاہیں ان کی سہولت کیلئے حرم کے باہر سعودی اداروں کے مخصوص کاؤنٹرز پر بھی رقم جمع کروا کر قربانی ؍ دَم کے ٹوکن حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

حلق یا قصر(واجب،۱۰ذو الحجہ)

جمرۂ عقبہ (بڑا شیطان)کی رمی سے واپس آ کر قربانی کے بعد حلق (سر منڈوانا) یا قصر (پورے سر کے بال ایک انگلی کے پور کے برابر کتروانا) کروا لیں۔ اگر پہلے عمرہ کے بعد حلق کروایا تھا پھر بھی دوبارہ اُسترا پھروانا ہو گا ۔ خواتین کیلئے سر منڈوانا جائز نہیں،  انگلی کے  ایک پوریا انچ  یا اس سے کچھ زیادہ سارے یا کم از کم چوتھائی بالوں کی چٹیا پکڑ کر  کٹوائیں۔ حلق یا قصر کے بعد ناخن بھی ترشوانا مستحب ہے۔

نوٹ:      مرد حضرات حجام کی دوکانوں پر جاکر حلق یا قصرکرائیں

احرام کو کھول کر عام لباس پہننا (10ذی الحجہ)

حلق یا قصر کے بعد احرام کا لباس تبدیل کر کے عام لباس پہن لیں۔ نہا دھو کر میل کچیل صاف کرلیں۔ اب احرام کی دیگر پابندیاں ختم ہو گئیں سوائے ازدواجی تعلقات کی ادائیگی کے، جس کی پابندی طوافِ افاضہ یا طوافِ زیارت کے بعد ختم ہو گی۔ (حج کے دوران اُس دن  عید کی نمازنہیں پڑھنی ہوتی ۔حجاج کےلیئے عید منانے کا کوئی تصور نہیں۔)

طواف زیارت /طوافِ افاضہ کیلئے روانگی (فرض؍10ذو الحجہ)

قرآن پاک میں ایک جگہ  ارشاد ہے:

(ترجمہ): ‘‘اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں (کی قربانی) پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں پھراپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔’’   (الحج28- 29)

‘‘میل کچیل دُور کریں ’’   یعنی یومُ النَّحر(10ذی الحجہ) کو قربانی سے فارغ ہو کر حجامت کرائیں ، نہائیں / دھوئیں۔

‘‘اس قدیم گھر کا طواف کریں’’  سے مراد طواف ِ زیارت ہے جو  یومُ النَّحرکو قربانی کرنے اور احرام کھول دینے کے بعد کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ طوافِ زیارت اپنے روزمرہ کے کپڑوں میں کیا جاتا ہے۔ طوافِ زیارت کا افضل وقت دسویں ذو الحجہ ہے اوریہ بارھویں تاریخ سورج غروب ہونے تک کر لیا جائے تو جائز ہے اور اگر بارھویں تاریخ گزر گئی اور طوافِ زیارت نہیں کیا تو تاخیر کی وجہ سے دم دینا واجب ہو گا اور طواف بھی کرنا پڑے گا۔ یہ طواف کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا اور نہ اس کا کوئی بدل دے کر ادا ہو سکتا ہے، بلکہ آخر عمر تک اس کی ادائیگی فرض رہتی ہے اور جب تک اس کو ادا نہیں کیا جائے گا ،بیوی سے متعلق پابندیاں برقرار رہیں گی۔آپ نے جب طوافِ زیارت کر لیا تو اب ازدواجی تعلقات سمیت احرام کی تمام پابندیاں ختم ہو گئیں۔  اب آپ کے لئے  جو کچھ حالت احرام میں حرام تھا وہ سب حلال ہو گیا۔

محترم خواتین کے لئے  کچھ ایسی قدرتی حالتیں ہوتی ہیں جو انہیں فطری طور پر پیش آتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے لئے  مسجد میں داخل ہونا، نماز پڑھنا اور تلاوتِ قرآن ممنوع ہو جاتا ہے ۔ اگر حج میں ایسی صورت پیش آ جائے تو وہ حج کے تمام امور انجام دیں۔ صرف طواف اس وقت تک نہ کریں جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں۔ اس تاخیر سے ان پر دم واجب نہیں ہوتا اور نہ کسی طرح کا گناہ ہوتا ہے۔

طواف زیارت کے بعد صفا و مروہ کے درمیان کی سعی (واجب)

طوافِ زیارت کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا  واجب ہے۔ یہ سعی آپ بغیر احرام کے اپنے روز مرّہ کے کپڑوں میں کریں گے کیونکہ احرام اس سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ اب آپ مکمل طور پر احرام کی پابندیوں سے فارغ ہو گئے۔

