E-Islamic Books

ویکا مذہب کیا ہے

ویکا Wicca
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند مہینے پہلے لاہور کے  عجائب گھر کے باہر جس شیطانی بت یا مجسمے کو نصب کیا گیا تھا لوگوں کی  اکثریت اسکو ایلومیناتیوں کا شیطانی خدا بیفومیٹ Baphomet بتا رہی ہے، یہ غلط ہے ۔ کیونکہ اس شیطانی بت کا نام شیچان دیوتا ڈیول یا ڈیمون تھا اور جو کہ ایلو میناتیوں کا نہیں بلکہ اسی شیطانی شاخ کے ایک فرقے ویکا یا ویکن ( Wicca Wiccan ) سے تعلق رکھتا ہے ۔ اور جن کی خاصیت جادو ٹونا بھوت پریت اور شیاطین سے نسبت جوڑنا اور انکے زیر اثر رہنا اور خون آشامی اور آدم خوری سے متصل ہے ۔

50703057 508736602866202 1620666292367261696 n 1


کیونکہ آج سے پہلے اکثریت کےسامنے کالے جادو یا شیطان پرستی کا نام لیا جاتا تو یقینا یہ تمام لوگ ان شر اور بدی کی چیزوں کو قدیم زمانے کے من گھڑت افسانے یا توہمات سے تعبیر کرتے ۔ کیونکہ بے خبر لوگوں کی عمومی رائے کے مطابق شیطان پرستی ختم ہوئے عرصہ گزر چکا ہے لیکن گذشتہ ہونے والے شیچان دیوتا کے بت والے معاملے نے ایک بہت بڑی اکثریت کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے ۔ اور ایسے لوگوں کے خیال کے مطابق یہ سب کچھ افریقہ کے غیر مہذب قبائل یا پھر بھارت کے پسماندہ اور مخصوص علاقوں میں جہاں مختلف دیوی دیوتاوں کو پوجا جاتا ہے وہاں ایسی ہولناک رسومات ادا کی جاتی ہیں ۔
بہر حال حقائق ان تمام باتوں سے کافی مختلف ہیں ۔


تحقیق کرنے والے لوگ اور اب تو لوگوں کی ایک بہت بڑی اکثریت فری میسن اور ایلومیناتیوں کے نام سے بخوبی واقف ہو چکی ہے ۔ یہ موجودہ وقت کے انتہائی مشہور شیطان پرست گروہ ہیں اور انکے کرتوت اب تو تمام دنیا پر عیاں ہو چکے ہیں ۔ یہاں یک بات قابل ذکر ہے کہ شروعات میں انکو ایک افسانہ یا افواہ سمجھا جاتا رہا لیکن گزرتے ہوئے وقت کیساتھ ساتھ یہ لوگ قوت پکڑتے گئے ۔ اور خود ہی اپنی نشانیاں اور علامتیں ظاہر کرتے چلے گئے کہ شک و شبہ کی کوئی گنجائش نا بچی دنیا کے اہم ترین سیاستدان ۔ سیلیبریٹیز ۔ مشہور ترین سائنسدان ۔ کاروباری اشخاص اور دیگر کامیاب ترین لوگوں کی بھاری اکثریت شیطان کی انہی اہم نمائندہ جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ 
حتی کہ شیطان پرستی نے دیگر مذاہب تک کو خالی نہیں چھوڑا بلکہ انکی بنیادی تعلیمات کو شیطانی عقائد سے آلودہ کیا اور صورتحال یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے بجائے شیطان پرستی کے مرتکب ہیں اور معصوم لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں ۔ 
قارئین حال ہی میں امریکی مذہبی شناخت سروے نے بھی ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو کہ کئی لوگوں کیلئے ناقابل یقین تھا ۔ سروے کے مطابق امریکہ میں جو عقیدہ 1990 سے اب تک سب سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے وہ نا عیسائیت ہے , نا لا دینیت ہے اور نا ہی اسلام ہے بلکہ ۔ ویکہ یا ویکن مذہب ہے ۔ عیسائیت کا زوال کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر عمومی تاثر عوام الناس میں یہی پایا جاتا ہے کہ امریکہ تیزی سے یا تو الحاد ( یعنی کسی خدا کو نا ماننا ۔ ) کے عقیدے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ امریکہ کی 70 فیصد سے زائد آبادی الحاد کا شکار ہے ۔ البتہ غور طلب بات یہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسلام بڑی تیزی کیساتھ پھیل رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا تو کیا امریکی معاشرے میں اسکے مثبت اثرات نہ پڑتے ۔ ؟ سروے نے اسلام کو دوسرا سب سے بڑا تیزی سے پھیلنے والا مذہب ضرور قرار دیا ہے مگر اول نمبر پر ویکہ یا ویکن مذہب کا آنا ایک ایسی کڑی ہے جو امریکہ کی دن بہ دن بڑھتی شیطانیت اور اخلاقی و روحانی طور پر زوال پذیر معاشرے کی وجہ بخوبی بیان کرتی ہے ۔ ویکہ یا ویکن درحقیقت شیطان پرستی کا ہی ایک فرقہ ہے اور اسے ( وچ کرافٹ Witchcraft) بھی کہا جاتا ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین محترم ۔ 
سروے کے مطابق امریکہ میں اس وقت اس 
ویکہ ( Wicca ) مذہب کے 200000 یعنی بیس لاکھ رجسٹرڈ پیروکار جنہیں باقاعدہ طور پر 
( وچز Witches ) کہا جاتا ہے موجود ہیں ۔ جبکہ غیر رجسٹرڈ شدہ وچز کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہے اسکے علاوہ برطانیہ و دیگر یورپی ممالک میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں ۔

