تفسیر تفہیم القران

0
291

Tafheem ul Quran Syed Abul Aala Moudodi تفہیم القران مولانا سید ابو الاعلی مودودی

مولانا مودودی کی شخصیت و علمی کارہائے نمایاں – ایک مختصر جائزہ
تحریر – مولانا محمد احمد (واصل واسطی ) مجاھد بھٹ  – Presented with slight modifications

مولانا مودودیؒ کی خدمات: پانچ شعبے
مولانا مودودیؒ ایک عالم اور مفکرتھے۔ انہوں نے اپنے وقت میں اسلام کی ہمہ جہت خدمت کی ہے۔ ان کے کام کا اگر جائزہ لیا جائے تو پانچ شعبوں میں اسے تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

تعبیر دین
ایک شعبہ دین کے تعبیر کا ہے۔ اس اللہ کے بندے نے دین کی مجموعی تعبیر کی اور اس کے سارے احکام کو لوگوں کے سامنے ایک گل دستے کی شکل میں رکھ دیا۔ [اس طرح] سارے لوگ آسانی کے ساتھ کے ساتھ یہ سمجھ گئے کہ دین اسلام کیا چاہتا ہے اورجو چاہتاہے وہ کس ترتیب سے چاہتاہے۔
اس قضیہ کو اس اللہ کے بندے نےایسے دلنشین انداز میں بیان کیا کہ عامی سے عامی فرد بھی پوری بات کوپاگیا۔ اس لیے جو لوگ اس نقطۂ نظر کے مخالف ہیں وہ بھی اس حقیقت کا [کھل کر] اعتراف کرتے ہیںکہ مولانا مودودی نے دین کو آسان کیا۔
حفاظت دین
دوسرابڑاکام جو مولانا مودودیؒ نے اپنے وقت میں کیا وہ حفاظتِ دین کا کام ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس سلسلے میں سنت کی حفاظت کے لیے ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘، ختمِ نبوت کی حفاظت کے لیے ’’قادیانی مسئلہ(۱)‘‘، [مغربی تہذیب پر نقد کے لیے] ’’تنقیحات‘‘، ’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ وغیرہ کتابیں لکھیں۔
:الٰہیات/علم کلام
تیسرابڑاکام مولانا مودودیؒ نے الٰہیات کے شعبے میں کیا۔ انھوں نے علم کلام کے لیے نئے نئے دلائل پیش کیے۔ اس ضمن میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہندوستان کے بہت بڑے فلسفی شاعر اقبال سے جب سلیم چشتی نے پوچھا کہ مشہور مغربی فلسفی کانٹ نے وہ سارے دلائل توڑدیے ہیں جن پر ہمارے اہل کلام کوناز تھا۔ توکیا اللہ تعالی کے وجود کو عقلی دلائل سے ثابت کیاجاسکتا ہے؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ نہیں، اللہ کے وجود کو ثابت کرنا عشق کا مسئلہ ہے۔ عقل سے اس کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے سب سے بڑے فلسفی نے بھی گھٹنے ٹیک دیے تھے، مگر مولانا مودودیؒ نے ’’توحید ورسالت اور زندگی بعد موت کا عقلی ثبوت‘‘ نامی کتاب لکھ کر دنیا کو بتادیا کہ اسلام اور اس کے متکلمین آج بھی پورے آب وتاب سے زندہ ہیں۔ اس حوالے سے ان کی بہت ساری کتا بوں میں لوازمہ موجود ہے مگربد قسمتی سے مجتمع نہیں ہوسکا ہے۔
:اسلامی حکومت کے اصول
چوتھا بڑاکام مولانا مودودیؒ نے اسلامی حکومت کے اصول فراہم کردیے۔ اسلامی حکومت پر متقدمین علماء کی لکھی گئی کتابوں کا جب بندہ مطالعہ کرتاہے‘ جیسے ابویعلیؒ اور ماوردیؒ وغیرہ کی کتابوں کا‘ تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ وہ قرآن اور سنت کی نصوص سے حکومت کا نقشہ ہی پیش نہیں کرتے۔ یہ کام مولانا مودودیؒ نے کردکھایا اور ایسا کہ ان کے خلاف لکھنے والے علماء کو بھی یہ کہنا پڑا کہ ’’بڑاقابلِ قدر کام ہے۔‘‘
اسلامی حکومت کا عملی نقشہ
پانچواں بڑاکام اس اللہ کے بندے نے یہ کیا کہ اس متعین کردہ منہج پر انہوں نے پورے دین کا نقشہ مرتب کردیا تاکہ لوگ اسے صرف مجنون کی بڑ نہ قراردیں۔ ’’تفہیم القرآن‘‘، ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی‘‘ اور ’’اسلامی نظامِ زندگی اور اس کے بنیادی تصورات‘‘ وغیرہ کتابیں اصلاً اسی مدعا کے لیے تحریر کی گئیں۔

