عمرہ کا طریقہ

افعالِ عمرہ

عمرہ کےدرج  ذیل اہم افعال  ہیں :

            1- احرام             2- طواف                       3- سعی       4- حلق یا قصر

احرام اور طواف  فرائض ہیں،    جبکہ طواف کے بعد سعی اور حلق یا قصر کرنا واجب ہے۔

 

احرام باندھنا

احرام سے قبل ناخن تراشنا، مونچھوں کے بال کم کرنا، زیرِ ناف اور زیر بغل بال صاف کرنا مستحب اور غسل کرنا سنت ہے۔ مرد حضرات کےلیےممکن ہو تو بدن پر خوشبو لگائیں۔ غسل مرد و خواتین، حتیٰ کے حیض و نفاس والی خواتین کے لئے  بھی سنت ہے۔  یہ تمام کام ایئر پورٹ آنے سے قبل ہی پورے کر لیں۔

            مرد حضرات ایئر پورٹ پہنچ کر ضروری امور سے فارغ ہونےکےبعدجب انتظار گاہ میں پہنچیں تواحرام کی ایک چادر تہہ بند کے طور پر باندھ لیں اور دوسری اوپر اوڑھ لیں۔ نیچے والی چادر کو ناف سے اوپر رکھیں تاکہ عبادات کے دوران ستر چھپا رہے۔

            خواتین اپنے عام کپڑوں میں رہیں، یہی ان کا احرام ہے۔ البتہ ان کا لباس مکمل ساتر ہونا چاہیے یعنی اتنا باریک نہ ہو کہ جسم نظر آئے، نہ اتنا تنگ ہو کہ جسم کی ساخت نمایاں ہو اور نہ اس کا رنگ اتنا بھڑکیلا ہو کہ نظروں کو متوجہ کرے۔ اسی لئے پاکستانی پرچم کے سٹیکر والا عبایا لازم ہے۔ مختصراً یہ کہ خواتین کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ڈھانپا ہونا چاہیے۔ یہی ان کا احرام ہے۔ واضح رہے کہ خواتین کے بال بھی نظر نہیں آنے چاہیں کیونکہ یہ بھی ان کے ستر میں شامل ہیں۔

اگر مکروہ وقت نہیں تو دو رکعات نفل برائے احرام ادا کریں۔ خواتین پیشانی کے بالوں سے شہ رگ تک اور دونوں کانوں کے درمیان چہرہ نہ ڈھانپیں۔  البتہ بعض علمائے کرام یہ تجویز کرتے ہیں کہ نا محرم مردوں سے پردے کی خاطر ایسی کیپ استعمال کریں  جس پر چہرے کے سامنے جالی لگی ہوئی ہو اور وہ چہرے سے فاصلے پر ہو یا کوئی کپڑا وغیرہ  ہاتھ میں رکھ لیں جس سے ضرورت کے وقت چہرہ چھپا لیا جائے۔ اب قبلہ رُخ  ہوکر عمرے کی  نیت کریں۔

 

طواف:         طواف کے دو فرائض ہیں:

  1. نیت          چار چکر فرض ہیں  اور باقی تین واجب ہیں، کل سات چکر ہیں۔

طواف کے واجبات درج  ذیل ہیں:

  1. طہارت یعنی بے وضو نہ ہو اور حیض ونفاس اور جنابت سے پاک ہو
  2. ستر ڈھانپنا
  3. پیدل چلنا (اس کے لیے جو پیدل چلنے پر قادر ہو)
  4. دورانِ طواف کعبہ کا بائیں طرف ہونا
  5. حطیم کے باہر سے چکر لگانا     سات چکر پورے کرنا
  6. طواف کے بعد دو رکعت نماز واجب الطواف پڑھنا

طواف کی سنتیں  درج ذیل ہیں:

  1. اضطباع (احرام میں دایاں بازو اورکندھا کھلا رکھنا)
  2. پہلے تین چکروں میں رمل کرنا (یعنی اکڑ کر چلنا) اور آخری چار چکروں میں رمل نہ کرنا۔
  3. حجر اسود کے سامنے سے شروع کرنا                 رکن یمانی کا  چھونا
  4. حجر اسود کا استلام ۔ 6.    بیت اللہ شریف کی طرف نہ دیکھنا
  5. رکن یمانی اور رکنِ حجر اسود کے درمیان درج ذیل دُعا پڑھنا:

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِط

“اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا”

زم زم

ٹھنڈے اور سادہ زم زم سے بھرے کولرصحن کعبہ میں اور مسجدِ حرام کے برآمدوں میں کافی تعداد میں رکھے ہوئے ہیں ۔ دُعا سے فارغ ہونے کے بعد قبلہ رُخ کھڑے ہو کر تین سانسوں میں پیٹ بھر کر کولر سے زمزم پیجئے اوریوں دُعا مانگئے :

