انسانی حقوق

0
274

انسانی حقوق فقہ اسلامی کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله عرض مؤلف :

اس کرہ ارض میں انسان کی حیثیت کیا ہے ؟ وہ کیوں اور کس مقصد کی خاطر پیدا ہوتا ہے؟ اس لمبے چوڑے زمین کے سیاہ وسفید کا کیونکر اس کو مالک و مختار بنایا گیا؟ اس وسیع کائنات میں جس قدر مخلوقات ہمیں نظر آتی ہیں، ان تمام کی بنسبت حضرت انسان کچھ امتیازی صلاحیت وصفات کے ساتھ متصف ہے، یہ امتیاز و انتخاب کیوں اور کہاں سے آیا؟ معاصر انسانی فکر کے لئے یہ اہم، بنیادی اور سنجیدہ سوالات ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے انسانیت کے حقوق کی مختلف نہریں پھوٹتی ہیں، یہی وہ موڑ ہے جہاں مختلف افکار کے سیر و سفر کا رخ جدا جدا ہو جاتا ہے۔

دین کا بنیادی مقدمہ :

دین اسلام بلکہ کسی بھی الہامی دین و مذہب کا بنیادی مقدمہ یہی ہوتا ہے کہ انسان اس جہاں میں خود بخود پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی بے فائدہ و بے مقصد اس کی تخلیق ہوتی ہے بلکہ ایک عظیم ہستی ایک عظیم مقصد کے لئے اس کی تخلیق فرماتی ہے اور وہ مقصد یہی ہے کہ دنیا میں اس کی بندگی کی جائے،اس کے احکام و ہدایات کو بے چوں و چرا تسلیم کر لیا جائے، اپنی صلاحیتوں کو اسی کے کہنے کے مطابق استعمال کر لیا جائے۔ پیدا کرنے والی ہستی کے ہدایات و تعلیمات جاننے کے لئے مختلف انبیاء کرام (علیہم الصلاۃ والسلام) کی بعثت کی جاتی ہے اور ان کو خالق انسانیت کی پسندیدہ و نا پسندیدہ باتوں کا مجموعہ دیا جاتا ہے جس کو دین و مذہب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس لئے :

الف : اس کرہ ارض پر انسان کی حیثیت خدا کے بندہ کی ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں خدا کا بندہ بن کر رہے اور خدا کی دی ہوئی نعمتیں ، اس کی بخشش کی ہوئی صلاحیتیں اسی کے مرضی و قانون کے مطابق گزار لے۔ قرآن کریم نے اس کو بڑے ہی جامع انداز میں تعبیر فرمایا گیا ہے، چنانچہ ارشادِ

خداوندی ہے:

} وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ { [الذاريات: ٥٦]

ترجمہ : اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔

ب : یہاں انسان کا آنا اور رہنا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی ایک جہاں ہے ، انسانیت کے لئے وہی منزل مقصود ہے جہاں چار و ناچار سب نے جانا اور خدا کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش ہونا ہے، دنیوی زندگی کا بنیادی مقصد اسی جہان کی کامیابی کے لئے تیار کرنا ہے۔

ج : دنیوی ساز و سامان جمع کرنا اور استعمال کرنا گو ایک حد تک انسان کی ضرورت ہے لیکن مادی ترقی اس کی زندگی کا مقصود ہے نہ ہی اس پر انسانیت کی اچھائی برائی یا اصل مقصود میں کامیابی و ناکامی کا

مدار ہے۔ فرمان خداندی ہے : كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ

الجنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ { [آل عمران: ١٨٥]

ترجمہ : ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورے پورے بدلے ملیں گے پھر جو کوئی دوزخ سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا سوہ پورا کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کی پونچھی کے اور کچھ نہیں۔

دوسری جگہ قرآن کریم اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کی پیدائش بے نتیجہ اور بے

کار نہیں ہے، فرماتے ہیں؟ } أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ {} فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ { [المؤمنون: ١١٦]

گے۔

ترجمہ: سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ

ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے :

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (۷) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (۸) ترجمہ: پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے

سیکولر فکر کا بنیادی مقدمه :

معاصر لا دین ذہن و دماغ کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ انسان کسی نادیدہ ہستی کا پیدا کر دہ ہے نہ ہی اس کی تعلیمات و ہدایات کا اس کو پابند بنایا جاسکتا ہے۔ اس لئے اس کا مقصد کسی کی غلامی و بندگی کرنا

Insani Huqooq By Mufti Ubaid ur Rahman

Read Online

Download (1MB)

Link 1       Link 2

الرحیق المختوم اردو عربی انگلش بنگالی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.