یہ اتنا بڑاکام ہے کہ اس کااندازہ صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو پڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ سوچتے بھی ہیں۔ میں اس بات پر حیرت میں ڈوب جاتا ہوں کہ انہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام میں اس کانقشہ کس طرح بنایا اور پھر آخر تک کیسے نبھایا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ان سے غلطیاں نہیں ہوئیں۔تعجب اس بات پر نہیں ہوتا کہ ان سے غلطیاں ہوئیں، تعجب اس [صورت میں] ہوتا اگر ان سے غلطیاں صادر نہ ہوتیں۔

مولانا مودودیؒ ایک آزمائش
اللہ تعالیٰ بعض اوقات بڑے لوگوں سے بعض اقوال اور افعال ایسے بھی صادر کرواتا ہے جن سے ان کے محبین اور ان کے مخالفین کا امتحان لیتا ہے۔ مخالفین کے بغض اور نفرت کا امتحان کہ وہ انصاف پر قائم ہوتے ہیں یا پھر ان کے حسنات کو بھی دریا برد کرتے ہیں۔ عام طور پر مخالفت میں لوگ انصاف نہیں کرتے۔
اس ضمن میں ایک بات یاد رکھنے کی ہے جو ’’الطبقات الشافعیۃ‘‘ میں نقل ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ امام غزالیؒ پر ان کے دور میں اور اس کے بعد بھی لوگوں نے سخت اعتراضات کیے۔ قاضی ابن العربیؒ جو ان کے شاگردِ رشید ہیں‘ انھوں نے تو لکھا کہ ودخل فی بطون الفلاسفة ولم یخرج منھا یعنی وہ فلاسفہ کے پیٹ میں داخل ہوگئے مگر اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوا۔

محبین کا بھی اللہ تعالیٰ امتحان لیتا ہے۔ جو لوگ مذاہب کی تاریخ سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ اکثر لوگوں نے اپنے اکابر کو جو اصلاً چراغِ راہ ہوتے ہیں‘ عین منزل قرار دے دیا ہے۔ ساری زندگی انہی کے گن گاتے ہیں اور ان کے اقوال اور آرا کو قران وسنت کی صریح نصوص پر بھی ترجیح دینے لگ جاتے ہیں۔ قرآن اور سنت میں اپنے اکابر کو بچانے کے لیے تاویلات کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ گھر کی عزت جاتی ہے تو جائے مگر شہتوت کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھاجائے تو دونوں طبقے امتحان گاہ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس امتحان میں سرخرو کرلے۔

مولانا مودودیؒ کی حیثیت
مولانا مودودیؒ انسان تھے۔ ان سے اختلاف ہوبھی سکتاہے‘ ہوا بھی ہے اور ہونا بھی چاہیے، جس طرح کوئی آدمی دعوت کے لیے دسترخوان بچھاتاہے اور اس پر مختلف قسم کے انواع واقسام کی چیزیں رکھتا ہے اور پھر لوگوں کو اس میں شرکت کی دعوت دیتا ہے تواس آدمی اور اس کے احباب میں پھر اتنا حوصلہ ہونا چاہیےکہ لوگ اس میں اپنی اپنی پسند کے مطابق انتخاب کرلیں۔ بلکہ اس میں کیڑے بھی نکالیں۔

