سیکولرازم کا مفہوم
نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے مختلف مستند لغات اور علمی مآخذ کی فراہم کردہ تعریفیں درج ذیل ہیں۔
سیکولرازم کے دو بڑے ماڈلز
دنیا میں رائج سیکولرازم میں دو بنیادی فکریں پائی جاتی ہیں۔ دونوں ہی نظاموں میں ‘اجتماعی زندگی’ (سیاست، معیشت) میں مذہب کا کردار ختم کر دیا گیا ہے، مگر انفرادی آزادی میں واضح فرق ہے۔
1 سوشلسٹ سیکولرازم
یہ فکر انسانی زندگی کے ہر گوشے سے مذہب کو نکال دیتی ہے۔ وہاں مساجد بنانا اور دینی تعلیم دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ (مثال: چین)
2 کیپٹلسٹ سیکولرازم
یہ ماڈل انفرادی زندگی (نماز، روزہ) میں آزادی دیتا ہے، مگر اجتماعی شعبوں (سیاست، معیشت) میں کسی دینی اصول کو جگہ نہیں دیتا۔ (مثال: یورپ و امریکہ)
مذہبی آزادی کا تقابلی گراف
* یہ گراف انفرادی آزادی اور اجتماعی نفاذ کے تضاد کو واضح کرتا ہے
عملی صورتیں: سیکولرازم کہاں مسلط ہے؟
سیکولرازم محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ یہ ہماری عملی زندگی کے ان چار شعبوں کو مکمل طور پر تبدیل کر چکا ہے۔
سیکولر سیاست
سیاست کو دین سے الگ کر کے قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کو دینا، جہاں اکثر دین بیزار لوگ قابض ہوتے ہیں۔
سیکولر معاشرت
مرد و زن کی مغربی مساوات، “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے اور خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ۔
سیکولر معیشت
سرمایہ دارانہ نظام جہاں سود، رشوت اور کرپشن کو ‘معاشی ضرورت’ بنا کر جائز قرار دیا جاتا ہے۔
سیکولر تعلیم
ایسا نظام جو وحی کو حجت تسلیم نہ کرے اور دین کو صرف ایک ‘تاریخی واقعہ’ بنا کر رکھ دے۔
سیکولرازم کی تباہ کاریاں
سیکولرازم کا وائرس جب کسی قوم میں سرایت کرتا ہے تو وہ بتدریج تباہی کے ان چار مراحل سے گزرتا ہے۔ کسی بھی مرحلے پر کلک کر کے اس کی شدت کو دیکھیں۔
اسلام اور سیکولرازم کا تضاد
دو متضاد نظام جو کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے
نظریاتی تقابل (Radar Chart)
تصورِ عبادت کا تضاد
اسلام میں زندگی کا ہر لمحہ (کاروبار، سیاست) اللہ کی رضا کے لیے ہو تو عبادت ہے۔ سیکولرازم اسے محض انفرادی رسومات تک محدود کر دیتا ہے۔
حاکمیتِ رب کی نفی
اسلام میں آخری فیصلہ اللہ کے قانون کا ہے۔ سیکولرازم میں حاکمیتِ عوام کا تصور ہے جو حلال و حرام بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ایمان بالغیب کا تضاد
اسلام کی بنیاد غیب پر ایمان لانا ہے، جبکہ سیکولرازم صرف ان چیزوں کو مانتا ہے جو سائنسی تجربات یا حواسِ خمسہ میں آئیں۔