طواف و سعی سے فارغ ہو کر پھر منی چلے جائیں، رات ہر حالت میں منٰی ہی میں گزارنی ہے چاہے رات کو کسی بھی حصے میں طواف سے فارغ ہوں۔ طوافِ زیارت کے بعد دو رات اور دو دن منٰی میں قیام کرنا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’یہ گنتی کے چند روز ہیں ، جو تمھیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں ، پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ یہ دن اس نے ‘‘تقوی’’کے ساتھ بسر کیے ہوں،اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔’’  (البقرۃ: 203)

یعنی ایام تشریق میں منٰی سے مکے کی طرف واپسی خواہ 12ذی الحجہ کو ہو یا 13ذی الحجہ کو ، دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں۔ اہمیت اس کی نہیں کہ تم کتنے دن ٹھہرے،  بلکہ اس بات کی ہےکہ جتنے دن ٹھہرے ان میں اللہ کا ذکر کرتے رہے یا صرف سیرو تفریح یا فضول باتوں میں وقت ضائع کیا۔

11ذی الحجہ حج کا چوتھا دن:(منیٰ میں قیام۔ رمی ،واجب)

اگر آپ کسی وجہ سے یا زیادہ ہجوم کی وجہ سے دس تاریخ کو قربانی یا طوافِ زیارت نہیں کر سکے تو  آج کر لیں۔گیارہ ، بارہ ، تیرہ ذو الحجہ کو ‘‘ ایامِ رمی’’   یعنی (شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے دن) کہتے ہیں۔ اس لئے  ان دنوں میں رمی ہی وہ عبادت ہے جس کے لئے  منٰی میں قیام کرنا سنتِ مُوکدّہ ہے اور بعض علماء کے نزدیک واجب ہے اور منٰی سے باہر مکہ مکرمہ یا کسی اور جگہ رات گزارنا ممنوع ہے۔

منٰی کی بڑی مسجد سے جس کا نام مسجدِخیف ہے، اگر آسانی سے ہو سکے اور آپ مسجد کے قریب قیام پذیر ہیں تو زوال کے بعد ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ مسجد خیف میں یا اپنی قیام گاہ پر ادا کریں اور رمی (کنکریاں مارنے) کے لئے  نکل جائیں۔ آج کے دن یعنی گیارہ ذو الحجہ کو تین جمروں کی رمی کرنا ہے۔ آج رمی (کنکریاں مارنے) کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہو کر غروبِ آفتاب تک ہے۔ اور اب مغرب کے بعد بھی جائز ہے، صبح صادق سے پہلے تک۔ راستہ میں سب سے پہلے‘‘جمرہ اُولیٰ’’   آئے گا، بالکل اسی طرح جس طرح جمرہ عقبہ کی رمی کی تھی، اس پر سات کنکریں ماریں اور ہر کنکری  پر بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر پڑھیے۔ رمی کے بعد ذرا بائیں جانب کو ہٹ کر قبلہ رُخ کھڑے ہو کر دُعا کریں۔ توبہ و استغفار اور تسبیح و ذِکر کے بعد درود شریف پڑھیں۔ اپنے لئے  دُعا مانگیں، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب کے لئے  دُعا مانگیں۔ اگر رش زیادہ ہو تو آگے بڑھ جائیں۔ اور اس کے بعد‘‘جمرہ وُسطٰی’’   پر آ ئیں اور اسی طرح سات کنکریاں اس کو ماریں جس طرح ‘‘جمرہ اُولیٰ’’  پر ماری ہیں اور ذرا بائیں جانب کو ہٹ کر قبلہ رُخ ہو کر دُعا مانگیں اور اتنی دیر ہی ٹھہریں جتنی دیر‘‘جمرہ اُولیٰ’’  پر ٹھہرے تھے۔ اس کے بعد‘‘ جمرہ عقبہ’’  پر آ ئیں ۔ اسی طرح سات کنکریاں اس کو بھی ماریں جس طرح پہلے ماری تھیں۔ مگر اس جمرہ پر ٹھہرنے یا دُعا مانگنے کی کوئی سند نہیں ملتی۔ اس کے بعد سیدھے اپنی قیام گاہ پر چلے جائیں کیونکہ رسول اللہ  ﷺ  نے ایسا ہی کیا تھا۔

12ذی الحجہ۔ حج کا پانچواں دن:(قیامِ منیٰ- رمی ،واجب)

