Friday, February 3, 2023

تخلیق تخیل اور استعارہ

تخلیق تخیل اور استعارہ

استعارہ بلاغت کا ایک رکن اعظم ہے اور شاعری کو اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو قالب کو روح کے ساتھ ۔ کنایہ اور مثیل کا حال بھی استعارہ ہی کے قریب قریب ہے۔ یہ سب چیز میں شعر میں جان ڈالنے والی ہیں۔ جہاں اصل زبان کا قافی تنگ ہو جاتا ہے وہاں شاعر بھی کی مدد سے اپنے دل کے جذبات اور دقیق خیالات عدگی کے ساتھ ادا کر جاتا ہے اور جہاں اس کا اپنامنتر کارگر ہوتا نظر نہیں آتا وہاں انھی کے زور سے وہ لوگوں کے دلوں کو خیر کر لیتا ہے۔

خواجہ الطاف حسین حالی

آدمی چاہے شعر لکھ رہا ہو، چاہے نثر لکھ رہا ہو لیکن اگر تخلیق کرنا چاہتا ہے تو اندرونی دنیا اور بیرونی دنیا دونوں کو قبول کیے بغیر اور ان دونوں کو آپس میں سموئے بغیر چارہ نہیں، اور اس کا نتیجہ ہوتا ہے استعارے کی پیدائش کا استعارہ تو انسانی تجربے کی نسوں میں سے رستا ہے۔ یہ قل قل کی بات نہیں جس طرح صحت مند آدی یامحت کا متلاشی خواب دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح استعارے کی تخلیق ادب کا لازمی عمل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آدی اس عمل کو رد کر کے یا اس پر بندھ باندھ کر کے اپنی تخلیقی صلاحیت کو محدود کر لے۔

محمدحسن عسکری

شعر کا رتبہ حکمت سے زیادہ بلند ہوتا ہے اور حکمت شعر کے تہ دار مفہوم میں شامل ہوتی ہے، لہذا شاعرکو حکیم کہا جاسکتا ہے اور حکیم کو شاعر نہیں کہا جاسکتا۔ (حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ بیان میں سحر ہوتا ہے اور سحر میں بیان نہیں ہوتا، بنا بریں شاعر کو ساحر کہا جاسکتا ہے اور ساحر کو شاعرنہیں کہا جاسکتا۔

امیرخسرو

Takhleeq TakhEel Aur Isteara معید رشیدی

Read online

Download

Loading
تازہ ترین پوسٹ

درس نظامی مختلف کتابیں

Related news

Block title

More

    Leave a Reply