آدابِ اختلاف
ہمارے ائمہ کرام امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام بخاری وغیرہ نے جب اپنا اپنا دسترخوان بچھادیا تو لوگوں نے اس میں انتخاب بھی کیا اور اس میں عیوب بھی نکالے، اور اب تک یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ ہم لوگ جب ان جیسے اساطین علم وفکر سے اختلاف کرتے ہیں تو مولانا مودودی سے آخر کیوں نہیں کرسکیں گے؟ مگر جس طرح ہم اپنے ائمہ کرام سے اختلاف کرتے وقت کچھ چیزوں کا لحاظ کرتے ہیں وہ امور ادھر بھی ملحوظ ہونے چاہییں۔
۱- حسن ظن: پہلی یہ بات ہے کہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھیں کہ وہ دین کے دانستہ دشمن نہیں تھے۔ ہاں، علمی زلت ان سے صادر ہوگئی ہے۔
۲- علمی مقام کا لحاظ: دوسری بات یہ کہ ان کے علمی مقام کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ ان کے اچھے افکار سے محروم نہیں ہوںگے۔
۳- اخلاصِ نیت: تیسری بات یہ ہے کہ ان سے اختلاف صرف دین کی بنیاد پر ہو اور اس میں یہ لحاظ ہو کہ لوگ گمراہی سے بچ جائیں۔ اگر نیت دوسری ہو تو پھر نہ اس میں برکت ہوتی ہے اور نہ اس سے اخروی کامیابی ملتی ہے۔

۴- مقامِ اختلاف کا تعین: چوتھی چیز یہ ہے کہ جہاں اختلاف کرتے ہیں وہاں مقام اختلاف کا بھی تعین ہونا چاہیے۔ اب اسی خلافت وملوکیت کے موضوع کو ہی لے لیں تو بنائے اختلاف یہ بات ہے کہ تاریخی روایات میں سند کا اعتبار ہوگا یانہیں۔(۲) مولانا مودودیؒ اور بعض دیگر اہل علم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے، مگر اکثر اہل علم‘ صحابہؓ کے دور کے لیے اس کو ضروری مانتے ہیں۔ ہماری اپنی رائے بھی اکثرعلماء کے ساتھ ہے، مگر احباب اس موضوع سےہٹ کر دوسرے مسائل میں الجھ پڑتے ہیں۔ وہ باتیں اور عبارتیں جو نقل کی جاتی ہیں اصلاً اس ا صول کے نتائج ہیں۔ تو اولاً اصول کو توڑنا چاہیے نہ کہ فروع میں وقت صرف کرنا چاہیے۔ تنقید میں اگرچہ ناگواری تو ہوتی ہے مگر کوئی بندہ دیکھنا چاہے تو اس میں یہ حسین رنگ بھی دیکھ سکتا ہے کہ اہل دین‘ دین کی خاطر بہت بڑے بڑے بزرگوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اللہ ہمیں صحیح بات سوچنے اورسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

حواشی
(۱) یہاں یہ بات بھی نوٹ فرمالیں کہ [مرزا غلام احمد] قادیانی کے جانشین خلیفہ نورالدین نے صرف مولاناؒ کے عقلی استدلال کو توڑنے کے لیے تین سو صفحات سیاہ کیے تھے۔پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوئی تھی۔
(۲) یہ دراصل اس بحث کی طرف اشارہ ہے جو مولانا مودودیؒ نے ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں سیدنا معاویہؓ اور بعض دیگر اصحاب کے بارے میں لکھی ہے۔ مولاناؒ نے تاریخی روایات کو بلا تنقید قبول کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں سند کا اعتبار تاریخ میں اس لیے نہیں کرتا کہ اس سے نوے فی صد تاریخ کامواد ضائع ہوجائے گا۔ میں ان روایات کو مجموعی کردار کے حوالے سے پرکھتا ہوں۔ مگر یہ بات اگر مان بھی لی جائے تو کم ازکم درجہ بندی تو ہونی چاہیے ۔یعنی احادیث کی مستند روایات اگر ان تاریخی روایات کے بالمقابل آجائیں تو پھر جیسا کہ شیخ ابن تیمیہؒ اور ابن القیمؒ اورمولانا لکھنویؒ وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ تاریخ کی منقطع السند روایات احادیث کی مستند روایات کے بالمقابل قبول نہیں ہوں گی ۔مگر محترم [مولاناؒ] اس کا بھی لحاظ نہ رکھ سکے۔ صحابہؓ کے دور کے لیے باسند روایات ہی قابل قبول ہوںگی۔ اس کی کوئی دس وجوہات اور دلائل میں نے نوٹ کیے ہیں۔ سردست اسے پیش نہیں کرسکتا۔ خود اس مکتب فکر بڑے لوگوں نے بھی محترم [مولاناؒ] کے اس خیال سے اختلاف کیا ہے۔
دیکھیے: ثقافۃ الداعی، للقرضاوی

Read Online  /  Download



Tafheem ul Quran English Translation: 