اگر آپ نے قربانی یا طوافِ زیارت گیارہ ذو الحجہ کوبھی نہیں کیا تو آج کر سکتے ہیں۔ نیز آج کا مخصوص عمل تینوں جمرات کو زوال کے بعد رمی کرنا (کنکریاں مارنا) ہے۔ بالکل اسی ترتیب سے اور اسی طریقے سے جس طرح آپ کل کر چکے ہیں۔

گیارہ اور بارہ تاریخ کو رمی کا وقت زوال کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں۔زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک جائز ہے لیکن بے پناہ ہجوم کی وجہ سے اگر آپ رمی نہ کر سکیں تو مغرب کے بعد صبح صادق سے پہلے تک جائز ہے (آج کل بعض عرب علمائے کرام نے شدید بھیڑ  کی صورت میں زوال سے پہلے بھی رمی کا فتوٰی دیا ہے)، نیز بوڑھوں ، بیماروں اور خواتین  کے لیے رات کے وقت ہی رمی کرنا بہتر ہے، چونکہ ہجوم کم ہوتا ہے۔

بارہ ذو الحجہ  کی رمی کے بعد تیرہ کی رمی کے لئے  منٰی میں مزید قیام کرنے اور نہ کرنے کا  آپ کو اختیار ہے۔ آپ چاہیں تو  آج  بارہ   تاریخ  کی  رمی سے  فارغ  ہو کر مکہ معظّمہ جا سکتے  ہیں بشرطیکہ غروبِ  آفتاب سے قبل  آپ منٰی سے نکل جائیں۔  اگر  بارہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے آپ منٰی سے نہ نکل سکے تو اب منٰی سے جانا مکروہ ہے ۔ اگر آپ 13ذو الحجہصبح صادق تک منی میں رہے اور   رمی کے بغیر چلے گئے تو دَم دینا پڑے گا۔ (آپ کو چاہیٔے کہ اب بارہ کی رات منٰی ہی میں گزاریں  اور 13ذو الحجہ  کو تینوں جمرات کی  رمی کر کے  مکہ معظمہ جائیں)۔

12ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کے درمیان منی سے ایک بار پھر یہ قافلے مکہ معظّمہ کی جانب رواں دواں ہوں گے۔ وہ سب اپنی خوش بختی پر نازاں ہیں، وہ اس بات پر شاداں ہیں کہ انھوں نے اللہ کے حکم پر ، اپنی زندگی کے یہ قیمتی شب و  روز تقویٰ کے ساتھ گزارے ۔ اب حج کے تمام ارکان ادا  ہو چکے ہیں۔ صرف طوافِ وداع باقی رہ گیا ہے اور ماشاء اللہ حج کی سعادت عظمیٰ آپ کو حاصل ہو چکی ہے۔

سعودی ہدایات میں مشورے کےمطابق50 فیصد حجاج کو 13 ذی الحجہ تک منی میں رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مکتب کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے لہذا   حجاج کو مکاتب کے شیڈول کے مطابق مکہ مکرمہ کی عمارتوں کی طرف روانہ کیا جائے گا۔

طواف وداع

میقات سے باہر  رہنے والوں پر واجب ہے کہ جب وہ مکہ معظمہ سے رخصت ہونے لگیں تو رُخصتی کا طواف کریں اور یہ حج کا آخری واجب ہے، آپ کا حج  ‘‘ حج اِفراد‘‘  ہو’’ قِران ‘‘ ہو  یا ‘‘تمتع‘‘ ہر صورت میں آپ پر طوافِ ودا ع واجب ہے۔

اگر آ پ میقات سے باہر رہنے والے ہیں اور طوافِ زیارت کے بعد اگر آپ نے نفلی طواف بھی کر لیا ہے، تو طوافِ وداع ہو گیااور اگر طوافِ وداع کے بعد کسی ضرورت سے مکہ میں ٹھہر گئے تو چلتے وقت طواف ِ وداع دوبارہ کر لینا مستحب ہے۔ طواف وداع کا وقت طوافِ زیارت کے بعد شروع ہو جاتا ہے اور اختتام کا کوئی وقت مقرر نہیں ، جب تک مکہ میں مقیم ہیں یہ طواف کر سکتے ہیں۔ طوافِ  وداع میں رمل نہ کریں اور طواف کے بعد دو رکعت  واجب الطواف پڑھیں، اس کے بعد خوب سیر ہوکر زم زم پئیں اور اپنے سینہ اور جسم پر لگائیں، اگر ہو سکے تو ملتزم سے چمٹ کر اور ممکن ہو تو خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر روتے ہوئے نہایت عاجزی سے دُعا مانگیں  اور  اللہ اکبر کہہ کر خانہ کعبہ سے جدائی پر اظہارِ افسوس کریں۔