طواف کا طریقہ

طواف شروع کرنے سے پہلے آپ کعبۃ اللہ کے اُس کونے میں آ ئیں گے جہاں حجر اسود نصب ہے ۔بیت اللہ شریف کے حجر اسود والے کونے پر بہت زیادہ بھیڑ ہوتی ہے لہٰذا جب بھی طواف شروع کرنے کیلئے حجر اسود کے بالمقابل آنا ہو تو طواف کرنے والوں کے سامنے سے با لکل نہ آ ئیں تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے،  بلکہ آپ کعبہ شریف کے ارد گرد باقی طواف کرنے والوں کی طرح گھڑی کے الٹے رخ چکر لگائیں۔  جب حجر اسود کے سامنے آ ئیں تو تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور اس کونے پر پہنچ کر آپ سیدھا کندھا کھول  دیں  اس طرح کہ سیدھے ہاتھ کی بغل میں سے احرام کی چادر  نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیں گے۔ اس عمل کو اضطِباع کہتے ہیں اوریہ  صرف دوران طواف کیا جاتا ہے۔اب کعبہ شریف کی طرف منہ کر کےطواف کی نیت یوں کریں”۔اےاللہ!میں آپ کی رضاکے لیئےعمرہ کے طواف کی نیت کرتا/کرتی ہوں،آپ اس کو میرے لئے آسان فرما ئیں اور قبول فرما لیں”۔

طواف کی ابتدا حجر اسود کو بوسہ دینے یا استلام کرنے سے ہوتی ہے۔  استلام سے مراد ہاتھ سے چھونا یا  دور سے اشارہ کر کے بوسہ لینا ہے۔ آجکل بے پناہ بھیڑ کی وجہ سے حجر اسود کا براہ راست بوسہ لینے سے بچنا چاہیے، نیز اس پر خوشبو لگی ہوتی ہے اور بوسہ یا چھونے کی وجہ سے وہ بدن کو لگ سکتی ہے جبکہ حالت احرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے ۔ لہذا صرف اشارے پر اکتفا کرنا چاہیے یعنی بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَ کْبَرْ وَ لِلہِ الْحَمْدُ    کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے حجر اسودکی  طرف  اشارہ کیجئے اور  ہتھیلیاں چوم لیں۔

            اب کعبہ شریف کو بائیں طرف رکھتے ہوئےطواف شروع کریں۔  پہلا چکر ختم کرتے ہوئے جب حجر اسود کی سیدھ میں پہنچیں تو دوبارہ استلام کرتے ہوئے   بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَ کْبَرْ  کہہ کر دوسرا چکر شروع کریں ،طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے پہلوانوں کی طرح قدرے تیزی سے چلنا سنت ہے۔ یہ عمل رمل کہلاتا ہے جبکہ طواف کے  آخری چار چکروں میں رمل نہ کرنا سنت ہے۔

            طواف کے دوران کوئی خاص دُعا پڑھنا ضروری نہیں۔ اور پھر کتاب سے دیکھ دیکھ کر پڑھنے سے توجہ کتاب کی طرف رہتی ہے اور قلب کا ربط ربِّ کعبہ سے نہیں جڑ پاتا۔ لہٰذا  بہتر ہےاپنی زبان میں جو بھی دُعا چاہیں کریں نیز درود شریف، استغفار اور دیگر اذکار کا ورد کریں۔ البتہ رکنِ یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دُعا پڑھنا سنت ہے۔

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِیْ الدُّ نْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ط

 دُعا بلند آواز سے نہ کریں تاکہ دوسرے طواف کرنے والوں کو خلل نہ ہو۔  طواف کا ہر چکر پوراکرنے کے بعد حجر اسود کا استلام کریں۔  طواف کا ساتواں چکر پورا ہونے پر حجر اسود کا استلام کریں اور اضطباع ختم کر دیں یعنی دایاں کندھا  اور بازوڈھانپ لیں، طواف مکمل ہو گیا۔  طواف مکمل کرنے کے بعد ایسی جگہ دو رکعت نماز واجب الطواف پڑھیں کہ مقام ابراہیم ؑ  آپ کے اور کعبہ شریف کے درمیان ہو۔ بھیڑ کی وجہ سے ایسی جگہ نہ ملے تو کسی بھی دوسری جگہ پڑھ لیں۔

صفا و مروہ کی سعی

ٓبِ زم زم  پینے  کے بعدسعی کے لیے صفا کی طرف جاتے ہوئے  حجر اسود کانواں استلام کریں، یہ استلام ِ مسنون ہے۔مطاف سےصفا  پہاڑی کی طرف جانے کا راستہ حالیہ توسیع میں مقام ابراہیم کے سامنے برآمدوں میں سے بنایا گیا ہے۔ جس کی نشاندہی کے لیئے جگہ جگہ بورڈ بھی لگا دیے گئے ہیں ۔  کوہ صفاکی طرف یہ کہتے ہوئے جائیں:

اَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللہُ تَعَالٰی بِہٖ اِنَّ الْصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِاللہِ ط

‘‘میں ابتدا کرتا ہوں ساتھ  اس کے جس کے تذکرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے  ابتدا کی ہے، یقینا صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں’’

صفا کی پہاڑی پر زیادہ اُوپر چڑھنا خلافِ سنت ہے اور مروہ پر بھی زیادہ اُوپر نہیں چڑھنا چاہیے،صرف اتنا چڑھنا کافی ہےکہ خانہ کعبہ نظر آجائے، وہاں بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں۔ پھر دونو ں ہاتھوں کو کندھوں تک آسمان کی طرف اس طرح اُٹھائیں جس طرح دُعا میں اُٹھاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھیں۔ تکبیر و کلمہ بلند آواز میں پڑھیں اور خوب دل لگا کر دُعا مانگیں، ہر ایک کیلئے دُعا مانگیں، تمام مسلمانوں کے حق میں دُعا مانگیں اور ملک کی سلامتی و بقا کیلئے دُعا مانگیں یہ بھی دُعا کے قبول ہونے کا مقام ہے۔ نیز درج ذیل کلمات کو وردِ زبان رکھیں:

لَا اِلٰہَ إلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ  لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَدِيْرٌ لَا اِلٰہَ إلَّا اللهُ أنْجَزَ وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَ ابَ وَحْدَهٗ ط

اب صفا سے مروہ کی طرف  چلیں ۔چند قدموں کے فاصلے پر مسعی کی چھت میں کچھ لمبائی کی سبز لائیٹیں لگی ہیں(صفا اور مروہ  کے درمیانی علاقےکو مسعی کہا جاتا ہے) ۔ جونہی سبز لائیٹوں کے نیچے پہنچیں تو مرد حضرات ذرا  دوڑ کر چلیں لیکن خواتین عام  رفتار سے چلیں اور یہ دُعا کریں:

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّالْاَ کْرَمُ ط

‘‘اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما  اور میری  لغزشیں  جن کو آ پ جانتے ہیں درگزر فرما دیجئے بیشک آپ زبردست بزرگی والے ہیں۔’’

صفا اور مروہ کے چکروں کے بارے میں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ صفا سے مروہ تک جانے کو ایک چکر کہتے ہیں اور پھر مروہ سے صفا تک آنے کو دوسرا چکر۔ دوبارہ  صفا سے مروہ تک جائیں گے تو تیسرا چکر اور پھر مروہ سے صفا تک آ ئیں گے تو چوتھا چکر ہو گا ۔ اسی طرح ساتواں چکر مروہ پرختم ہو گا۔ ساتویں چکر کے بعد مروہ پر آپ کی سعی مکمل ہو جائے گی۔

حلق یاقصر

طواف اور سعی کے بعد احرام سے حلال ہونے کے لیے مردوں کا بال منڈوانا یا پورے سر کے بال ایک انگلی کے پور کے برابر کتروانا واجب ہے، لیکن سر منڈوانا افضل ہے۔ خواتین کیلئے سر منڈوانا جائز نہیں بلکہ وہ انگلی کے  ایک پوریا انچ  یا اس سے کچھ زیادہ سارے یا کم از کم چوتھائی بالوں کی چٹیا پکڑ کر  کٹوائیں،  توحالت احرام سے نکلنے کے لیے کافی ہے۔

نوٹ    مرد حضرات حجام کی دوکانوں پر جاکر حلق یا قصر کروائیں ۔

 

اس کے بعد اگر ہو سکے تو دو نفل مسجدِ الحرام میں کسی بھی جگہ پڑھ لیں،  مروہ پر نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ اب آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی آپ احرام اور احرام کی پابندیوں سے فارغ ہو گئے،لیکن حدود حرم کی پابندیاں لاگو رہیں گی۔ آپ نہا دھو کر سلے ہوئے کپڑے پہن سکتے ہیں اور اب 8ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ روانگی کیلئے حج کا احرام باندھنے کی ضرورت ہو گی۔ مناسب ہوگا کہ عمرہ  مکمل ہونےکے بعدآپ حرم میں لگی  گھڑیوں سےنمازوں کے اوقات نوٹ کریں اورنماز کے لیئے وقت پرحرم پہنچنے کی کو شش کریں۔ اپنی خیریت کی اطلاع پاکستان میں اپنے اہل خانہ کو دیں۔ مکتب کا ٹیلیفون نمبر کارڈ پر درج ہے۔ اپنے اہل خانہ کو اس کی بھی آگاہی دیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان سے رابطہ ممکن ہوسکے۔

واپس فہرست  پر جائیں