Picture

A brief Introduction:
It goes without saying that Maulana Maududi’s monumental translation and commentary of the Holy Qur’ān is most read, most published, most circulated translation and commentary in the Urdu language. It has been translated in to more than twenty other languages, including English, and has maintained its popularity across these languages. This commentary has left profound and lasting impressions on its readers spread all over the world and has always been an excellent resource for the seekers of knowledge.English translation of Tafhim:
English translation of Tafhim was undertaken twice. First by Late Chaudhry Mohammad Akbar of Sialkot in whose house Maulana Maududi used to stay whenever he visited Dr. Iqbal’s home town. His translation was in 5 volumes, last of which was rendered into English by Mr. Abdul Aziz Kamal. Chaudhry Mohammad Akbar’s translation ends at chapter Al-Hajj but was edited and made ready for publication by Mr. A.A Kamal. Despite their pioneering efforts it was felt that their translations were not up to the desired standards. Hence it was decided with the concurrence of Maulana himself to ask Dr. Zafar Ishaq Ansari to undertake a new translation which he had finished up to chapter Al-Nur (as published by MMI, New Delhi). However Dr. Ansari has not only completed the translation of the whole of the Arabic text up to the end but has also revised his own translation done up to the chapter Al-Nur making necessary corrections, amendments and improvements as stated by him in his preface to the one-volume abridged edition.

Online Version

Vol1: Read / Download; Alternate link
Vol2: Read / DownloadAlternate link
Vol3: Read / DownloadAlternate link

Full unabrdiged tafseer:
000 Introduction, 001 Al-Fatihah, 002 Al-Baqarah, 003 Al-I-Imran004 An-Nisa, 005 Al-Maidah, 006 Al-Anam, 007 Al-Aaraf, 008 Al-Anfal, 009 At-Taubah, 010 Yunus, 011 Hud, 012 Yusuf, 013 Ar-Raad, 014 Ibrahim, 015 Al-Hijr, 016 An-Nahl, 017 Bani Israil, 018 Al-Kahf, 019 Maryam020 Taha021 Al-Anbiyaa, 022 Al-Hajj, 023 Al-Muminun, 024 Nur, 025 Al-Furqan, 026 Ash-shuaraa, 027 An-Naml, 028 Al-Qasas, 029 Al-Ankabut, 030 Ar-Rum031 Luqman, 032 As-Sajdah, 033 Al-Ahzab, 034 Saba, 035 Fatir, 036 Yasin, 037 As-Saaffat, 
038 Suad039 Az-Zumar, 040 Al-Mumin, 041 Ha-Mim As-Sajdah, 042 Ash-Shura043 Az-Zukhruf044 Ad-Dukhan, 045 Al-Jathiyah, 046 Al-Ahqaf, 047 Muhammad, 048 Al-Fath, 049 Al-Hujurat, 050 Qaf, 051 Adh-Dhariyat, 052 At-Tur, 053 An-Najm, 054 Al-Qamar, 055 Ar-Rahman, 056 Al-Waqiah057 Al-Hadid, 058 Al-Mujadalah059 Al-Hashr, 060 Al-Mumtahinah, 061 As-Saff, 062 Al-Jumuah, 063 Al-Munafiqun, 064 At-Taghabun, 065 At-Talaq, 066 At-Tahrim, 067 Al-Mulk, 068 Al-Qalm069 Al-Haaqqah, 070 Al-Maarij, 071 Nuh, 072 Al-Jinn, 073 Al-Muzzammil, 074 Al-Muddatir, 075 Al-Qiyamah, 076 Ad-Dahr, 077 Al-Mursalat, 078 An-Naba, 079 An-Naziat, 080 Abasa, 081 AtTakwir, 082 Al-Infitar, 083 Al-Mutaffifin, 084 Al-Inshiqaq, 085 Al-Buruj, 086 Tariq, 087 Al-Ala, 088 Al-Ghashiya, 089 Al-Fajr, 090 Al-Balad, 091 Ash-Shams, 092 Al-Lail, 093 Ad-Duha, 094 Alam-Nashrah, 095 At-Tin, 096 Al-Alaq, 097 Al-Qdar, 098 Al-Bayyanah, 099 Az-Zilzal, 100 Al-Adiyat, 101 Al-Qariah, 102 At-Takathur, 103 Al-Asr, 104 Al-Humazah, 105 Al-Fil, 106 Al-Quresh, 107 Al-Maoun, 108 Al-Kauthar, 109 Al-Kafirun, 110 An-Nasr, 111 Al-Lahab, 112 Al-Ikhlas, 113/114 Mauzatain 