اس آخری طواف کے موقع پربھی جو کچھ چاہیں مانگیں۔ دل کھول کر اپنے لئے  دعائیں مانگیں، مغفرت ، تندرستی ، سلامتی ، ایمان، حج اور کاروبار میں برکت، خاتمہ بالخیر ، غرض جو بھی مرادیں ہوں ، اپنے لئے  اور اپنے رشتہ داروں کے لئے  اور سب جاننے والوں اور پوری امّت کیلئے مانگیں۔

اَلحمدللہ حج  کےسارے کام انجام پا گئے۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ کو زندگی کا اتنا بڑا اعزاز بخشا۔ اپنے گھر میں بلایا ، اپنے در کو چھونے کا موقع دیا، میدان عرفات میں قیام کی سعادت عطا کی ۔

مناسکِ حج پر ایک  نظر

حج کا پہلا دن

8 ذو الحجہ

مکہ سے منیٰ روانگی، منیٰ میں ظہر،عصر، مغرب، عشاء پڑھنی ہیں،

رات منیٰ میں قیام کرنا ہے

حج کا دوسرا دن

9ذو الحجہ

فجر کی نماز منیٰ میں ادا کر کے عرفات کو روانگی، ظہراورعصر کی نمازیں عرفات میں پڑھنی ہوگی، وقوفِ عرفات ہوگا، غروب آفتاب کےبعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کو روانگی، مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت مزدلفہ میں ادا کرنی ہیں اور  مزدلفہ میں قیام کرنا ہے

حج کا تیسرا دن

10ذو الحجہ

مزدلفہ میں فجر کی نماز کے بعد وقوف مزدلفہ اور منیٰ روانگی ،

بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، سر کے بال منڈوانا یا کتروانا

احرام کھول دینا، طوافِ زیارت، سعی،رات منیٰ میں قیام

حج کا چوتھا دن

11ذو الحجہ

زوال کے بعدمنیٰ میں چھوٹے ،  درمیانے اور بڑے جمرہ  کو بالترتیب کنکریاں مارنا  ۔طوافِ زیارت اگر کل نہیں کیا تھا تو  آج کر لیں، رات منیٰ میں قیام

حج کا پانچواں دن

12ذو الحجہ

زوال کے بعدمنیٰ میں چھوٹے ،  درمیانے اور بڑے جمرہ  کو بالترتیب کنکریاں مارنا  ۔طوافِ زیارت  اگر نہیں کیا تھا تو  آج غروب آفتاب  سے پہلے ضرور کر لیں۔ غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ چھوڑ دیں ورنہ 13ذی الحجہ کی رمی کر کے مکہ مکرمہ آجائیں ۔

مناسکِ حج پر ایک نظر

مناسکِ حج پر ایک نظر

مکہ سے منیٰ روانگی، منیٰ میں ظہر،عصر، مغرب، عشاء پڑھنی ہیں ،
رات منیٰ میں قیام کرنا ہے
حج کا پہلا دن
8 ذو الحجہ
فجر کی نماز منیٰ میں ادا کر کے عرفات کو روانگی، ظہراورعصر کی نمازیں عرفات میں پڑھنی ہوگی، وقوفِ عرفات ہوگا، غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کو روانگی، مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت مزدلفہ میں ادا کرنی ہیں اور مزدلفہ میں قیام کرنا ہے حج کا دوسرا دن

9ذو الحجہ

مزدلفہ میں فجر کی نماز کے بعد وقوف مزدلفہ اور منیٰ روانگی ،بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، سر کے بال منڈوانا یا کتروانا ، احرام کھول دینا، طوافِ زیارت، سعی،رات منیٰ میں قیام حج کا تیسرا دن

10ذو الحجہ

زوال کے بعدمنیٰ میں چھوٹے ، درمیانے اور بڑے جمرہ کو بالترتیب کنکریاں مارنا ۔ طوافِ زیارت اگر کل نہیں کیا تھا تو آج کر لیں ، رات منیٰ میں قیام حج کا چوتھا دن

11ذو الحجہ

زوال کے بعدمنیٰ میں چھوٹے ، درمیانے اور بڑے جمرہ کو بالترتیب کنکریاں مارنا ۔ طوافِ زیارت اگر نہیں کیا تھا تو آج غروب آفتاب سے پہلے ضرور کر لیں ۔ غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ چھوڑ دیں ۔ اگر فجر تک منیٰ میں ہی مقیم رے تو 13ذی الحجہ کی رمی کر کے مکہ مکرمہ آجائیں ۔ حج کا پانچواں دن

12ذو الحجہ

۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

واپس فہرست  پر جائیں