 امریکہ کے عیسائی مذہبی ماہرین کیلئے بھی یہ صورتحال کافی تشویشناک ہے انہوں نے نوجوان نسل کے شیطان پرستی کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار  ویمپائر ۔ زومبیز ۔ ویئر وولف ۔ ڈریکولا اور دیگر جادو گری سے متعلق چیزوں کے بارے میں شوق و رغبت پیدا کرنے والی فلموں اور کتابوں کو ٹھہرایا ہے ۔ اور اسکے علاوہ انکا کہنا ہے کہ کئی سالوں کی محنت کے بعد اب جب نوجوان نسل کالی طاقتوں اور شیطان کے مختلف اوتاروں کی طرف مکمل طور پر راغب ہو چکی ہے تو شیلفوں پر فلموں اور فکشن کہانیوں کیساتھ ساتھ براہ راست شیطان پرستی سکھانے والی سی ڈیز کتابیں اور رسالے بھی کثیر تعداد میں نظر آنے لگی ہیں ۔ اسکے علاوہ ویکہ مذہب کے بارے میں چند دلچسپ حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ 
1 ۔ اس فرقے کو جدید زمانے کی شیطان پرستی قرار دیا جا رہا ہے ۔ اور اس کی طاقتیں ایلومیناتیوں سے تھوڑی کم ضرور ہیں لیکن اپنے جادوئی اور ٹرانس ازم کے اثرات کے حساب سے یہ ایلو میناتیوں کا بھی باپ مانا جاتا ہے ۔ اور اسکے رسم و رواج وہی ہیں جو برسوں سے شیطان پرستوں کے چلے آ رہے ہیں ۔

2 ۔ دیگر شیطان پرست فرقوں کی طرح ویکہ مذہب کے پیروکار ہر گز یہ نہیں مانتے کہ وہ برے ہیں ۔ وہ اعلانیہ طور پر شیطان ( Satan ) کی پوجا کرنے کا اعلان کرتے ہیں مگر انکے نزدیک شیطان بری قوت نہیں جیسا کہ دیگر مذاہب بتاتے ہیں۔

اس فرقے کی طرف نئے مائل ہونے والے لوگوں سے  ابتداء میں کوئی  ایسی چیز نہیں کروائی جاتی بلکہ انہیں انسان دوستی ۔ برداشت ۔ حقوق نسواں ۔ ہم جنس پرستی ۔ اور آزادئ رائے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ اسکے ساتھ انہیں کچھ خاص رسوم ادا کرنے کا کہا جاتا ہے اور عبادات کے مختلف طریقے بتائے جاتے ہیں ۔ اور مختلف قسم کی جڑی بوٹیوں ۔ رنگوں ۔ اور دیگر اشیاء کا استعمال بتایا جاتا ہے جو بظاہر فرحت بخش اور سکون فراہم کرنے والے ٹوٹکے ہوتے ہیں مگر در حقیقت یہ پجاری کو اپنے حصار میں ایسے قید کرتے ہیں تاکہ وہ پھر اس سب کت خانے سے باہر نا جا پائے اس وقت تک جب تک کہ ویکہ مذہب کا پیروکار مخصوص سطح تک نہیں پہنچ جاتا وہ اسی گمان میں رہتا ہے کہ ہم اچھی اور نیک روحانیت کے سفر پر گامزن ہیں ۔