Tafheem ul Quran Turkish Translation: 

Tefhimul Kuran – Imam Mevdudi
Vol1: Read / Download
Vol2: Read / Download
Vol3: Read Download
Vol4: Read / Download
Vol5: Read / Download
Vol6: Read / Download
Vol7: Read / DownloadIn single volume (without Arbic): Download



Tafhimul Quran Bangla Translation

 (বাংলা তাফসীরে উল কুরআন):

Index: Download
1,2. Al-Fatiha and Al-Baqarah: Download
3,4.Aal Imran and An-Nisa: Download
5.Al-Maidah: Download
6.Al-Anam: Download
7,8.Al-Araf. Al-Anfal: Download
9. At-Tauba: Download
10. Surah Yunus: Download
11. Surah Hud: Download
12. Surah Yusuf: Download
13. Ar-Raad: Download
14. Surah Ibrahim: Download
15. Surah Al-Hijr: Download
16. An-Nahl: Download
17. Bani Israel: Download
18. Al-Kahf: Download
19. Surah Maryam: Download
20. Surah TaHa: Download
21. Al-Anbia: Download
22. Al-Hajj: Download
23,24. Al-Mominoon, An-Noor: Download
25. Al-Furqan: Download
26. Ash-Shuaara: Download
27. An-Namal: Download
28. Al-Qasas: Download
29. Surah Al-Ankaboot: Download
30.Ar-Rum: Download
31.Al-Luqman: Download
32.As-Sajda: Download
33. Al-Ahzab, As-Saba, Al-Fatir: Download
36.Surah Yasin: Download
37.As-Sa’afat: Download
38.As-Saad: Download
39. Az-Zumar: Download
40. Surah Mu’min: Download
41. Surah Ha Meem: Download
42. Al-Shura: Download
43. Al-Zikhruf: Download
44. Ad-Dukhan: Download
45. Al-Jathia: Download
46. Ahqaf: Download
47. Surah Muhammad: Download
48. Al-Fath: Download
49. Al-Hujurat: Download
50. Surah Al-Qaf: Download
51. Az-Zariyat: Download
52. Surah At-Tur: Download
53. An-Najm: Download
54. Surah Al-Qamar: Download
55. Surah Ar-Rahman: Download
56. Surah Al-Waiqa: Download
57. Al-Hadeed: Download
58. Al-Mujadillah: Download
59. Al-Hashr: Download

60. Al-Mumtahina: Download
61. As-Saf: Download
62. Al-Jumah: Download
63. Al-Munafiqoon: Download
64. Al-Taghabun: Download
65. Al-Talaq: Download
66. Surah Al-Tahreem: Download
67. Al-Mulk: Download
68. Al-Qalam: Download
69. Surah Al-Haqqa: Download
70. Al-Ma’arij: Download
71. An-Nuh: Download
72. Surah Al-Jinn: Download
73. Al-Muzzamil: Download
74. Al-Mudathir: Download
75. Al-Qiyamah: Download
76. Ad-Dahr: Download
77. Al-Murasalat: Download
78. An-Naba: Download
79. An-Naziyat: Download
80. Al-Abasa: Download
81. Al-Takweer: Download
82. Al-Infitar: Download
83. Al-Mutaffifeen: Download
84. Al-Inshiqaq: Download
85. Al-Buruj: Download
86. At-Tariq: Download
87. Al-Aala: Download
88. Al-Ghashia: Download
89. Al-Fajr: Download
90. Al-Balad: Download
91. Ash-Shams: Download
92. Surah Al-Layl: Download
93. Surah Ad-Duha: Download
94. Surah Al-Sharh: Download
95. Surah At-teen: Download
96. Al-Alaq: Download
97. Al-Qadr: Download
98. Al-Bayyinah: Download
99. Al-Zalzalah: Download
100. Al-Adiyat: Download
101. Al-Qariah: Download
102. At-Takathur: Download
103. Al-Asr: Download
104. Al-Humuza: Download
105. Al-Feel: Download
106. Al-Quresh: Download
107. Al-Maoon: Download
108. Al-Kauther: Download
109. Kafiroon: Download
110: An-Nasr: Download
111. Surah Masad: Download
112. Surah Ikhlas: Download
113-114. Moazatain: Download

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.