Thursday, April 25, 2024
HomeHadith || حدیثPrinciples of Hadith || اصول حدیثاخبار آحاد اور ان کی استدلالی حیثیت

اخبار آحاد اور ان کی استدلالی حیثیت

اخبار آحاد اور ان کی استدلالی حیثیت

اخبار آحاد اور ان کی استدلالی حیثیت مؤلف: مولانا عبد اللہ بن محمد لاجپوری

مقدمه

حضرت مولانا مفتی اقبال بن محمد ٹنکا روی دامت برکاتہم

استاذ حدیث وفقه ومهتم دار العلوم اسلامیہ عربیہ مالی والا

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الانبياء والمرسلين ،

وعلى آله وصحبه اجمعين . اما بعد!

خبر واحد کے افادہ علم میں مختلف اقوال ہیں:

(1) بعض کے نزدیک یہ مفید ظن ہوتی ہے۔ (۲) بعض کے نزدیک یہ اپنی تمام صورتوں میں مفید علم (یقینی ) ہوتی ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی قرینہ شامل ہو یا نہ ہو۔ اہل ظاہر یہی کہتے ہیں اور امام احمد بن مقبل سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ (۳) بعض کے نزد یک اگر اس کے ساتھ قرینہ شامل ہو تو مفید معلم ہوتی ہے ورنہ نہیں ، نظام اور ان کے متبعین کا یہی مسلک ہے اور آمدی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ (۴) بعض اصحاب حدیث کے نزدیک بلا قرینہ صرف بعض صورتوں میں مفید علم ہوتی ہے ،تمام صورتوں میں نہیں ، مثلاً حدیث مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور اس جیسی سند کی حدیث مفید علم ہوگی۔ (۵) باقی تمام لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مفید علم نہیں ہوتی، نہ قرینہ کے ساتھ اور نہ

بلا قرینہ۔

امام بزدوی لکھتے ہیں کہ یہ علم یقینی کا افادہ نہیں کرتی ، بلکہ اس سے علم غالب رائے

پیدا ہوتا ہے۔

ہیں:

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ خبر واحد کی قبولیت کے لئے مندرجہ ذیل شرائط عائد کرتے

(1) خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے جب کہ وہ سنت مشہورہ (خواہ قولی ہو یا فعلی) کے خلاف نہ ہو، اس لئے کہ دو دلیلوں میں سے اس دلیل پر عمل کیا جاتا ہے جو قوی تر

(۲) خبر واحد اس عمل متوارث کے خلاف نہ ہو، جو صحابہ دتا بعین میں مشترکہ طور سے پایا جاتا ہے، خواہ وہ کسی شہر میں بھی سکونت پذیر ہوں، اس میں کسی شہر کی کوئی تخصیص

(۳) خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے جب کہ کتاب اللہ کے عمومات وظواہر کے خلاف نہ ہو، اس لئے کہ کتاب اللہ کے خواہر و عمومات قطعی الدلالت ہیں اور قطعی ظنی کے مقابلہ میں مقدم ہوتا ہے، جس صورت میں خبر واحد کتاب اللہ کے عموم یا ظاہر کے خلاف نہ ہو، بلکہ قرآن کی شرح و تفسیر پر مشتمل ہو تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس پر عمل کرتے ہیں، اس لئے کہ شرح و تفسیر کے بغیر آیت قرآنی کسی بات پر دلالت ہی نہیں کر سکتی۔

(۴) جب خبر واحد قیاس جلی کے خلاف ہو تو اس صورت میں مقبول ہوگی ؟ جب کہ اس کا راوی فقیہ ہو ، راوی کے غیر فقیہ ہونے کی صورت میں اس امر کا احتمال ہے کہ راوی نے روایت بالمعنی کی ہو اور اس میں اس سے غلطی سرزد ہو گئی ہو۔ (۵) یہ خبر واحد کا تعلق ایسے امور کے ساتھ نہ ہو جو عام لوگوں کو پیش آتے ہیں،

مثلاً حدود و کفارات جوادنی شبہ پیدا ہو جانے کی صورت میں باقی نہیں رہتے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ عادہ ایسے امور سے اکثر لوگ باخبر ہوتے ہیں، نہ کہ صرف ایک دو شخص ، اس لئے ایسے واقعات میں شہرت اور تلقی بالقبول ضروری ہے۔

(1) عہد سلف میں کسی عالم نے اس حدیث پر جرح وقدح نہ کی ہو، نیز یہ کہ حدیث کے راوی نے کسی دوسرے صحابی کے اختلاف کی وجہ سے اس پر عمل کو ترک نہ کیا ہو۔ (۷) قبولیت خبر واحد کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ راوی کا عمل اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف نہ ہو، مثلاً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث روایت کی کہ جب کتا کسی برتن میں منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے اگر وہ اس کے خلاف فتوی دیتے تھے، اس لئے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایت کردہ حدیث پر عمل کرنا ترک کر دیا۔ (۸) خبر واحد اس صورت میں مقبول ہے، جب اس کا راوی دیگر ثقہ راویوں کے خلاف اس حدیث کی سند یا متن میں کوئی اضافہ نہ کر رہا ہو، اگر وہ اضافہ کرے گا تو بنابر

احتیاط ثقات کی روایت پر عمل کیا جائے گا اور اس کے اضافہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تانیب الخطیب محمد زاہد الکوثری:۱۵۳، شرح التوضیح: ۲۵۰/۲)

Akhbar e Ahaad aur unki Istidlali Haisiyat

By Maulana Abdullah Lajpuri

Read Online

Download (4MB)

Link 1        Link 2

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

توجہ فرمائیں eislamicbook healp

Most Popular