Seerat -un- Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam) – Full – By Shaykh Shibli Nomani (r.a) & Shaykh Syed Sulaiman Nadvi (r.a)

18
543

Read Online

Volume 1 Volume 2 Volume 3 Volume 4

Photobucket

Download

Volume 1 [101] Volume 2 [75] Volume 3 [81] Volume 4 [126]

18 COMMENTS

  1. Asalamu Alaikum wrkhmatullahi wabarakatu
    This is one of the best website of books.I can not explain my feeling.plz can you tell me that these books added from alnadwa library or other resources.Thanks

  2. Assalamalaikum rahmatullahi wa barakatuhu,
    I had been searching “seera” of prophet sallahualaihe wa saallam, though read the “Raheeq al Makhtoom” but I was insearch of this book so got it,.Jazakumallah khair,

  3. Please let me know the price of entire set and from where I can get the English version in Karachi.
    Khawar

  4. asslamu aliakum ! very nice and amazing jetna b ye paile ga ap ko sawab melta rahega sadqay e jaria hy .da khuday pa aaman.

  5. علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردِ رشید سید سلیمان ندوی کا سیرۃ النبی کا کارنامہ ایسا عظیم الشان ہے کہ اس کی مثال اردو ادب میں نہایت مشکل سے ملے گی۔
    البتہ ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا ضروری ہے، اپنے طالب علمی کے دور میں جیب خرچ جمع کر کے سیرۃ النبی خریدی اور اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔ انہی دنوں حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی ہمارے گھر تشریف لائے اور الماری میں سیرۃ النبی دیکھ کر فرمایا کہ ’’سیرۃ النبی لے لی ہے‘‘ میں نے خوشی سے اقرار کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا ’’سیرۃ مصطفیٰ نہیں لی؟‘‘ میں نے کہا کہ سیرۃ النبی کی سات جلدوں کے مقابلے میں سیرۃ مصطفی کی تین جلدیں کم ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ سیرۃ النبی کا رد تو سیرۃ مصطفی میں ہے، مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ سیرۃ النبی کا بھی رد کیا گیا؟ وہ کیوں تو حضرت نے جواب دیا کہ علامہ شبلی کے تعلقات در اصل مستشرقین سے تھے، وہ ان نادانستہ یا دانستہ ان کے اسلام پر اعتراضات سے مثاثر ضرور ہوئے، انہوں نے ان اعتراضات کاجواب دینے میں جارحانہ کی بجائے دفاعی انداز اپنایا۔ بالخصوص غزوات اور معجزات کے باب میں انہوں نے محدثانہ انداز میں جرح کرکے اپنی جان چھڑوانے کی کوشش کی۔ تو اس کا رد مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے کیا، ان کی سیرۃ مصطفی کی تین جلدوں میں سے ایک صرف سیرۃ پر ہے، ایک خاص غزوات اور ایک خاص معجزات کے لیے مختص ہے۔
    واقعہ لکھنے کا مقصد، نہ تو سیرۃ النبی کی اہمیت کم کرنا ہے،اور نہ ہی کسی پر تنقید کرنا ہے، بلکہ اس چیز کی طرف نشاندہی کرنا ہے کہ مطالعہ کے دوران ان دو ابواب میں (معجزات اور غزوات) میں ذرا محتاط رہیں یہ ابواب علماء حقہ کے ہاں سیرۃ مصطفی کے زیادہ مستند ہیں۔
    واﷲ اعلم بالصواب۔

  6. mohammed A Shah :Assalamalaikum rahmatullahi wa barakatuhu,I had been searching “seera” of prophet sallahualaihe wa saallam, though read the “Raheeq al Makhtoom” but I was insearch of this book so got it,.Jazakumallah khair,

    mere pass download ki hovi ha agr lani ho to 03367679925 per po6 lana mug sy

  7. اسلام وعیلکم سیرت النبی پر لکھی جانے والی کتابوں میں حیات محمد آور الرحیق المختوم کا جواب نھیں ….!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.