3 ۔ ویکن اپنا سال ہیلووین Halloween نام رسم یا تہوار سے شروع کرتے ہیں جو کہ ایک خاص شیطانی طریقے سے ادا کی جاتی ہے بہر حال اسکے بارے میں بعد میں بات کریں گے ۔
4 ۔ یہ 20 دسمبر کو ۔ یولی ۔ نام کا تہوار مناتے ہیں جو انکے عقیدے کے مطابق دیوی کے سورج خدا کو جنم دینے کا دن ہے ۔ 
5۔ لیتھا ۔ یعنی گرمیوں کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں ۔ اور اس دوران ویکہ کے پیروکار خوب جادو ٹونے کرتے ہیں ۔ اور اس دوران انکی طاقتیں بہت زیادہ عروج پر ہوتی ہیں ۔
6 ۔ کالی بلیاں ۔ مکڑیاں اور چمگادڑیں انکی پسندیدہ علامات ہیں ۔ اور ہیلووین Halloween تہوار کے دوران ان حشرات الارض کا روپ دھارے ہیں ۔ یاد رہے ہیلووین درحقیقت کوئی عیسائی تہورا نہیں بلکہ عیسائیت میں شیطان پرستی کی ملاوٹ کا نتیجہ ہے اور اسکے خلاف عیسائیوں نے بے پناہ مقالات بھی لکھے ہیں ۔
7 ۔ اسکے علاوہ اس شیطان شیچان یا زونسٹ گاڈ ڈیول یا ڈیمن کے دو لمبے دانت خون آشامی اور آدم خوری کو واضح کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دانتوں سے شیطان دیوتا کسی کو بھی ادھیڑ کر دکھ سکتا ہے اور اسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سب سے پہلے ڈریکولا کا کردار تراشا گیا جس کی خون آشامی اور انسان سے شیطان بننے کے انوکھے طریقے سے پہلی بار دنیا متعارف ہوئی اور اسکے بعد یکے بعد دیگرے کئی ایسے کردار زومبیز ۔ ویئر وولف یا بوگی مین جیسے کردار تراش کر گویا کہ شیاطین اور انکی خون آشامی یا آدم خوری سے انسانوں کو پوری طرح متعارف کروا دیا گیا ۔ اور پھر چلتے پھرتے انسانوں کو اس قبیح فعل پر ابھارا گیا جو کہ شیطان کو خوش کرنے اور اس سے مزید طاقتیں حاصل کرنے کی غرض سے کیئے جاتے ہیں جیسے کہ انسانی خون پینا اور گوشت کھانا یا انسانوں کی قربانی کرنا اور اب جدید سائنس جسے کی ٹرانس جینک سائنس کہا جاتا ہے اسکے ذریعے اور شیطان اور انسانوں پر مشتمل ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک چلتا پھرتا انسان جب چاہے شیطان بن جائے اور جب چاہے انسان اور انسانی خون اور گوشت کی طلب اسکے اندر موجود ہو ۔ اور یہ سب باتیں انکو شیطان دیوتا سے ہی سیکھنے اور کرنے کو ملتی ہیں ۔ جو کہ کسی بھی وقت خاص تنتروں اور منتروں سے ان سے رابطے میں آ جاتا ہے ۔ 
یہ ایک مختصر سا تعارف تھا ویکہ یا ویکن مذہب کے ماننے والوں کا قارئین ایک بات یاد رکھنے والی یہ بھی ہے کہ جس طرح روحانیت میں انسانوں کے درجے ہوتے ہیں اسی طرح شیطانیت میں بھی انسانوں کے درجے ہوتے ہیں جو مختلف شیطانوں سے ہوتے ہوئے آخری شیطان لوسیفر Lucifer یعنی جسے ابلیس کہا جاتا ہے اس تک پہنچ جاتے ہیں اوڑ اسکے لیئے کیا کیا کرنا پڑتا ہے یہ ایک الگ کہانی ہے یہاں تک کہ اپنا پاخانہ بھی کھانا پڑتا ہے اور ہر وقت پلیدگی کی حالت میں رہنا کئی کئی دن تک نہائے بغیر رہنا پڑتا ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔

          +

Exit mobile version